کربلا میں کام جب زہراؑ کی دولت آگئی
Karbala me kaam jab Zehra (SA) ki daulat aa gai

Kalim Haider Sharar
شرر / Sharar
ٰIndia
کلیم حیدر شررؔ۔ بمبئی کے حلقہ ءِ ادب کا ایک بلیغ اور منفرد لہجہ۔ لڑکپن سے ہی شعر گوئی سے شغف تھا، چنانچہ ابتداء میں شریرؔ تھے۔ وقت نے شعلہ بیانی عطاء کی تو شررؔ بن کر گذشتہ صدی کی آٹھویں اور نویں دہائی میں آگ کی طرح چھا گئے۔ کہیں انقلاب، کبھی اردو ٹائیمز، کبھی آج کل تو کبھی دوردرشن۔ اسکے بعد انجمن معجزہ ءِ علی۔ ممبرا، کی تشکیل وقوع پذیر ہوئی اور کلیم صاحب انجمن کے لئے نوحے لکھنے لگے۔ یکم اکتوبر 1951 ء کو گھاٹکوپر، بمبئی میں، گروجی،یعنی جناب سید سبطِ حسن رضوی، (پرنسپل۔ گھاٹکوپر اردو میونسپل اسکول) کے گھر پیدا ہوئے۔ والد سنسکرت اور اردو کے ماہر تھے۔ یہی سبط حسن صاحب ہیں جنھوں نے اردو گرامر اینڈ کمپوزیشن لکھی تھی۔کلیم صاحب نے گودریج اینڈ بوائیس، وکرولی میں ٹیسٹ ٹائیپسٹ کے طور پر ملازمت اختیار کرلی۔ جبکہ 1998 میں کوالیٹی کنٹرول آفیسر کے عہدے پر ملازمت سے دستبردار ہوئے۔ بمبئی کے ہی ایک عظیم شاعرِ اہلبیت، قاضی سید وصی احمد (آوارہ سلطان پوری) صاحب کے داماد تھے۔ 2001, اگست ۲۵ کو حرکت قلب بند ہونےکے سبب دارِ فانی کو الوداع کہا اور بہشت زہرا قبرستان میں مرقدِ خضرہ میں تشریف فرما ہیں، اور ظہورِ امام کے منتظر ہیں۔
4 works
Karbala me kaam jab Zehra (SA) ki daulat aa gai
Nizaam o naam e Khuda hai azaan me kya hai
Maidane Karbala mein Kalejon ke paar thi
Matam hai zamane mein Husain ibne Ali ka