کیا جنگ ہوگی؟

مولانا نجیب الحسن زیدی
27 January 2026
Share:
کیا جنگ ہوگی؟

بین الاقوامی سیاست کے موجودہ مرحلے میں ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک نہایت حساس اور نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتِ حال اور "محورِ مزاحمت" (Axis of Resistance) کی مسلسل قربانیوں کے بعد ان کا غیر متزلزل عزم، اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے ان کی بڑھتی ہوئی پُراسرار فعالیت نے صورتِ حال کو سنگین بنا دیا ہے۔

اس میں مزید اضافہ ان سامراجی کوششوں سے ہوا ہے جن کے ذریعے ایران میں حالیہ خونی مظاہروں اور معاشی تنگی کی بنیاد پر اٹھنے والے عوامی غصے کی لہر کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ تمام تر فتنہ انگیزیوں کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران ایک آہنی دیوار کی طرح ٹس سے مس نہیں ہوا، جس کی وجہ سے امریکہ کو بارہا ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ ایران کی حکومت اور امریکی علاقائی مفادات کے درمیان اس کشمکش نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ اب یہ تصادم صرف سفارتی یا معاشی نوعیت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے عسکری پہلو بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

تین ممکنہ منظرنامے

زیرِ نظر تجزیہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ امریکہ کس قسم کے جنگی منظرنامے پر زیادہ عمل پیرا ہو سکتا ہے:

۱۔ محدود کارروائی: مخصوص اہداف پر حملے یا مقامی آپریشنز۔

۲۔ نفسیاتی دباؤ: جبری سفارت کاری اور داخلی انتشار پیدا کرنے کے لیے دھمکیاں۔

۳۔ مکمل عسکری تصادم: ایک ہمہ گیر روایتی جنگ۔

تجزیہ نگاروں کی دو آراء

موجودہ حالات میں امریکہ کے آئندہ رویے کے بارے میں ماہرین کی آراء دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہیں:

۱۔ نفسیاتی جنگ کا نقطہِ نظر: ایک رائے کے مطابق، موجودہ حالات میں کسی وسیع فوجی حملے کا امکان کم ہے۔ حالیہ نقل و حرکت کو ایک "تدریجی محاصرے" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ایران کو غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ محورِ مزاحمت کو تنہا کر کے نشانہ بنایا جا سکے۔ عین ممکن ہے کہ امریکہ توجہ ہٹانے کے لیے ایران کو دھمکائے لیکن عملی طور پر عراق و لبنان میں مزاحمتی محاذوں پر حملہ کر دے۔ اس طرح ایران کی گھیرا بندی کی جائے کہ وہ اپنے اتحادیوں کی مدد نہ کر سکے۔

۲۔ عسکری تصادم کا نقطہِ نظر: دوسری رائے یہ ہے کہ حملہ کسی بھی وقت ممکن ہے، جس کی حد "محدود حملے" سے لے کر "کلاسیکی وسیع جنگ" تک ہو سکتی ہے۔ اس نقطہِ نظر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت کی نوعیت بتاتی ہے کہ یہ محض نفسیاتی دباؤ نہیں ہے، چاہے ابھی ہمہ گیر جنگ کا حتمی آغاز نہ ہوا ہو۔

"محدود حملے" کے مفروضے

اگر امریکہ محدود کارروائی کا راستہ چنتا ہے، تو اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:

  • مؤثر محدود حملہ: جیسے کسی اہم شخصیت کا قتل یا مخصوص سیکیورٹی آپریشن۔
  • علامتی محدود حملہ: جس کا مقصد اپنی ساکھ بچانا اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہو۔
  • خطرناک محدود حملہ: مثلاً بحری جھڑپیں یا کسی حساس جغرافیائی مقام پر قبضہ۔

ان سب کا مشترک نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران یا تو جواب نہیں دے گا یا اس کا جواب بہت کمزور ہوگا؛ تاہم ایران کا یہ واضح اعلان کہ "کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا"، اس امریکی مفروضے کو انتہائی کمزور بنا دیتا ہے۔

"عراق ماڈل" بمقابلہ ایرانی حقیقت

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ایک بڑے حملے کے لیے "آپریشنل زنجیر" مکمل کر رہا ہے، جو کہ عراق ماڈل سے مشابہ ہے: یعنی ایک محدود جھڑپ کے بعد طویل فرسودگی (attrition)، معاشی و سماجی دباؤ میں اضافہ اور بالآخر اسلحے سے دستبرداری مسلط کرنا۔

اسٹریٹجک نوٹ: ایران کا موازنہ بعثی عراق سے کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔ ایران کی سیاسی ساخت، سماجی سرمایہ، حالات کو بحال کرنے کی صلاحیت اور اسٹریٹجک گہرائی اسے عراق سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ مضبوط بناتی ہے۔

اصل خطرہ: "ایرانی سماجی کوڈ"

حتمی نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ خطرہ کسی روایتی جنگ سے زیادہ "ایرانی سماجی کوڈ" پر مبنی ڈیزائن شدہ جنگ ہے۔ اس میں سب سے بڑا خطرہ غفلت کی حالت میں کیا جانے والا "غیر متوقع حملہ" یا قیادت کو نشانہ بنانا ہے تاکہ فیصلہ سازی کے نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تین عناصر ناگزیر ہیں:

  • الف: درست اور معتبر اطلاعات (Intelligence) کا حصول۔
  • ب: تمام دفاعی شعبوں (بحریہ، فضائیہ، زمینی فوج) کے درمیان مکمل ہم آہنگی۔
  • ج: معلوماتی دائرہ کار میں مسلسل تجزیاتی بیداری۔
Maulana Najeebul Hasan Zaidi

مولانا نجیب الحسن زیدی

مولانا نجیب الحسن زیدی ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی اسکالر ہیں، جنہوں نے اسلامی علوم میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ بہترین تقریر اور تحریر میں مہارت کے مالک ہیں۔ دیگر اعزازات کے علاوہ وہ مغل مسجد، ممبئی سے عشرہ اول کے خطبات کے لیے زیادہ مشہور ہیں۔