غمِ حسینؑ اور ہماری عزاداری

غمِ حسینؑ اور ہماری عزاداری

امام حسین علیہ السلام کا غم دنیا کے ہر غم سے مختلف ہے۔ یہ صرف ایک شہید کا غم نہیں، بلکہ سچائی، وفاداری، انسانیت، دین اور مظلومیت کا غم ہے۔ اسی لیے چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود آج بھی کروڑوں دل محرم آتے ہی بے اختیار اشکبار ہو جاتے ہیں۔ مجالس برپا ہوتی ہیں، جلوس نکلتے ہیں، نوحے پڑھے جاتے ہیں اور ماتم کیا جاتا ہے۔

یہ سب محبتِ حسینؑ کی علامتیں ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن کبھی کبھی دل میں ایک سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا ہم اس غم کی روح تک بھی پہنچ رہے ہیں جس کے لیے یہ تمام اہتمام کیا جاتا ہے؟جب انسان کسی ذاتی صدمے سے دوچار ہوتا ہے، ماں یا باپ کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے، جوان بیٹا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے یا کوئی عزیز بچھڑ جاتا ہے تو اس وقت غم کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ آنسو خود بہتے ہیں، آہیں خود نکلتی ہیں، دل خود تڑپتا ہے۔ وہاں نہ صفیں بنائی جاتی ہیں، نہ کسی کو یہ بتایا جاتا ہے کہ کب رونا ہے اور کب خاموش ہونا ہے۔ غم اپنی فطری صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حساس دل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کربلا جیسے عظیم المیے کا غم مناتے ہوئے کہیں ہم رسموں اور ترتیبوں میں اتنے مصروف تو نہیں ہو گئے کہ درد کی اصل کیفیت پس منظر میں چلی گئی ہو۔

یقیناً جلوسوں میں نظم و ضبط ضروری ہے، مجالس میں ترتیب ضروری ہے اور بڑے اجتماعات میں صف بندی بھی ناگزیر ہے۔ یہ سب انتظامی تقاضے ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تمام توجہ انہی ظاہری امور پر مرکوز تو نہیں ہو گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صفیں تو بہت خوبصورت ہیں مگر دل منتشر ہیں، آوازیں تو بلند ہیں مگر شعور کمزور ہے، ماتم تو ہو رہا ہے مگر کربلا کا پیغام زندگیوں میں اتر نہیں رہا؟

آج بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عزاداری کی روح سے زیادہ اس کی ظاہری شکل زیرِ بحث ہے۔ کس کا جلوس بڑا تھا، کس کی مجلس میں زیادہ لوگ تھے، کس کا نوحہ زیادہ مشہور ہوا، کس کی ویڈیو زیادہ دیکھی گئی؛ جبکہ امام حسین علیہ السلام نے تو انسانوں کو تعداد نہیں بلکہ کردار کا درس دیا تھا۔ کربلا میں حق کے لشکر کی تعداد بہت کم تھی، لیکن تاریخ نے فتح اسی کے نام لکھی۔

یہ تحریر جلوس، مجلس، نوحہ یا ماتم پر اعتراض نہیں، بلکہ ان سب کی روح کی یاد دہانی ہے۔ کیونکہ یہی امور جب اخلاص کے ساتھ انجام پاتے ہیں تو عبادت بن جاتے ہیں، اور جب ان میں دکھاوے، مقابلے یا شہرت کا رنگ شامل ہو جائے تو ان کی تاثیر کم ہونے لگتی ہے۔

امام حسین علیہ السلام کو ہماری آوازوں سے زیادہ ہمارے دل مطلوب ہیں، ہمارے نعروں سے زیادہ ہماری وفاداری مطلوب ہے، اور ہمارے اجتماعات سے زیادہ ہماری عملی زندگی میں ان کا پیغام مطلوب ہے۔

آج بھی جب محرم آتا ہے تو کربلا ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ صرف آنسو نہ بہاؤ، حسینؑ کے مقصد کو بھی سمجھو؛ صرف ماتم نہ کرو، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونا بھی سیکھو؛ صرف جلوس نہ نکالو، اپنے کردار کو بھی حسینی بناؤ۔ اگر عزاداری ہمیں انسانیت، صداقت، امانت، غیرت اور تقویٰ کے قریب لے جا رہی ہے تو یقیناً ہم غمِ حسینؑ کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ سب کچھ صرف ایک رسم بن کر رہ جائے تو پھر ہمیں اپنے دلوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

حسینؑ کا غم دلوں کو بیدار کرنے آیا تھا۔ کاش ہماری مجالس دلوں کو زندہ کریں، ہمارے جلوس کردار کو سنواریں، ہمارے نوحے ضمیر کو جھنجھوڑیں اور ہمارا ماتم ہمیں اس مظلوم امام کے مشن سے جوڑ دے جس نے انسانیت کو عزت اور آزادی کا راستہ دکھایا۔ یہی عزاداری کی روح ہے اور یہی کربلا کا حقیقی پیغام۔

سیدکرامت حسین شعور جعفری

25/06/2026
Maulana Sayed Karamat Husain

مولانا سید کرامت حسین

مولانا سید کرامت حسین جعفری، گورسائی، پونچھ (جموں و کشمیر) سے متعلقہ ایک عالم دین ہیں۔ دینی و سماجی خدمات کے میدان میں جامعہ فاطمہ زہراءؑ ممبئی، متعدد مساجد اور حسینیوں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مترجم، مصنف اور محقق کی حیثیت سے درجنوں کتابوں اور تین ہزار سے زائد مقالات کے ذریعے تاریخ، عقائد، اخلاق، سیرت، فلسطین، غزہ، قدس اور عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر گراں قدر علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔