اصولِ کامیابی

ذاکرہ نادرہ زیدی
12 January 2026
Share:
اصولِ کامیابی

تحریر: نادره زیدی

اکثر محفلوں میں یہ صدا سنائی دیتی ہے کہ "ہم نے ساری زندگی لہو پسینہ ایک کر دیا، ہڈیاں گھسا دیں، مگر نہ تو زندگی میں آسودگی آئی اور نہ ہی وہ ثمر ملا جس کی تمنا تھی۔" لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ قسمت ان سے روٹھی ہوئی ہے، لیکن حقیقت کا ادراک کرنے والے جانتے ہیں کہ محنت کا پھل صرف مشقت میں نہیں، بلکہ اس کی "سمت" میں چھپا ہوتا ہے۔

ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر محنت کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اگر ایک کسان بنجر زمین پر سارا دن ہل چلائے، پسینہ بہائے اور تھک کر چور ہو جائے، لیکن اس نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ اسے بونا کیا ہے اور اس زمین کی ضرورت کیا ہے، تو اس کی مشقت رائیگاں جائے گی۔ کسان کا ہل چلانا تبھی معتبر ہے جب اس کے پاس بیج موجود ہو اور ذہن میں فصل کا ایک واضح خاکہ ہو۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہی ہے کہ ہم نے "مصروف رہنے" کو ہی "کامیاب ہونے" کا مترادف سمجھ لیا ہے۔ ہم ہاتھ پاؤں تو بہت مارتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ بغیر ٹارگٹ کے محنت کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر تیز رفتاری سے دوڑ رہا ہو، مگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اسے کس شہر جانا ہے۔ ایسی دوڑ صرف تھکن اور مایوسی ہی پیدا کرتی ہے۔

اصولِ کامیابی یہ ہے:

  • پہلے ہدف (Target) کا تعین کیجیے: آپ کی محنت کا مقصد کیا ہے؟
  • پھر حکمتِ عملی بنائیے: کیا آپ کی طاقت درست جگہ صرف ہو رہی ہے؟
  • پھر مستقل مزاجی دکھائیے: ہدف کے بغیر کی گئی محنت محض ایک بھٹکاو ہے۔

آسودگی مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اس اطمینان کا نام ہے کہ میری توانائی ضائع نہیں ہو رہی۔ جس دن ہم نے یہ سمجھ لیا کہ محنت کو ہدف کے ترازو میں تولنا ضروری ہے، اس دن ہمارے ہاتھوں کی لکیریں بدلنا شروع ہو جائیں گی۔ یاد رکھیے، تھک جانے اور کچھ حاصل کرنے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔

-----

Image by Mohamed Hassan from Pixabay
Zakerah Nadera Zaidi

ذاکرہ نادرہ زیدی

خواہر نادرہ زیدی ایک سماجی کارکن، موٹیویشنل اسپیکر، اور کونسلر ہیں، خاص طور پر نئی نسل کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ ہمیشہ اہل بیت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لیے فعال رہتی ہیں۔