ایک مزدور، ایک امیر… اور اصل عزت (روایات کی روشنی میں)

ایک مکمل درسِ حیات
ایک مزدور، ایک امیر… اور اصل عزت (روایات کی روشنی میں)
ایک امیر آدمی اپنی مہنگی گاڑی میں بیٹھا شہر سے گزر رہا تھا کہ اُس کی نظر ایک مزدور پر پڑی… سخت دھوپ، پسینے سے بھیگا لباس… مگر چہرے پر عجیب سا سکون۔
وہ قریب آیا، ہلکے طنز کے ساتھ بولا:
“کیا ملا تمہیں اس محنت سے؟”
مزدور نے مسکرا کر جواب دیا:
“جناب، تھکن ہوتی ہے… مگر نیند سکون کی آتی ہے…”
یہ جملہ صرف ایک سادہ جواب نہیں تھا… بلکہ وہی حقیقت تھی جسے اہلِ بیتؑ نے بارہا بیان فرمایا ہے۔
حدیثِ نور
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
«القَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ»
ترجمہ: قناعت وہ دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
(نہج البلاغہ)
یعنی اصل امیری بینک بیلنس نہیں… دل کی بے نیازی ہے۔
امیر آدمی نے کہا:
“زیادہ محنت کرو، پیسے بچاؤ… ایک دن میری طرح امیر بن جاؤ گے، پھر سکون ملے گا…”
مزدور نے مسکرا کر پوچھا:
“پھر سکون ملے گا؟”
“بالکل!” امیر نے فخر سے کہا۔
مزدور نے جواب دیا:
“جناب، میں تو ابھی بھی سکون سے سوتا ہوں…”
روایتِ اہلِ بیتؑ
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
«مَن قَنِعَ بِمَا رَزَقَهُ اللَّهُ فَهُوَ مِن أَغنَى النَّاسِ»
ترجمہ: جو اللہ کے دیے پر قناعت کرے، وہی سب سے زیادہ مالدار ہے۔
(الکافی)
یہاں “اغنیٰ الناس” (سب سے زیادہ امیر) اُس مزدور کو کہا جا رہا ہے… نہ کہ اُس شخص کو جس کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں۔
اصل عزت کیا ہے؟
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
«مَا أَحْسَنَ تَوَاضُعَ الْأَغْنِيَاءِ لِلْفُقَرَاءِ طَلَبًا لِمَا عِندَ اللَّهِ»
ترجمہ: کتنا خوبصورت ہے کہ امیر لوگ فقراء کے سامنے تواضع کریں، تاکہ اللہ کی رضا حاصل کریں۔
لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا…
فقیر (مزدور) عزت میں امیر تھا… اور امیر انسان حقیقت کی تلاش میں غریب۔
محبتِ اہل و عیال = حقیقی دولت
اسی دوران مزدور کا بیٹا آیا:
“ابو! آج ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے نا؟”
مزدور نے کہا:
“ہاں بیٹا، یہی تو اصل خوشی ہے…”
حدیث
رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں:
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ»
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔
یعنی اصل کامیابی یہ نہیں کہ تمہارے پاس کتنا ہے…بلکہ یہ ہے کہ تم اپنے اپنوں کے ساتھ کتنے خوش ہو۔
امیر آدمی کی خاموشی…
وہ اپنی گاڑی میں واپس بیٹھ گیا… مگر اس بار سر جھکا ہوا تھا۔
کیونکہ آج اُس نے پہلی بار سمجھا:
سکون خریدا نہیں جاتا
عزت دکھائی نہیں جاتی، کمائی جاتی ہے
اور امیری… صرف پیسے کا نام نہیں
آخری... کلامِ مولا علیؑ
«الغِنَى وَالفَقرُ بَعدَ العَرضِ عَلَى اللَّهِ»
ترجمہ: اصل امیری اور فقیری کا فیصلہ اللہ کے سامنے (آخرت میں) ہوگا۔
سبق (نتیجہ)
اصل امیری:
- قناعت میں ہے
- حلال محنت میں ہے
- اہل و عیال کی محبت میں ہے
- اور دل کے سکون میں ہے
اور جو شخص دنیا بھر کا مال رکھ کر بھی بے سکون ہے…وہ درحقیقت سب سے بڑا فقیر ہے۔

Maulana Wafa Haider Khan
Maulana Wafa Haider khan is a Teacher, Educator and a Scholar of Arabic Linguistics. He has many years of experience in teaching students of Deen and Fiqha. He is currently a Mudarris (Teaching Staff) at Madrasa e Hadi ATFS, Navi Mumbai.

