واقعۂ کربلا اور قاتلانِ امام حسینؑ, اہلِ سنت کی معتبر کتب میں

اریخِ اسلام میں بعض واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک مخصوص دور یا ایک خاص قوم سے متعلق نہیں رہتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی عظیم واقعات میں سے ایک ہے۔
یہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، وفاداری اور غداری، اور دین اور دنیا پرستی کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود کربلا کا تذکرہ آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسے، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہراؑ کے فرزند تھے۔ آپؑ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»
“حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔”
حوالہ: جامع الترمذی، حدیث 3775
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بارے میں فرمایا:
«الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
“حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
حوالہ: سنن الترمذی، حدیث 3768
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے امام حسینؑ کی یہ عظمت بیان فرمائی تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے ساتھ دشمنی درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے مشن اور تعلیمات سے دشمنی تھی۔
سن 60 ہجری میں یزید بن معاویہ اقتدار پر قابض ہوا اور اس نے تمام مسلمانوں سے اپنی بیعت لینے کی کوشش کی۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ آپؑ جانتے تھے کہ یزید کی حکومت اسلام کی حقیقی روح کے خلاف ہے۔
امام حسینؑ نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے قیام نہیں کیا بلکہ امت کی اصلاح اور دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے میدان میں آئے تھے۔ چنانچہ آپؑ نے خود اپنے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا … وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي»
“میں نہ سرکشی اور نہ فساد کے لیے نکلا ہوں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔”
جب امام حسینؑ مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوئے تو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے آپؑ کا راستہ روکنے کے لیے لشکر روانہ کیا۔ اہلِ سنت کے عظیم مؤرخ امام طبری لکھتے ہیں:
«فَبَعَثَ ابْنُ زِيَادٍ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ فِي أَرْبَعَةِ آلَافٍ إِلَى الْحُسَيْنِ»
“عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ امام حسینؑ کی طرف روانہ کیا۔”
حوالہ: تاریخ الطبری، ج 5، ص 389
یہاں سے کربلا کے المیے کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے نواسے تھے اور دوسری طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیاوی مفادات، منصب اور حکومت کی خاطر حق کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
کربلا کے میدان میں امام حسینؑ نے بارہا نصیحت فرمائی، اپنا تعارف کرایا اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی احادیث یاد دلائیں، لیکن اقتدار کی ہوس نے ان کے دلوں کو اندھا کر دیا تھا۔
اہلِ سنت کی تاریخی کتب کے مطابق امام حسینؑ کے قتل میں بنیادی کردار عبید اللہ بن زیاد، عمر بن سعد، شمر بن ذی الجوشن، سنان بن انس اور خولی بن یزید جیسے افراد نے ادا کیا۔
عبید اللہ بن زیاد اس ظلم کا منصوبہ ساز تھا، عمر بن سعد لشکر کا سپہ سالار تھا اور شمر بن ذی الجوشن ان بدبخت افراد میں شامل تھا جس نے آخری حملے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
امام ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جب امام حسینؑ شہید ہو گئے تو عمر بن سعد نے اعلان کروایا:
«أَلَا مَنْ يَنْتَدِبُ لِلْحُسَيْنِ فَيُوطِئُ الْخَيْلَ ظَهْرَهُ وَصَدْرَهُ»
“کون ہے جو حسینؑ کے جسم پر گھوڑے دوڑانے کے لیے تیار ہو؟”
حوالہ: الکامل فی التاریخ، ج 4، ص 80
یہ تاریخ کا وہ دردناک لمحہ تھا جسے پڑھ کر آج بھی انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ جس شخصیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے کندھوں پر بٹھاتے تھے، جسے چومتے تھے، جس کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اسی کے جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔
شہادت کے بعد ظلم کی داستان ختم نہیں ہوئی۔ اہلِ بیتِ رسولؐ کے خیموں کو آگ لگا دی گئی، خواتین اور بچوں کو اسیر بنایا گیا، امام حسینؑ کا سرِ اقدس نیزے پر بلند کیا گیا اور خاندانِ نبوت کو شہر بہ شہر پھرایا گیا۔
یہ تمام واقعات اہلِ سنت کے معتبر مؤرخین نے بھی نقل کیے ہیں۔اہلِ سنت کے مشہور مؤرخ اور مفسر حافظ ابن کثیر اس سانحے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، مِنْ مُصِيبَةٍ مَا أَعْظَمَهَا وَأَفْظَعَهَا»
“ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، یہ کتنی عظیم اور ہولناک مصیبت تھی۔”
حوالہ: البدایۃ والنہایۃ، ج 8، ص 221
اسی طرح حافظ ذہبی یزید کے بارے میں لکھتے ہیں:
«وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ فِي أَيَّامِهِ»
“امام حسینؑ اس کے دورِ حکومت میں شہید کیے گئے۔
”حوالہ: سیر اعلام النبلاء، ج 4، ص 37
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کربلا کا واقعہ یزیدی حکومت کے زیرِ سایہ پیش آیا۔ اگرچہ تلواریں شمر، عمر بن سعد اور سنان بن انس جیسے افراد نے چلائیں لیکن پورا نظام یزید کی حکومت کے ماتحت کام کر رہا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہلِ سنت علماء نے یزید کو اس عظیم سانحے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ حق ہمیشہ اکثریت یا طاقت کا محتاج نہیں ہوتا۔ امام حسینؑ کے ساتھ صرف چند درجن جانثار تھے جبکہ مخالف لشکر ہزاروں پر مشتمل تھا، لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کامیابی تعداد سے نہیں بلکہ حقانیت سے حاصل ہوتی ہے۔
آج کوئی اپنے بچوں کا نام شمر یا ابن زیاد نہیں رکھتا لیکن حسینؑ کا نام دنیا کے ہر گوشے میں احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔کربلا کا پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
امام حسینؑ نے اپنے عمل سے سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ظلم کی تائید ہے، جبکہ حق کی خاطر قربانی دینا انسانیت کی معراج ہے۔ اگر اقتدار کے سامنے جھک جانا ہی کامیابی ہوتی تو حسینؑ بیعت کر لیتے، لیکن آپؑ نے ثابت کیا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔
آج بھی جب محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو کربلا کا پیغام زندہ ہو جاتا ہے۔ ہر آزاد انسان کی زبان پر یہی صدا ہوتی ہے کہ حق کا راستہ حسینؑ کا راستہ ہے اور باطل کا راستہ یزید کا راستہ۔
یہی وجہ ہے کہ کربلا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی فکر، ایک زندہ تحریک اور ایک ابدی درسگاہ ہے۔
سلام ہو امام حسین علیہ السلام پر، سلام ہو ان کے وفادار اصحاب پر، سلام ہو ان اسیرانِ اہلِ بیتؑ پر جنہوں نے ظلم کے ایوانوں میں حق کی آواز بلند کی، اور لعنت ہو ان ظالموں پر جنہوں نے فرزندِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے خونِ ناحق سے تاریخِ انسانیت کو شرمندہ کیا۔
تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری

مولانا سید کرامت حسین
مولانا سید کرامت حسین جعفری، گورسائی، پونچھ (جموں و کشمیر) سے متعلقہ ایک عالم دین ہیں۔ دینی و سماجی خدمات کے میدان میں جامعہ فاطمہ زہراءؑ ممبئی، متعدد مساجد اور حسینیوں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مترجم، مصنف اور محقق کی حیثیت سے درجنوں کتابوں اور تین ہزار سے زائد مقالات کے ذریعے تاریخ، عقائد، اخلاق، سیرت، فلسطین، غزہ، قدس اور عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر گراں قدر علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔



