بکاؤ میڈیا: ضمیر کی نیلامی اور سچ کا قتل

بکاؤ میڈیا: ضمیر کی نیلامی اور سچ کا قتل
تحریر: نادره زیدی
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری معاشرے کے تاریک گوشوں میں سچ کی روشنی پھیلانا اور اقتدار کے ایوانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کا دور ایک ایسے المیے سے گزر رہا ہے جہاں قلم کی روشنائی بک رہی ہے اور مائیکروفون پر بولنے والے الفاظ کسی خاص ایجنڈے کے غلام بن چکے ہیں۔ اسے ہم عام زبان میں "بکاؤ میڈیا" یا "زر خرید صحافت" کہتے ہیں۔
ضمیر کی تجارت اور سنسنی خیزی
جب صحافت مشن کے بجائے محض ایک "کاروبار" بن جائے، تو خبر کی قیمت سچائی سے نہیں بلکہ لفافے کی موٹائی سے طے ہوتی ہے۔ بکاؤ میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ عوام کا اعتماد اس نظام سے اٹھا دیتا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ اور مخصوص لابیوں کو خوش کرنے کے لیے آج حقائق کو اس طرح مسخ کیا جاتا ہے کہ عام آدمی کے لیے سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
پروپیگنڈا کی حالیہ مثال: ایک عالمی تماشہ
بکاؤ میڈیا کی بددیانتی کی ایک واضح مثال حالیہ دنوں میں دیکھنے کو ملی جب بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کے کچھ حصوں نے اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت یہ گمراہ کن خبریں پھیلائیں کہ آیت اللہ خامنہ ای ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اس طرح کی من گھڑت خبریں بغیر کسی تصدیق کے محض اس لیے چلائی گئیں تاکہ عوام میں ہیجان اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جا سکے۔ جب میڈیا سچ کی تلاش کے بجائے کسی ملک یا شخصیت کے خلاف "نفسیاتی جنگ" (Psychological Warfare) کا حصہ بن جائے، تو وہ صحافت نہیں بلکہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ بکاؤ میڈیا کس طرح جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔
زرد صحافت کا زہر
آج اشتہارات کی ہوس نے صحافتی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ کردار کشی اور افواہ سازی بکاؤ میڈیا کا خاصہ بن چکا ہے۔ قلم، جو کبھی مظلوم کی ڈھال ہوا کرتا تھا، آج طاقتوروں کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ لفافہ صحافت نے نہ صرف قلم کی حرمت کو پامال کیا ہے بلکہ ان مخلص صحافیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں جو آج بھی سچ کی خاطر اپنی جانیں ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے حق کے مسافر میدان نہیں چھوڑتے
جھوٹ کے بادلوں سے کبھی سورج کی ضیا کم نہیں ہوتی۔ آج کل میڈیا کے ایوانوں میں رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف جو من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ دراصل دشمن کی اس نفسیاتی شکست کا اعتراف ہیں جو اسے میدانِ عمل میں نصیب ہوئی ہے۔
خمینیؒ سے خامنہ ای تک: ایک ہی داستانِ وفا
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے، جب باطل نے سمجھا تھا کہ امام خمینیؒ کو جلاوطن کر کے وہ اس انقلاب کی روح کو فنا کر دے گا، تب قدرت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ امامؒ تیرہ سالہ جلاوطنی کے بعد جس "آب و تاب" اور جاہ و جلال کے ساتھ اپنے وطن کی مٹی پر اترے، اس نے دنیا کے فرعونوں کو بتا دیا کہ مردِ مومن کا تعلق اپنے ملک اور اپنی قوم سے جسم اور روح کا ہوتا ہے۔
جو قیادت جلاوطنی کی قید میں رہ کر بھی اپنے ملک کو نہ بھولی، وہ آج اقتدار اور عوامی طاقت کے سائے میں اپنے نظریات سے کیسے دستبردار ہو سکتی ہے؟
باطل کی بوکھلاہٹ کا جواب:
آیت اللہ خامنہ ای صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ اس استقامت کا تسلسل ہیں جس کی آبیاری خونِ شہدا سے ہوئی ہے۔
* اگر امام خمینیؒ نے تن تنہا جلاوطنی کاٹ کر شاہ کے تخت کو الٹ دیا تھا...
* تو خامنہ ای تو اس کارواں کے سالار ہیں جس کے پیچھے کروڑوں وفادار کھڑے ہیں۔
میڈیا کی یہ "پراپیگنڈہ وار" اس خوف کا نتیجہ ہے کہ یہ قیادت نہ جھکتی ہے، نہ بکتی ہے اور نہ ہی اپنے عوام کو تنہا چھوڑتی ہے۔ جس رہبر نے بم دھماکوں کے درمیان اپنا ہاتھ راہِ خدا میں پیش کر دیا، وہ ان فیک نیوز (Fake News) کے طوفانوں سے کیسے ڈر سکتا ہے؟
ہمارا پیغام:
یہ وطن، یہ انقلاب اور یہ قیادت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دشمن یاد رکھے کہ ہم نے جلاوطنیوں میں بھی واپسی کے معجزے دیکھے ہیں، اور آج تو یہ قافلہ اپنی منزل کے بہت قریب ہے۔
حرفِ آخر
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قلم کا سودا دراصل قوم کی تقدیر کا سودا ہے۔ اگر ہم نے بکاؤ میڈیا کے اس جھوٹ اور پروپیگنڈے کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو معاشرے سے شعور ختم ہو جائے گا۔ صحافت کی آزادی تبھی معتبر ہے جب صحافی کا ضمیر کسی لالچ یا دباؤ کا شکار نہ ہو۔ سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، لیکن وہی سچ قوموں کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔
Image by u_5785qxtfen from Pixabay

ذاکرہ نادرہ زیدی
خواہر نادرہ زیدی ایک سماجی کارکن، موٹیویشنل اسپیکر، اور کونسلر ہیں، خاص طور پر نئی نسل کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ ہمیشہ اہل بیت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لیے فعال رہتی ہیں۔
