قرآنِ مجید کی تلاوت کے بعد پڑھا جانے والا مبارک جملہ "صدق اللہ العلی العظیم" انتہائی پُرمعنی اور گہرے مفہوم کا حامل ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: "اللہ، جو بلند و برتر اور عظمت والا ہے، اس نے سچ فرمایا۔"
اس جملے میں لفظ "العلی" اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم صفت (صفتِ الٰہی) ہے، جس کے لغوی معنی "سب سے بلند" یا "برتر" کے ہیں۔ اس کا حضرت علی (علیہ السلام) کی ذاتِ گرامی یا ان کے اسمِ مبارک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص اس سیاق و سباق میں اس سے حضرت علی (ع) مراد نہیں لیتا، اور نہ ہی کوئی اس جملے کو پڑھتے وقت ان کی ذات کو ذہن میں رکھتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر کوئی شخص یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ یہاں "العلی" سے مراد حضرت علی (ع) ہیں، تو یہ سراسر ایک خود ساختہ اور من گھڑت مفروضہ ہے۔ اس طرح کے دعوے کی نہ تو عربی لغت تائید کرتی ہے، نہ اسلامی عقائد اور نہ ہی عقلِ سلیم اسے تسلیم کرتی ہے۔
حضرت علی (ع) اللہ تعالیٰ کے ایک معزز و برگزیدہ بندے ہیں، اور نبیِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہمارے امام، رہبر اور ہادی ہیں۔ ان کی ولایت پر ہمارا ایمان اور ان سے محبت ہمارے عقیدے کا ایک قیمتی اور لا زوال اثاثہ ہے۔ تاہم، ہم انہیں معبود یا الٰہ نہیں سمجھتے، بلکہ انہیں خدا کا عاجز بندہ اور رسولِ خدا (ص) کے بعد اپنا پیشوا و امام مانتے ہیں۔ اس حقیقت اور عقیدے کو برقرار رکھنے کے لیے خدا کی خوبصورت صفات میں تبدیلی کرنے یا کسی لفظ کو حذف کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ کچھ لوگ بغضِ علی (ع) میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک بالکل واضح اور غیر متنازع صفت پر بھی شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے وہ خود ایک بے بنیاد مفہوم اور غلط تشریح گھڑتے ہیں، اور پھر اپنے ہی اس خود ساختہ مفروضے کو جواز بنا کر لفظ "العلی" کو نکالنے کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ علمی دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی بھی لفظ کے معنی اس کی لغوی تعریف اور کلام کے سیاق و سباق کی روشنی میں سمجھے جائیں، نہ کہ اسے ذاتی تعصب، نفرت اور بغض کی عینک سے دیکھا جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب "العلی" خالصتاً اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، تو اسے نکالنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا ہم محض کسی کے من گھڑت اور غیر منطقی اعتراض کی وجہ سے اللہ کی صفات کا ذکر کرنا چھوڑ دیں؟ اگر اس ٹیڑھے اصول کو اپنا لیا جائے، تو کل کوئی بھی متعصب شخص اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر دینی اصطلاحات اور اسلامی الفاظ کو تبدیل کرنے کے مطالبات شروع کر دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و بلندی کا اعتراف کرنا، اور حضرت علی (ع) کی ولایت و امامت پر ایمان رکھنا، دو الگ اور واضح حقیقتیں ہیں جو اپنے اپنے مقام پر بالکل مسلمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ خالق اور معبودِ حقیقی ہے، جبکہ حضرت علی (ع) اس کی مخلوق اور بندے ہیں جو ہمارے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور امام ہیں۔ دونوں کے مراتب و مقامات میں ایک واضح اور گہرا فرق موجود ہے، اور کوئی بھی صاحبِ علم و دانش ان دونوں کو آپس میں خلط ملط نہیں کر سکتا۔
لہٰذا، "صدق اللہ العلی العظیم" میں لفظ "العلی" صرف اور صرف اللہ رب العزت کی صفت ہے، حضرت علی (ع) کا نام نہیں ہے۔ اسے حضرت علی (ع) کی ذات سے جوڑنا اور پھر اس کی بنیاد پر اسے حذف کرنے کا اصرار کرنا کوئی علمی یا منطقی دلیل نہیں، بلکہ یہ ایک خود ساختہ اعتراض ہے جو محض ایک گہرے تعصب اور عناد کی عکاسی کرتا ہے۔
دین کو سمجھنے کے لیے تعصب کی نہیں، بلکہ علم کی ضرورت ہوتی ہے؛ اور الفاظ کو سمجھنے کے لیے بدگمانی کی نہیں، بلکہ لغت، فہم اور عقلِ سلیم درکار ہوتی ہے۔ جب کوئی لفظ اللہ کی عظمت اور اس کی بلندی کو بیان کر رہا ہو، تو محض بغضِ علی (ع) کی وجہ سے اسے مٹانے کی کوشش کرنا نہ تو کوئی دینی غیرت ہے اور نہ ہی علمی دیانت داری۔



