حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے نقوشِ زندگی اور خواتین کی فکری و تمدنی رہنمائی

مولانا نجیب الحسن زیدی
21 January 2026
Share:
حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے نقوشِ زندگی اور خواتین کی فکری و تمدنی رہنمائی

زندگی ہمیشہ ایک ہموار، پُرسکون اور قابلِ پیش گوئی راستے پر نہیں چلتی۔ ہر معاشرے، ہر خاندان اور ہر فرد کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ہمارے خوابوں کے محل اچانک گر جاتے ہیں؛ بڑی محنت سے بنائے گئے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں؛ اور کل کے لیے ہم نے جو پروگرام ترتیب دیا ہوتا ہے، اسے وقت کی آندھی اڑا لے جاتی ہے۔ ہر چیز بکھر جاتی ہے، سہارے ٹوٹ جاتے ہیں، اور انسان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں آگے کا راستہ دھند میں گم ہو جاتا ہے۔

کبھی یہ لمحہ کسی لاعلاج بیماری کی خبر بن کر آتا ہے؛ کبھی برسوں کی محنت سے کھڑی کی گئی معاشی بنیاد ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہو جاتی ہے؛ اور کبھی گھر کا وہ ستون ہی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے جس کے دم سے پورا خاندان قائم تھا۔ ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو "زیرو پوائنٹ" (Zero Point) قرار دیتے ہیں—یعنی وہ لمحہ جب انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھی تھا، چاہے وہ مادی ہو یا جذباتی، سب راکھ ہو چکا ہے اور اب اسے اسی راکھ پر بیٹھ کر زندگی کا نیا آغاز کرنا ہے۔

بالکل ایسے ہی حالات میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے چھوڑے ہوئے نقوشِ زندگی ہمیں ایک غیر معمولی اور جامع ماڈل فراہم کرتے ہیں۔ آپ (س) وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے کربلا میں تاریخ کے "زیرو پوائنٹ" پر کھڑے ہو کر نہ صرف سب سے بڑے انسانی، اخلاقی، روحانی اور تمدنی امتحان کا سامنا کیا، بلکہ اسے حق کی ابدی فتح میں بدل دیا۔ تاہم، یہ تعبیر صرف ہماری تفہیم کے لیے ہے—ورنہ خدا کے نزدیک زینب (س) کی زندگی میں کوئی "زیرو پوائنٹ" ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

اس مضمون میں ہم نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو آج ہزاروں خاندانوں، بالخصوص برصغیر کی خواتین کے دلوں میں بستا ہے:

"ٹوٹ جانے کے بعد دوبارہ کیسے کھڑا ہوا جائے؟"

حضرت زینب (س) محض غم کی علامت نہیں بلکہ استقامت کی استاد ہیں۔ ہمیں اسی تناظر میں آپ کی عظیم شخصیت کو دیکھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہماری بہت سی مذہبی مجالس میں جنابِ زینب (س) کو صرف رونے رلانے، مصائب اور مظلومیت کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے—حالانکہ آپ کا کردار اس سے کہیں زیادہ وسیع، متحرک اور انقلابی ہے۔ حقیقت میں آپ "ریزیلینس" (Resilience) یعنی بحرانی صورتحال میں خود پر قابو پانے اور تباہی کے بعد زندگی کی تعمیرِ نو کا مکمل ترین نمونہ ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جہاں خواتین ایک طرف مذہبی شعور، عزاداری، دینی پروگراموں، بچوں کی تربیت اور گھر کے استحکام کی محافظ ہیں، تو دوسری طرف وہ سماجی، معاشی اور تعلیمی دباؤ کا بھی شکار ہیں۔ جنابِ زینب (س) کی زندگی ان کے لیے درج ذیل عملی اصول فراہم کرتی ہے:

۱) شعوری قبولیت (Conscious Acceptance)

انسانی نفسیات کے مطابق کسی بھی بڑے صدمے کا پہلا ردِعمل "انکار" (Denial) ہوتا ہے۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہمارا پیارا بچھڑ گیا ہے یا معاشی سہارا ختم ہو گیا ہے۔ مگر جنابِ زینب (س) کے کردار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مصائب کے طوفان کے باوجود آپ نے خود کو انکار یا بے بسی کے حوالے نہیں کیا۔ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ "اب کچھ نہیں رہا"؛ بلکہ عصرِ عاشور جب خیمے جل رہے تھے اور قید ناگزیر ہو چکی تھی، آپ نے حقیقت کو تسلیم کیا مگر شکست قبول نہیں کی۔

اسے "فعال قبولیت" (Active Acceptance) کہتے ہیں:

"میں جانتی ہوں کہ حالات ناقابلِ برداشت حد تک تکلیف دہ ہیں، لیکن میں زندہ ہوں—اور میری ذمہ داریاں ابھی باقی ہیں۔"

۲) بحران میں ترجیحات کا تعین

بحران انسانی ذہن کو منتشر کر دیتا ہے۔ جنابِ زینب (س) نے سکھایا کہ بدترین حالات میں بھی اپنی ترجیحات کو واضح رکھنا چاہیے۔ عاشورہ کے بعد آپ کی پہلی ترجیح وقت کے امام (حضرت امام سجاد علیہ السلام) کی جان کی حفاظت تھی، اور دوسری ترجیح خواتین اور بچوں کو یکجا رکھنا۔

جب گھر کا سربراہ چلا جائے تو ماں کی پہلی ترجیح بچوں کا نفسیاتی تحفظ ہونا چاہیے۔ زینبی فکر کہتی ہے: "یہ صرف رونے کا وقت نہیں، بلکہ خود کو سنبھالنے کا وقت ہے۔"

۳) دکھ کو معنی دینا (Meaning Therapy)

جنابِ زینب (س) کا تاریخی جملہ: "ما رأیتُ الا جمیلاً" (میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا) محض ایک نعرہ نہیں بلکہ روحانی شعور کی معراج ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسان ہر دکھ سہہ سکتا ہے اگر وہ اسے کوئی "معنی" دے دے۔ آپ نے کربلا کو شکست نہیں بلکہ رضائے الہیٰ اور بقائے دین کا راستہ قرار دیا۔

ہماری خواتین کے لیے اس میں بڑا سبق ہے:

  • غربت کو ذلت کے بجائے "امتحان" سمجھیں۔
  • طلاق کو زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک "نیا مرحلہ" سمجھیں۔
  • بیماری کو سزا نہیں بلکہ "پاکیزگی" کا ذریعہ سمجھیں۔

۴) وقار، نہ کہ مظلومیت کا احساس

مشکل وقت میں بہت سی خواتین خود کو "بیچاری" یا مظلوم (Victim) سمجھنے لگتی ہیں۔ مگر جنابِ زینب (س) نے قیدی بن کر بھی وقار نہیں چھوڑا؛ یزید کے دربار میں آپ کا لہجہ کسی قیدی کا نہیں بلکہ ایک فاتح کا تھا۔ آپ کا پیغام واضح ہے:

  • بیوہ ہونا کمزوری نہیں ہے۔
  • تنہا ماں ہونا شرمندگی نہیں ہے۔
  • حالات کا مارا ہونا اپنی شناخت کھو دینا نہیں ہے۔

زینبی خاتون وہ ہے جس کی آنکھ میں آنسو ہوں مگر قدموں میں استقامت۔

۵) دوسروں کا سہارا بننا

جنابِ زینب (س) کو خود سب سے گہرے زخم لگے تھے، مگر اس کے باوجود آپ بچوں کو دلاسہ دے رہی تھیں، خواتین کی ہمت بندھا رہی تھیں اور امامِ وقت کی تیمارداری کر رہی تھیں۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے سے اپنا دکھ کم ہوتا ہے۔ وہ خاندان جو سانحے کے بعد ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں وہ بکھر جاتے ہیں؛ جو ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں وہ مزید مضبوط ہو کر ابھرتے ہیں۔

خلاصہ: زیرو پوائنٹ زندگی کا اختتام نہیں

جنابِ زینب (س) کی زندگی کا پیغام واضح ہے کہ "زیرو پوائنٹ" آخری لکیر نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے۔ اگر زینب (س) جلتے ہوئے خیموں کی راکھ سے ابدی فتح کا علم بلند کر سکتی ہیں، تو ہم بھی اپنے بکھرے ہوئے حالات سے ایک نئی زندگی تعمیر کر سکتے ہیں—بشرطیکہ ہم صبر، توکل اور زینبی حکمتِ عملی کو اپنا شعار بنا لیں۔

Maulana Najeebul Hasan Zaidi

مولانا نجیب الحسن زیدی

مولانا نجیب الحسن زیدی ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی اسکالر ہیں، جنہوں نے اسلامی علوم میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ بہترین تقریر اور تحریر میں مہارت کے مالک ہیں۔ دیگر اعزازات کے علاوہ وہ مغل مسجد، ممبئی سے عشرہ اول کے خطبات کے لیے زیادہ مشہور ہیں۔