مولا ابو الفضل العباسؑ: علیؑ کی تمنا، وفا کا پیکر، شجاعت کی معراج، علمدارِ کربلا، عبدِ صالح

کربلا کا ذکر ہو اور عباسؑ کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔
کیونکہ کربلا اگر صبر کی داستان ہے تو عباسؑ اس کا حوصلہ ہیں، کربلا اگر وفا کا عنوان ہے تو عباسؑ اس کی تفسیر ہیں، کربلا اگر حسینؑ کا پیغام ہے تو عباسؑ اس پیغام کے سب سے روشن ترجمان ہیں۔
تاریخ میں بہت سے بہادر گزرے، بہت سے وفادار پیدا ہوئے، بہت سے لوگوں نے قربانیاں دیں، مگر عباسؑ جیسا کوئی نہ ہو سکا۔ اس لیے کہ عباسؑ کی بہادری میں غرور نہیں تھا، ان کی وفا میں کوئی غرض نہیں تھی، ان کی اطاعت میں کوئی شرط نہیں تھی اور ان کی محبت میں اپنی ذات کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ وہ سراپا ایثار تھے، سراپا وفا تھے، سراپا عشقِ حسینؑ تھے۔
جب بھی فرات کی موجیں بہتی ہیں، وہ عباسؑ کی تشنگی کا نوحہ سناتی ہیں۔ جب بھی کوئی پرچم ہوا میں لہراتا ہے، وہ علمدارِ کربلا کی یاد دلاتا ہے۔ جب بھی وفا کا کوئی باب کھلتا ہے، اس کی پہلی سطر پر عباسؑ کا نام جگمگاتا نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کا ذکر آج بھی دلوں کو گرماتا، آنکھوں کو نم کرتا اور روحوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ حضرت عباس ابنِ علی علیہ السلام صرف امیرالمؤمنینؑ کے فرزند نہیں تھے بلکہ وہ علیؑ کی آرزوؤں کا حاصل اور ان کی تربیت کا زندہ شاہکار تھے۔ علیؑ نے جس عظمت، جس وفاداری اور جس غیرتِ دینی کا خواب دیکھا تھا، وہ سب عباسؑ کی شخصیت میں مجسم ہو کر سامنے آگیا۔ ان کی رگوں میں علیؑ کا خون دوڑ رہا تھا، ان کے دل میں فاطمی طہارت کی خوشبو بسی ہوئی تھی اور ان کی روح حسینؑ کی محبت سے معمور تھی۔
بچپن سے ہی ان کے چہرے پر جلال و جمال کی ایک منفرد کیفیت نمایاں تھی۔ دیکھنے والا ان کے حسن پر بھی حیران ہوتا اور ان کے وقار پر بھی۔ مگر عباسؑ کی اصل خوبصورتی ان کے چہرے میں نہیں بلکہ ان کے کردار میں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی زندگی کا مقصد اپنی ذات کو بلند کرنا نہیں بلکہ امامِ وقت کی نصرت کرنا ہے۔ اسی لیے ان کی جوانی کا ہر لمحہ حسینؑ کی خدمت اور اطاعت میں گزرا۔
کربلا میں جب امام حسین علیہ السلام کے گرد وفاداروں کا مختصر قافلہ رہ گیا تو عباسؑ ایک لشکر کی مانند کھڑے تھے۔ دشمن جانتا تھا کہ جب تک عباسؑ موجود ہیں، خیموں کی طرف بڑھنا آسان نہیں۔ ان کا نام سن کر دلوں پر ہیبت طاری ہو جاتی تھی۔ میدانِ جنگ میں ان کی للکار دشمن کے حوصلے پست کر دیتی تھی۔ وہ شیرِ خدا کے فرزند تھے، اس لیے شجاعت ان کی میراث تھی اور بہادری ان کی فطرت۔لیکن عباسؑ کی عظمت صرف ان کی تلوار میں نہیں تھی۔
تاریخ میں بڑے بڑے جنگجو گزرے ہیں، مگر عباسؑ کو جو مقام ملا وہ ان کی وفا کی وجہ سے ملا۔ وہ وفا جس کی مثال آسمان بھی پیش نہیں کر سکتا۔ وہ وفا جس نے انہیں “باب الحوائج” بنا دیا۔ وہ وفا جس نے ان کا نام ہمیشہ کے لیے حسینؑ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا۔
عاشور کے دن جب خیموں میں بچوں کی پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی اور سکینہؑ کی معصوم آوازیں فضا میں گونجنے لگیں تو عباسؑ کا دل تڑپ اٹھا۔ انہوں نے اجازت طلب کی اور فرات کی طرف روانہ ہوئے۔ دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے پانی تک پہنچ گئے۔ فرات ان کے قدموں میں تھی، ٹھنڈا پانی ان کے ہاتھوں میں تھا، کئی دنوں کی شدید پیاس تھی، مگر اسی لمحے انہیں حسینؑ کی پیاس یاد آگئی۔ سکینہؑ کی منتظر نگاہیں یاد آگئیں۔ خیموں میں بلکتے بچے یاد آگئے۔انہوں نے پانی کو دیکھا، پھر فرات سے مخاطب ہو کر گویا ہوئے: “عباسؑ! کیا تو اپنے مولا سے پہلے پانی پی لے گا؟”یہ کہہ کر پانی واپس فرات میں بہا دیا۔ اس لمحے وفا نے خود اپنے سر پر عباسؑ کے نام کا تاج سجا لیا۔
دنیا نے قربانیوں کی بہت داستانیں سنی تھیں مگر اپنی شدید پیاس کے باوجود پانی کو چھوڑ دینے کی ایسی مثال کبھی نہ دیکھی تھی۔پھر وہ مشکیزہ لے کر واپس لوٹے۔ چاروں طرف سے دشمن ٹوٹ پڑا۔ ایک بازو قلم ہوا، پھر دوسرا بازو بھی جدا کر دیا گیا، مگر عباسؑ کے ارادے متزلزل نہ ہوئے۔ بازو کٹ گئے لیکن وفا نہ کٹی۔ جسم زخمی ہو گیا لیکن عزم نہ ٹوٹا۔ آنکھ میں تیر لگا، سر پر عمود پڑا، گھوڑے سے زمین پر آئے، مگر آخری لمحے تک فکر یہی رہی کہ پانی خیموں تک پہنچ جائے۔اسی لیے عباسؑ صرف ایک سپاہی نہیں، علمدار ہیں۔ علمدار صرف پرچم اٹھانے والے کو نہیں کہتے بلکہ اس شخصیت کو کہتے ہیں جو مقصد کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کر دے۔عباسؑ نے اپنے خون سے علمِ حسینؑ کو ایسا بلند کیا کہ چودہ سو برس گزرنے کے باوجود وہ آج بھی سربلند ہے۔
حضرت عباسؑ کی زندگی کا ایک اور روشن پہلو ان کا عبدِ صالح ہونا ہے۔ وہ صرف میدانِ جنگ کے ہیرو نہیں تھے بلکہ میدانِ عبادت کے بھی شہسوار تھے۔ ان کی شجاعت کا سرچشمہ ان کی بندگی تھی۔ ان کی وفا کا راز ان کی معرفت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کی رضا امامِ وقت کی رضا میں پوشیدہ ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ہر خواہش، ہر آرزو اور ہر آسائش کو حسینؑ کے قدموں پر قربان کر دیا۔کربلا میں بہت سے شہید ہوئے، ہر شہید اپنی جگہ عظیم ہے، مگر عباسؑ کا مقام منفرد ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے ان کی شہادت پر فرمایا کہ “اب میری کمر ٹوٹ گئی۔” یہ جملہ عباسؑ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ وہ صرف بھائی نہیں تھے، وہ حسینؑ کے بازو تھے، ان کی طاقت تھے، ان کی ڈھارس تھے اور ان کے لشکر کا سہارا تھے۔آج بھی جب کوئی مظلوم امید کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اسے عباسؑ یاد آتے ہیں۔ جب کوئی وفا کا مفہوم تلاش کرتا ہے تو عباسؑ سامنے آتے ہیں۔ جب کوئی غیرت، حمیت اور اطاعت کا درس پڑھنا چاہتا ہے تو عباسؑ کی زندگی اس کے لیے کھلی کتاب بن جاتی ہے۔
سلام ہو اس عباسؑ پر جو علیؑ کی تمنا تھے۔سلام ہو اس عباسؑ پر جو ام البنینؑ کی آنکھوں کا نور تھے۔
سلام ہو اس عباسؑ پر جو حسینؑ کے وفادار علمدار تھے۔سلام ہو اس عباسؑ پر جنہوں نے فرات پر وفا کی نئی تاریخ لکھی۔
سلام ہو اس عباسؑ پر جنہوں نے بازو کٹوا دیے مگر علم نہ جھکنے دیا۔
سلام ہو اس عباسؑ پر جو آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، آنکھوں میں بسے ہوئے ہیں اور وفا کا نام آتے ہی سب سے پہلے یاد آتے ہیں۔
سیدکرامت حسین شعور جعفری

Maulana Sayed Karamat Husain
Maulana Syed Karamat Hussain Jafari, a religious scholar from Poonch (Jammu and Kashmir), has served In the field of religious and social services, he played a prominent role in the establishment of Jamia Fatima Zahra (a.s.) Mumbai, several mosques and Hussainis. As a translator, writer and researcher, he has rendered valuable academic services on important issues of history, beliefs, ethics, biography, Palestine, Gaza, Quds and the world of Islam through dozens of books and more than three thousand articles.



