
Iftekhar Aazmi
افتخار
India
سید افتخارحسین اعظمی سنہ 1935 میں اتر پردیش کے معروف علاقے اعظم گڑھ کے ایک گاؤں پتلہ غوث پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مذہبی روایات و نظریات کا حامل تھا اور ان کے والد مولانا سید عبد الحمید صاحب انتہائی دیندار اور متقی عالم دین تھے۔ پورے علاقے میں ان کا شہرہ تھا اور ایک طویل عرصہ انھوں نے بمبئی (ممبئی) میں بھی گزارا۔
افتخار اعظمی نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور اس کے بعد کچھ عرصے تک وہ جونپور اور لکھنؤ کے بعض دینی مدارس میں بھی حصول علم کی تلاش میں گئے۔ اس طرح اردو کے علاوہ فارسی اور کسی حد تک عربی سے بھی آشنا ہو گئے۔ اس زمانے کے ماحول کے زیر اثر اور کچھ فطری رجحان کی وجہ سے بھی وہ جلد ہی شعر کہنے لگے۔ یوں تو انھوں نے شاعری میں کسی بڑے استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا لیکن غالب اور اقبال سے بہت متاثر رہے۔ ان کی شاعری میں بہت گہرائی ہے اور اسی کے ساتھ وہ زبان کی صحت پر خاص توجہ دیا کرتے تھے۔
افتخار اعظمی نے جتنی مذہبی شاعری کی، اتنی ہی نظمیں اور غزلیں بھی کہی ہیں۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ "کن" کے نام سے سنہ 1977 میں شائع ہوا۔
دوسرا مجموعہ "ان کہی" کے نام سے ترتیب دیا تھا لیکن بوجوہ وہ شائع نہ ہوسکا۔
انھوں نے اہلبیت کی شان میں علامہ اقبال کی لکھی ہوئی بعض فارسی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ بھی کیا۔ یہ نظمیں، "قوسین" کے نام سے زیور طبع سے آراستہ ہوئيں۔
ان کے قصائد کا مجموعہ بھی تیار ہے اور خداوند عالم سے دعا ہے کہ وہ بھی جلد از جلد شائع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچے۔
سنہ 1994 میں ان کا ممبئی میں انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔
گذری ولائے آل محمد میں اے خدا
بخشی جو تو نے عمر یہ اس کا حساب ہے
ذیل میں ان کے قصیدوں کے کچھ اشعار پیش ہیں:
کون کہہ سکتا ہے یہ احمد مرسل کے سوا
حق پسندی کا چلن صرف مرے گھر سے چلا
—
زباں ہی تو کٹے گي، انگلیاں ہی تو قلم ہوں گي؟
چلو پھر آج مدحِ احمدِ مختار ہو جائے
—
کھلتے ہی جو غنچے نے لیا نام علی کا
منہ چوم لیا بڑھ کے وہیں باد صبا نے
—
نیا لہجہ، نئے تیور، نئے الفاظ کے پیکر
قصیدے کا نیا آہنگ ہم ایجاد کرتے ہیں
—
کیا کہا مداح کو خود پر بھروسہ چاہیے
جی نہیں، توفیق حق، تائيد مولا چاہیے
—
فطرت دریا بدل دی خالق کونین نے
سوئے ساحل لے چلا، کشتی کو طوفان غدیر
—
جب تک نہ ولا دوڑے رگ رگ میں لہو بن کر
مدحت کا سفر کیا ہے بس قافیہ پیمائي
مداحئ زہرا ہے، آنکھیں رہیں سجدے میں
ہے حد ادب قائم، اے جذب تولائي
0 works
Published poetry for this poet will be added soon.