خدا موجود ہے | وجود کا انکار (Series - Article 2)

سید منہال
15 January 2026
Share:
خدا موجود ہے | وجود کا انکار (Series - Article 2)

---- قسط دوم۔۔۔

وجود کا انکار

پچھلے مقالے میں اس بات سے آشنائی ہوئی کے،علمی رسوخ کی وسعت، یعنی کتابوں اور رسالوں کے عام لوگوں کے ہاتھ آجانے کی وجہ سے، معاشرے کی شعوری لیاقت میں ترقی ہونے لگی۔ لوگوں نے سوال کرنا شروع کیا، سوچنا اور غور کرنا شروع کیا، مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ نتیجتا لوگوں کی فہم و عقل کی صلاحیت نے چیزوں کو پہچاننے کیلئے مزید کوششیں کیں۔

ہر بات، عقل و منطق و دانست کی کسوٹی پرجانچی جانے لگی۔ جیسے ڈکارٹ کا تذکرہ ہوا تھا، جسنے منطقی (Logical) سوال کیا ۔ کیا میں موجود ہوں؟ اسی طرح ایک طبقہ ایسا بھی وجود میں آیا جس نے ڈکارٹ کی ذہنی اپج کو بطور کھاد استعمال کرتے ہوئے ایسی فصلیں پیدا کیں کہ سوال اندر سوال، عقل دنگ رہ گئی۔

اسوقت تاریخ انتظار میں تھی وہ دنیا مغرب کو اپنی آغوش میں لیئے اس کے سوالوں کو بغور سن رہی تھی۔ اسی زمانے میں تاریخ نے کوپرنکس، گیلیلیو گیلیلی، مارٹن لوتھر، یوہانس کیپلرکی آوازوں کو سنا اور انپر لگے الزاموں کو بھی سنا۔ اسنے عصرِ روشن خیالی (Age of Enlightenment) میں اٹھنے والی سورشوں کو عصرِ انقلاب (Age of Revolutions) میں بدلتے دیکھا۔ اسنے رینی ڈکارٹ، جان لاک، عمانویل کانٹ، کارل مارکس، ٖفریڈرک نطشا اور چارلس ڈارون کے خیالات کا ضمیمہ بھی تیار کیا۔

ان تمام لوگوں نے سوال کیئے تھے۔۔۔ سوال۔۔۔ جی، صرف سوال۔۔۔ سوال تھا کہ، وجود کیا ہے؟ وجود کا مقصد کیا ہے؟ وجود کی نوبت کیا ہے؟

مگر انھیں جواب نہیں دیا گیا بالکہ انکے سوالوں پر ہی تنبیہہ و تاکید کرنے کوشش کی گئی۔ انکے خلاف بدعت، بدعت، بدعت کا شور اٹھنے لگا۔ تب فطرت نے اس بات پر بھی سوال کیا کی یہ ممانعت کیوں؟ سوال کرنے اور جواب تلاش کرنے پر ممانعت کیوں؟ وجود اور موجودات پر غور کرنے پر ممانعت کیوں؟ ان حالات کے مد نظر ان شعور پسند ذہنوں نے انکار کی صورت اختیار کی۔ اسطرح معاشرے میں نئے رجحان پیدا ہوئے۔

۱۔ ہیومنزم (Humanism - انسانیت پسندی) : ایسا نظریہ جو انسانی اقدار، استدلال، اور ہمدردی کو اہمیت دیتا ہے اور زندگی کو بامعنی بنانے کی ذمہ داری انسانوں پر عائد کرتا ہے.

۲۔ ریشنلزم (Rationalism - عقلیت پسندی): یہ فلسفہ ہے جو علم اور سچائی کے حصول کے لیے تجربے کے بجائے عقل اور استدلال (reason) کو بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے یعنی انسان اپنی عقل سے حقیقت کو سمجھ سکتا ہے.

۳۔ . سیکولرزم (Secularism - لادینیت/مذہب سے علیحدگی): یہ سوچ اس بات پر زور دیتی ہیکہ ریاست اور حکومت کا مذہب سے تعلق نہ ہو اور کوئی ایک مذہب ریاست پر غالب نہ ہو اور مذہبی تعصب کے بغیر تمام شہریوں کی آزادی اور مساوات کا حق حاصل ہے۔

۴۔ انڈیویجولزم (Individualism - انفرادیت پسندی): اس نقطہ نظر سے ہر فرد، ہر وجود، خود مختار اور آزاد ہے۔ ہر وجود اپنے مقاصد، خواہشات اور طرز زندگی کو چننے کا حق رکھتا ہے۔

ان نظریات کے اشتراک سے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد پڑی جہاں انسان، مافوق الفطرت طاقتوں اور مذہب کے سہارے کے بغیر محض اپنی عقل اور انسانی اقدار کے ذریعے زندگی اور سماج کو سنوارنے کی کوشش کرنے لگا۔ انھیں افکار و وجوہات کے ضمن میں مغربی معاشرہ لادینیت اور انکارِ وجودِ خدا کی راہ اختیار کرنے لگا۔

اب اآیئے! انکا مختصر تعرف بھی دیکھ لیں جو لوگ مغربی تہذیب میں لادینیت کے موجد ہوئے۔

رینی ڈکارٹ (1596-1650): اسے "جدید مغربی فلسفہ کا باپ" کہا جاتا ہے۔ اسکے نظریات روایتی Scholastic-Aristotelian نظام سے الگ ہیں۔ اس کا منظم شکوک کا طریقہ (Systematic Doubt) اور فلسفہ کو صرف بیرونی احساس کے بجائے انسانی ذہن اور عقل پر مرکوز کرتا ہے، (intuitions) جو جدید علوم کی بنیاد ہے

جان لاک (1632–1704): روشن خیالی کی ایک بڑی شخصیت، قدرتی حقوق (زندگی، آزادی، اور جائیداد)، سماجی معاہدے، اور حکومت کی رضامندی سے حکومت کے بارے میں لاک کے نظریات نے جدید جمہوریت اور سیاسی لبرل ازم پر گہرا اثر ڈالا۔

عمانویل کانٹ (1724–1804): کانٹ نے بنیادی طور پر اس بات پر زور دیا کہ ہم اخلاقیات اور انسانی سمجھ کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ خاص طور پر اسنے خالص وجہ کی تنقید اور اخلاقیات کے مابعدالطبیعات (Metaphysics) کی بنیاد پر کام کیا۔ عقلیت پسندی اور تجربہ پرستی کو ملانے کی کوشش کی اور فرض سے ہٹ کر کام کرنے کا تصور متعارف کرایا، جو آج بھی اخلاقی فلسفے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

میری وولسٹون کرافٹ (1759–1797): ایک ابتدائی حقوق نسواں (Feminism) پر کام کرنے والی فلسفی تھی۔ وولسٹون کرافٹ نے خواتین کے حقوق کی توثیق میں خواتین کے لیے مساوی تعلیم کی وکالت کی۔اس کے خیالات نے جدید تحریک نسواں کی بنیاد فراہم کی۔

کارل مارکس (1818–1883): کمیونسٹ مینی فیسٹو (The Communist Manifesto) کیلئے مشہور ہے۔ طبقاتی جدوجہد اور معاشیات پر مارکس کی توجہ نے جدید معاشی اور سیاسی نظریہ کی بنیاد بنائی۔

فریڈرک نطشے (1844–1900): نطشے نے روایتی اقدار اور عقائد کے نظام پر سوال اٹھائے، لوگوں کو مذہبی یا معاشرتی اصولوں سے ہٹ کر اپنا مطلب تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ان کا کام فلسفہ، نفسیات اور آرٹ میں نئی ​​سوچ کے لیے ایک نصخہ کیمیا ہے۔

برٹرینڈ رسل (1872–1970): 20 ویں صدی کے تجزیاتی فلسفے میں بہت زیادہ بااثر تھا، جو منطق اور زبان کے فلسفے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتا تھا۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ تمام مفکرین شروعات میں کسی نہ کسی طرح چرچ یا چرچ کے مسلکی ادارے سے جڑے ہوئے تھے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کی جو لوگ خود مذہبی تھے وہی مذہب کے خلاف ہوگئے؟ جب یہ سوال تاریخ سے پاچھا گیا تو تاریخ نے کہا بتا تو دوں مگر کیا آپ نے “خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں” کو، پڑھا بھی ہے؟

تو میں نے کہا۔۔ ٹھیک ہے، خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں (Atheist) کا بھی حال دریافت کرتے ہیں۔ انشا اللہ اگلی قسط میں۔

Sayed Minhal

سید منہال

سید منہال، ممبئی، انڈیا سے ایک سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ وہ اہل بیت ع کے پیروکار اور پرجوش حامی ہیں۔ منہال نے اہل بیت ع کے پیغام کو پھیلانے میں متعدد تکنیکی محاظ پر کام کیا ہے۔