تلاشِ کمال اور قرآنی راستہ

اس مادی اور خاکی دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی "کمال" کی جستجو میں گزار دیتا ہے، مگر اسے ایک بھی "مکمل انسان" میسر نہیں آتا۔ ہر چہرہ کسی نہ کسی ادھورے پن کا عکاس ہے اور ہر شخصیت کسی نہ کسی کمی کا شکار۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کمال صرف اس ذاتِ باری تعالیٰ کا خاصہ ہے جس نے کائنات کی تخلیق فرمائی؛ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیا اس ادھورے پن کے ساتھ جینا ہی ہمارا مقدر ہے؟
قطعی نہیں! اگرچہ اس دنیا میں کوئی مٹی کا پتلا نقص سے پاک نہیں، لیکن اس "خاکی" کو "خالص" بنانے کا ایک راستہ ضرور موجود ہے، اور وہ راستہ قرآنِ پاک کی ضیا پاش تعلیمات سے ہو کر گزرتا ہے۔
نسلِ نو اور قرآنی منشور
آج ہم اپنے بچوں کو دنیاوی علوم کی دوڑ میں تو شامل کر دیتے ہیں، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ روح کی تسکین اور کردار کی پختگی کے بغیر یہ علوم محض ایک بوجھ ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے سینوں کو قرآن کے نور سے منور کرنا ہوگا، کیونکہ:
- کردار سازی: قرآن محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جب بچہ قرآن پڑھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ سچائی، امانت اور دیانت ہی وہ سیڑھیاں ہیں جو اسے ایک عام انسان سے بلند کر کے "انسانیت" کے درجے پر فائز کرتی ہیں۔
- خالق سے تعلق: اس مادی دنیا کی بے ثباتی کا مقابلہ صرف وہی بچہ کر سکتا ہے جس کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہو۔ قرآن کی تعلیمات اسے یہ سکھاتی ہیں کہ کامیابی کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ "تقویٰ" ہے۔
- اسوہ حسنہ کا نمونہ: اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ایک مکمل انسان کا عکس دیکھیں، تو ہمیں انہیں سیرتِ طیبہ ﷺ سے جوڑنا ہوگا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس قرآن کا عملی نمونہ ہے، جس کی پیروی ہمیں بھٹکنے سے بچاتی ہے۔
وقت کی پکار
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا محض ثواب کا کام نہیں، بلکہ یہ ان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں، قرآن ہی وہ مضبوط رسی ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو پستی سے نکال کر بلندیوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں کو قرآن کی خوشبو سے بسائیں گے اور اپنے بچوں کی آبیاری اس مقدس کتاب کی روشنی میں کریں گے؛ تاکہ وہ اس خاکی دنیا میں بھٹکنے کے بجائے ایک "روشن چراغ" بن کر ابھریں۔

Zakerah Nadera Zaidi
Khwahar Nadera Zaidi is a social activist, motivational speaker, and counselor, especially active for the welfare of the new generation. She is always enthusiastic about conveying the message of the Ahlul Bayt to the people.
