کربلا میں کام جب زہراؑ کی دولت آگئی
Karbala me kaam jab Zehra (SA) ki daulat aa gai
Nauha
کربلا میں کام جب زہراؑ کی دولت آگئی
خون میں اسلام کے تاب و تمازت آگئی
خوابِ ابراہیمؑ کی تعبیر ہو تم اے حسینؑ
تم سے ہم راضی ہیں آوازِ مشیئت آگئی
کارواں اجڑا ہوا تھا اس طرح شبیرؑ کا
ناتواں ہاتھوں میں زینبؑ کے قیادت آگئی
دیکھ کر عاشور کا سورج کہا عباسؑ نے
دن نکل آیا کہ صبحِ قتل و غارت آگئی
خاک پہ قاسمؑ پڑے ہیں ہو چکے اکبرؑ شہید
اصغرِؑ معصوم تک مرنے کی نوبت آگئی
آگ خیموں میں لگی بے گھر ہوئیں شہزادیاں
العطش کے شور میں کچھ اور شدت آگئی
اے ہوا آہستہ چل سوتے ہیں اصحابِ حسینؑ
پیاس کے ماروں کو مر جانے میں راحت آگئی
ساربانی عابدِؑ بیمار کی قسمت نہ تھی
صبر کی میزان پر شانِ امامت آگئی
غیرتِ اسلام! بے پردہ ہیں سب شہزادیاں
شام کی گلیوں میں ناموسِ رسالت آگئی
زینبِؑ دلگیر کی فریاد کا ہے سامنا
ہند کیا آئی کہ زنداں میں قیامت آگئی
مرگئی پیاسی سکینہؑ پیاس زندہ رہ گئی
شام کے زنداں میں اک چھوٹی سی تربت آگئی
اشک بن کر آگیا آنکھوں میں غمِ شبیرؑ کا
در پہ شیعوں کے شررؔ خود چل کے جنت آگئی

