محرم، عزاداری اور تشیع — ایک ضروری وضاحت(محرم کے نام پے۔۔۔)

محرم، عزاداری اور تشیع — ایک ضروری وضاحت(محرم کے نام پے۔۔۔)

محرم، عزاداری اور تشیع — ایک ضروری وضاحت:محرم الحرام کے ایام میں سوشل میڈیا پر عزاداری سے متعلق بے شمار ویڈیوز، تصاویر اور مختصر کلپس گردش کرتے ہیں۔ ان میں بعض ایسے مناظر بھی ہوتے ہیں جن میں غیر اسلامی رسومات، شرکیہ حرکات، نامناسب نعرے، توہمات یا مقامی ثقافتی روایات دکھائی جاتی ہیں، جن کا نہ قرآن و سنت سے کوئی تعلق ہے اور نہ مکتبِ اہلِ بیتؑ ان کی تائید کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان چند ویڈیوز کو دیکھ کر بعض لوگ پورے مکتبِ تشیع بلکہ خود اسلام کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی فرد، کسی گروہ یا کسی علاقے کی غلط روایت کو پورے مذہب کا عقیدہ قرار دینا نہ انصاف ہے، نہ تحقیق، اور نہ ہی عقل و منطق کا تقاضا۔

حقیقت یہ ہے کہ برصغیر سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں محرم کے حوالے سے بعض ایسی مقامی رسومات بھی رائج ہیں جن کا تعلق مذہبی عقائد سے زیادہ علاقائی ثقافت اور صدیوں پرانی سماجی روایات سے ہے۔ ان میں سے بعض رسومات مختلف علاقوں میں بعض اہلِ سنت اور ہندو برادریوں کے ہاں بھی پائی جاتی ہیں، جنہیں محض محرم کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا مکتبِ تشیع کے بنیادی عقائد یا اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی فرد، گروہ یا علاقے کے غلط عمل کو پورے مذہب کی نمائندگی قرار دینا انصاف نہیں بلکہ تعصب ہے۔

اسلام کی پہلی اور آخری بنیاد توحید ہے۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اور ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ﴾۔ ان آیات نے ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، عبادت اور ربوبیت میں کسی کو شریک ٹھہرانا اسلام میں ناقابلِ معافی جرم ہے جب تک بندہ سچی توبہ نہ کرے۔ اس لیے ہر مسلمان کا عقیدہ ہر قسم کے شرک، خرافات، توہمات اور غیر شرعی رسومات سے پاک ہونا چاہیے۔

لیکن اسی قرآن نے ایک اور اہم حقیقت بھی بیان فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدہ: 35) یعنی “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔” اس آیت نے واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے قرب کے لیے وسیلہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا وسیلہ کو شرک قرار دینا قرآن کے ظاہر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شرک یہ ہے کہ کسی مخلوق کو اللہ کا شریک، مستقل مؤثر یا معبود سمجھ لیا جائے، جبکہ وسیلہ یہ ہے کہ بندہ اللہ ہی کو حقیقی مالک، حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہوئے اس کے پسندیدہ بندوں، نیک اعمال، دعا اور دیگر مشروع ذرائع کے ذریعے اسی کا قرب حاصل کرے۔ وسیلہ اطاعتِ الٰہی ہے، شرک بغاوتِ الٰہی۔

یہی وہ توحید ہے جس کی تعلیم امام علی بن ابی طالب نے نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں دی: «أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ… وَكَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ» یعنی دین کی بنیاد اللہ کی معرفت اور اس کا کمال توحید ہے۔ اسی طرح امام جعفر صادق نے فرمایا: «نَحْنُ وَاللَّهِ نَدُلُّكُمْ عَلَى اللَّهِ»، “خدا کی قسم! ہم تمہیں اللہ ہی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔” اہلِ بیتؑ نے کبھی اپنی ذات کی پرستش نہیں چاہی بلکہ ہمیشہ لوگوں کو اللہ کی بندگی، تقویٰ، اخلاص، عقل اور اخلاق کی دعوت دی۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اہلِ سنت کے جلیل القدر مفسرین، جیسے فخر الدین رازی، قرطبی اور ابن کثیر نے بھی سورۂ مائدہ کی اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ “وسیلہ” سے مراد وہ مشروع ذرائع ہیں جو بندے کو اللہ کے قرب تک پہنچائیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل اختلاف وسیلہ کے جواز میں نہیں بلکہ اس کی بعض صورتوں کی تشریح میں ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو شرک اور اسلام کے درمیان جنگ بنا دینا علمی انصاف کے خلاف ہے۔

تشیع اگر اپنی اصل صورت میں دیکھا جائے تو وہ قرآن، سنتِ رسولؐ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات کا نام ہے، نہ کہ رسموں، جذبات یا ثقافتی روایات کا۔ اسی لیے ہر دور کے معتبر شیعہ علماء نے غلو، خرافات، جھوٹ، شرکیہ عقائد اور غیر شرعی اعمال کی مخالفت کی ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ عمل جو قرآن و سنت اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے ٹکراتا ہو، خواہ اسے کوئی شیعہ ہی کیوں نہ انجام دے، دین کا حصہ نہیں بن جاتا۔

اسلام صراطِ مستقیم کا دین ہے۔ ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ کی دعا اور ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ کی تعلیم یہی بتاتی ہے کہ اسلام اعتدال، حکمت اور توازن کا راستہ ہے۔ نہ غلو اسلام ہے، نہ بے دینی؛ نہ افراط مطلوب ہے، نہ تفریط۔ اہلِ بیتؑ کا راستہ بھی یہی اعتدال کا راستہ ہے۔

آخر میں ایک بنیادی بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان اور شیعہ کہتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کا ہر عمل اسلام یا تشیع کی نمائندگی کرتا ہو۔ قرآن نے معیارِ فضیلت تقویٰ کو قرار دیا ہے: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾۔ اور امام جعفر صادق نے فرمایا: «كُونُوا لَنَا زَيْنًا وَلَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْنًا»، “ہمارے لیے زینت بنو، باعثِ عار نہ بنو۔” یعنی اہلِ بیتؑ کا حقیقی پیرو وہ ہے جس کا عقیدہ بھی پاک ہو، کردار بھی پاکیزہ ہو اور عمل بھی قرآن و سنت کے مطابق ہو۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند غیر مستند ویڈیوز یا بعض افراد کے غلط اعمال کو بنیاد بنا کر اسلام یا تشیع پر حکم لگانا نہ علمی رویہ ہے، نہ دینی انصاف۔ اسلام کی حقیقی پہچان قرآن ہے، رسولِ اکرم ص کی سنت ہے، اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات ہیں۔ یہی تعلیمات انسان کو شرک سے توحید، خرافات سے شعور، تعصب سے انصاف اور انتہاپسندی سے اعتدال کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہی اسلام کا حقیقی چہرہ ہے، اور یہی اہلِ بیتِ اطہارؑ کا راستہ ہے۔

سیدکرامت حسین شعور جعفری

04/07/2026
Maulana Sayed Karamat Husain

مولانا سید کرامت حسین

مولانا سید کرامت حسین جعفری، گورسائی، پونچھ (جموں و کشمیر) سے متعلقہ ایک عالم دین ہیں۔ دینی و سماجی خدمات کے میدان میں جامعہ فاطمہ زہراءؑ ممبئی، متعدد مساجد اور حسینیوں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مترجم، مصنف اور محقق کی حیثیت سے درجنوں کتابوں اور تین ہزار سے زائد مقالات کے ذریعے تاریخ، عقائد، اخلاق، سیرت، فلسطین، غزہ، قدس اور عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر گراں قدر علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔