ایک ماں کی تربیت، ایک نسل کی تعمیر

قرآن مجید نے تربیت کی ذمہ داری صرف باپ پر نہیں ڈالی بلکہ فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ۔
(سورۃ التحریم، 6)
یعنی ایک مسلمان گھرانہ صرف کھانے، لباس اور دنیاوی تعلیم سے نہیں بنتا؛ بلکہ گھر کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہاں ایمان، قرآن، نماز، اخلاق اور اہل بیتؑ کی محبت پروان چڑھے۔
❶ بچے کی تربیت بچپن ہی سے شروع ہونی چاہیے
امیرالمؤمنین علیؑ سے منقول ہے:
«العِلْمُ فِي الصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي الحَجَرِ»
"بچپن میں حاصل کیا ہوا علم پتھر پر نقش کی مانند ہوتا ہے۔"
یہ قول کنز الفوائد میں امام علیؑ کی طرف منسوب ہوا ہے اور بعد میں بحار الأنوار میں بھی نقل ہوا ہے۔ �
لہٰذا اگر بچہ چھوٹی عمر میں قرآن کے الفاظ سنتا ہے، نماز دیکھتا ہے، ذکر سنتا ہے، امام حسینؑ کا نام سنتا ہے، اہل بیتؑ کی سیرت سنتا ہے تو یہ سب اس کے باطن میں نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔
اسی لیے ماں کا سب سے بڑا مدرسہ اس کا گھر ہے۔
❷ اولاد کو قرآن سکھانا صرف ایک تعلیمی عمل نہیں، والدین کی ذمہ داری ہے
امام صادقؑ سے مروی روایت میں رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«حَقُّ الوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ ... وَيُعَلِّمَهُ كِتَابَ اللهِ»
"اولاد کا حق اپنے والد پر یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اسے کتابِ خدا کی تعلیم دے۔"
یہ روایت وسائل الشیعہ میں نقل ہوئی ہے۔ �
یہاں غور کریں:
«حق الولد»
یعنی قرآن کی تعلیم صرف یہ نہیں کہ والدین چاہیں تو بچے کو دیں؛ بلکہ اولاد کا ایک حق ہے کہ اسے اللہ کی کتاب سے آشنا کیا جائے۔
❸ ماں کی گود، بچے کی پہلی درسگاہ
بچے کو قرآن سکھانے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پہلے مدرسے جائے۔
جب وہ بولنا شروع کرے، ماں اس کے کان میں قرآن کی آیات ڈال سکتی ہے۔
جب وہ چلنا شروع کرے، ماں اسے نماز کی طرف لے جا سکتی ہے۔
جب وہ سوال کرنا شروع کرے، ماں اسے خدا، رسولؐ اور اہل بیتؑ کی معرفت دے سکتی ہے۔
اور جب وہ کسی چیز کا شوق ظاہر کرے تو ماں اسی شوق کو دین کی تربیت کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔
یہی اس واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو ہے:
ماں نے بچے کو قرآن کے لیے مجبور نہیں کیا؛ قرآن کو بچے کے شوق سے جوڑ دیا۔
ایک سورت یاد کرو → پسندیدہ کھانا۔
ایک پارہ مکمل کرو → پسندیدہ تفریح۔
قرآن مکمل کرو → پسندیدہ سفر۔
یعنی بچے کے اندر یہ احساس پیدا کیا:
قرآن میری خوشی چھیننے نہیں آیا، قرآن میری خوشیوں کو پاکیزہ بنانے آیا ہے۔
البتہ تربیت میں ایک بات ضروری ہے: انعام کو اصل مقصد نہ بنایا جائے۔ بچے کو آہستہ آہستہ اس مقام تک پہنچایا جائے جہاں قرآن اسے صرف انعام کے لیے نہیں بلکہ اللہ سے تعلق اور محبت کی وجہ سے محبوب ہو۔
❹ صالح ماں صرف ایک بچہ نہیں بناتی، نسل بناتی ہے
اس واقعے میں ایک عجیب بات ہے:
ایک بچہ حافظ قرآن بنا تو معلوم ہوا کہ تین بیٹے حافظ قرآن ہیں اور چار سالہ بیٹی بھی تیسواں پارہ یاد کر چکی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کا ماحول بچے کو بناتا ہے۔
ایک بچہ اکیلا تربیت نہیں پاتا؛ پورا گھر اسے تربیت دیتا ہے۔
اگر گھر میں موبائل کی آواز زیادہ ہو تو بچہ موبائل سیکھے گا۔
اگر گھر میں دنیا کی باتیں زیادہ ہوں تو بچہ دنیا سیکھے گا۔
اگر گھر میں قرآن کی تلاوت ہو تو بچہ قرآن سے مانوس ہوگا۔
اگر گھر میں محمد و آل محمدؐ کا ذکر ہو تو بچے کے دل میں محبتِ اہل بیتؑ پیدا ہوگی
❺ امام علیؑ: بہترین میراث
امیرالمؤمنین علیؑ سے ایک نہایت خوبصورت جملہ منقول ہے:
«خَيْرُ مَا وَرَّثَ الآبَاءُ الأَبْنَاءَ الأَدَبُ»
"باپوں کی طرف سے اولاد کے لیے بہترین میراث ادب و تربیت ہے۔"
اس مضمون کی روایات شیعی مصادر میں نقل ہوئی ہیں؛ وسائل الشیعہ میں بھی اولاد کے حق اور حسنِ ادب کے حوالے سے روایات موجود ہیں۔
ذرا سوچیں:
ہم بچے کے لیے گھر چھوڑتے ہیں، دکان چھوڑتے ہیں، زمین چھوڑتے ہیں، بینک بیلنس چھوڑتے ہیں۔
لیکن علیؑ ہمیں بتا رہے ہیں:
سب سے قیمتی میراث مال نہیں، تربیت ہے۔
کیونکہ مال ختم ہوسکتا ہے، لیکن صالح اولاد اپنے والدین کے لیے دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی سرمایہ بن جاتی ہے۔
❻ ماں کی عظمت صرف کھانا پکانے میں نہیں، انسان بنانے میں ہے
یہاں ایک بہت اہم اصلاح بھی ضروری ہے۔
ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ:
"عورت نصف معاشرہ ہے۔"
بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ:
عورت معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار رکھتی ہے، کیونکہ وہ نسلِ انسانی کی ابتدائی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
ماں بچے کو صرف دودھ نہیں دیتی؛ وہ اسے زبان، اخلاق، محبت، خوف، امید، ایمان اور کردار بھی دیتی ہے۔
اسی لیے اگر ایک ماں اپنے گھر میں قرآن کو زندہ کردے تو اس کا اثر صرف اس کے بچوں تک محدود نہیں رہتا۔
ایک حافظ قرآن پیدا ہوتا ہے۔
وہ آگے چل کر اپنے بچوں کو قرآن سکھاتا ہے۔
پھر اس کے بچے اپنی اولاد کو سکھاتے ہیں۔
ایک ماں کی محنت نسلوں تک چل سکتی ہے۔
❼ امام علیؑ کی اپنی تربیتی روش
امیرالمؤمنین علیؑ نے امام حسنؑ کو نہج البلاغہ کے خط 31 میں فرمایا:
«وَإِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالْأَرْضِ الْخَالِيَةِ، مَا أُلْقِيَ فِيهَا مِنْ شَيْءٍ قَبِلَتْهُ»
"نوجوان کا دل اس خالی زمین کی مانند ہے کہ اس میں جو کچھ ڈالا جائے، وہ اسے قبول کرلیتی ہے۔"
یہ تربیت کا بہت بڑا اصول ہے۔
بچے کا دل خالی زمین ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہم اس میں کیا بو رہے ہیں؟
قرآن؟
یا صرف دنیا؟
نماز؟
یا صرف کھیل؟
محبتِ اہل بیتؑ؟
یا صرف شہرت کی محبت؟
اخلاق؟
یا مقابلہ بازی؟
آخری پیغام: ماؤں سے ایک سوال
ہم اپنے بچوں کے لیے بہترین اسکول تلاش کرتے ہیں۔
بہترین ٹیچر تلاش کرتے ہیں۔
بہترین کوچنگ تلاش کرتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا:
میرے بچے کا پہلا استاد کون ہے؟
وہ ماں ہے۔
بچے کا پہلا مدرسہ کون ہے؟
گھر ہے۔
بچے کی پہلی کتاب کون سی ہے؟
اس کی ماں کا کردار۔
اگر ماں قرآن پڑھتی ہے تو بچہ قرآن کو زندگی کا حصہ سمجھتا ہے۔
اگر ماں نماز کے وقت سب کام چھوڑ کر مصلے پر کھڑی ہوجاتی ہے تو بچہ نماز کی عظمت سیکھتا ہے۔
اگر ماں امام حسینؑ کا نام لے کر آنسو بہاتی ہے تو بچہ محبتِ حسینؑ کو صرف کتاب سے نہیں بلکہ ماں کے دل سے سیکھتا ہے۔
اور اگر ماں ہر وقت دنیا، مقابلہ، مال اور نمود و نمائش کی بات کرے تو بچہ بھی اسی دنیا کو اپنا مقصد سمجھ لیتا ہے
۔
اس لیے ہمیں صرف حافظ قرآن بچے نہیں چاہئیں؛ ہمیں قرآن والے بچے چاہئیں۔
صرف قرآن کو حفظ کرنے والے نہیں؛
قرآن پر عمل کرنے والے۔
صرف اہل بیتؑ کا نام لینے والے نہیں؛
اہل بیتؑ کے اخلاق اپنانے والے۔
اور ایسے بچے بنانے کے لیے ہمیں صرف مدرسے نہیں، قرآن والے گھر بنانے ہوں گے۔
ایک صالح ماں ایک گھر سنوارتی ہے؛
ایک صالح گھر ایک نسل سنوارتا ہے؛
اور ایک صالح نسل پورے معاشرے کا رخ بدل سکتی ہے۔
پس اگر ہم معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں تو صرف نوجوانوں کو نہیں، ماؤں کو بھی تربیت دینا ہوگی؛ کیونکہ آج کی ماں ہی کل کی نسل کی معمار ہے۔ 🌹

Maulana Wafa Haider Khan
Maulana Wafa Haider khan is a Teacher, Educator and a Scholar of Arabic Linguistics. He has many years of experience in teaching students of Deen and Fiqha. He is currently a Mudarris (Teaching Staff) at Madrasa e Hadi ATFS, Navi Mumbai.




