ماں کی عظمت، اولاد کی بصیرت اور وقت کی تربیت

ماں کی عظمت، اولاد کی بصیرت اور وقت کی تربیت

پہلا عنوان:
ماں کی محبت وہ حقیقت ہے جو اکثر نظر نہیں آتی. قرآن مجید ماں کی قربانیوں کو یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ"
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت کی، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا۔"(سورہ لقمان: 14)

ماں کی محبت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے احسان گنواتی نہیں، بلکہ خاموشی سے قربانیاں دیتی رہتی ہے۔

دوسرا عنوان:

اولاد اکثر ماں کی فکر کو پابندی سمجھ لیتی ہے. آج کے بہت سے نوجوان یہی کہتے ہیں: "مجھے اپنی زندگی جینے دیں۔""آپ ہر چیز میں مداخلت کیوں کرتی ہیں؟"

"آپ کا زمانہ اور تھا۔"

حالانکہ ماں کا مقصد روکنا نہیں بلکہ بچانا ہوتا ہے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

بِرُّ الْوَالِدَيْنِ مِنْ حُسْنِ مَعْرِفَةِ الْعَبْدِ بِاللّٰهِ"

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک انسان کی خدا شناسی کی علامت ہے۔"

(الکافی، ج2)

جو شخص والدین کی محبت اور فکر کو سمجھ لیتا ہے، وہ درحقیقت خدا کی نعمت کو پہچان لیتا ہے۔

تیسرا عنوان:

بعض سبق نصیحت سے نہیں، ذمہ داری سے سمجھ آتے ہیں حرا کو سینکڑوں نصیحتیں سمجھا نہ سکیں، مگر چند دن کی ذمہ داری نے وہ سبق سکھا دیا جو سالوں کی گفتگو نہ سکھا سکی

۔یہی وجہ ہے کہ قرآن فرماتا ہے:

وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا"

پروردگار! میرے والدین پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔"

(سورہ اسراء: 24)

قرآن صرف احترام کا حکم نہیں دیتا بلکہ اولاد کو والدین کی پوری تربیت اور قربانی یاد دلانے کا حکم دیتا ہے۔

چوتھا عنوان:

ماں کبھی استعفیٰ نہیں دیتی۔ کہنے کا سب سے دردناک اور خوبصورت جملہ:

"ماں ہونا نوکری نہیں ہوتی، یہ ایسا رشتہ ہے جس سے انسان استعفیٰ نہیں دے سکتا۔"

یہی حقیقت امام زین العابدینؑ نے "رسالۃ الحقوق" میں بیان فرمائی:

فَإِنَّكَ لَا تَقْدِرُ عَلَى شُكْرِهَا إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ"تم اپنی ماں کا حق ادا ہی نہیں کر سکتے مگر خدا کی مدد سے۔

"(رسالۃ الحقوق)

پھر امامؑ فرماتے ہیں:

"تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تمہاری ماں نے تمہیں وہاں اٹھایا جہاں کوئی کسی کو نہیں اٹھاتا، اور وہ تمہیں وہ کچھ دیتی رہی جو کوئی کسی کو نہیں دیتا۔"

پانچواں عنوان:

ماں کی عظمت اس وقت سمجھ آتی ہے جب انسان خود اُس کی جگہ کھڑا ہوتا ہےیہ زندگی کا قانون ہے۔جس دن بیٹی خود گھر سنبھالتی ہے، جس دن وہ خود رات بھر بچے کے بخار میں جاگتی ہے، جس دن وہ خود فکر، ذمہ داری اور قربانی کا بوجھ اٹھاتی ہے،اُس دن اُسے اپنی ماں کی خاموش محبت سمجھ آتی ہے۔

امیرالمؤمنین ؑ فرماتے ہیں:

مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْمَخْلُوقَ لَمْ يَشْكُرِ الْخَالِقَ"

جو مخلوق کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خالق کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔"

(غرر الحکم)

والدین خصوصاً ماں کا شکر ادا کرنا درحقیقت خدا کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔

جوانوں کے لیے پیغام:

آج اگر ماں آپ کو ٹوکتی ہے، آپ کی واپسی کا انتظار کرتی ہے، آپ کے دوستوں کے بارے میں پوچھتی ہے، آپ کی فکر کرتی ہے،تو ضروری نہیں کہ وہ آپ پر حکومت کرنا چاہتی ہو۔ ممکن ہے وہ صرف وہی کر رہی ہو جو ایک ماں کرتی ہے۔

"وہ آپ کو روک نہیں رہی، وہ آپ کو سنبھال رہی ہے۔"

اختتامی جملہ:

ماں کی محبت سمندر کی طرح ہوتی ہے، انسان اس کے کنارے پر کھیلتا رہتا ہے، مگر اس کی گہرائی کا اندازہ اُسے اُس وقت ہوتا ہے جب وہ خود زندگی کے سمندر میں اترتا ہے۔اور اکثر اولاد کو ماں کی عظمت اُس دن سمجھ آتی ہے، جب وہ پہلی بار ماں کی جگہ کھڑی ہوتی ہے۔

"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا"

"اور والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔"

(سورہ اسراء: 23)

20/06/2026
Maulana Wafa Haider Khan

Maulana Wafa Haider Khan

Maulana Wafa Haider khan is a Teacher, Educator and a Scholar of Arabic Linguistics. He has many years of experience in teaching students of Deen and Fiqha. He is currently a Mudarris (Teaching Staff) at Madrasa e Hadi ATFS, Navi Mumbai.

Related Articles