خدا موجود ہے | منکرین وجود (Series - Article 3)

پچھلی مرتبہ جب تاریخ سے سوال کیا تھا تو اسنے ایک حلقے کی جانب رہبری کی تھی کہ انھیں بھی جان لو، کچھ علم میں اضافہ بھی ہو جائے گا اور تمھارے سامنے حقیقتیں بھی واضح ہونے لگیں گیں۔ لہٰذا وجودِ خدا کا انکار کرنے والوں کے بارے کچھ سطحی تفتیش کرتے ہوئے یہ معلومات حاصل ہوئیں۔
اٹھارویں صدی کے عصرِ انکشافات (Age of Enlightenment) کے بعد کفر یا الحاد (منکرینِ خدا) کا منظم اور باضابطہ دفاع کرنے والوں کا ایک حلقہ تشکیل ہونے لگا، جسے پرنٹ میں دیکھا گیا۔ بنا بر ایں یہی حلقہ الحاد کی پہلی قابل شناخت ثقافت تشکیل دیتا ہے۔ اب یہ رجحان مذہبی نہیں رہ گئے۔ بالکہ آگے بڑھ کر اکیسویں صدی تک جدید الحاد (New Atheism) کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ رجحان اب طرز زندگی بن چکے ہیں۔ اس طرز پر ایک انسان مذہب، وحی اور خدا کو غیر جانب دارانہ (Unbiased) زاویہ نظر سے دیکھتا ہے۔ جس کی چار قسمیں ہیں۔
(الف) ریڈیکل الحاد (Radical Atheism)
ریڈیکل الحاد خدا کے وجود اور مذہب کو غیر سائنسی سمجھتا ہے اور اس سے بڑھ کر سماجی طور پر نقصان دہ بھی سمجھتا ہے۔ یہ نظریہ مادّی فلسفے کی بنیاد پر مذہب کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔
(ب) ڈی ازم (Deism)
ڈی ازم خدا کے وجود کا منکر نہیں بلکہ وحی، معجزات اور مذہبی اختیار پر سوال اٹھاتا ہے۔اس فکر کے لوگ نہ صرف خدا پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ ذاتی دینداری کے بھی قائل ہیں۔
(ج) مذہبی روشن خیالی (Religious Enlightenment)
یہ تصور خاص طور پر مذہبی تعصب کی مخالفت کرتا ہے، مگر خدا، عبادت اور اخلاقی روایت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ ایمان اور عقل کے درمیان مصالحتی ماڈل پیش کرتا ہے، جو جدید سیکولر معاشروں کیلئے اہم ہے۔
(د) الحاد مخالف علمِ کلام (Anti-Atheist Apologetics)
اس مکتب فکر کے مطابق بھلے ہی خدا کو نا مانا جائے، مگر یہ اس بات کو مانتا ہے کہ خدا کا مکمل انکار اور لادینیت اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہیکہ عقل یا سائنس انسانی معنی (Meaning) فراہم نہیں کر سکتی۔ یہ نظریہ ایگنوسٹیسزم (Agnosticism) سے ملتا جلتا ہے، جو خدا کا انکار بھی نہیں کرتے اور اقرار بھی نہیں۔
آج کل رجحان جدید الحاد (New Atheism) کی صورت میں نمایاں ہے۔ ایک کتاب "فور ہارس مین" (Four Horsemen) میں پڑھا جا سکتا ہے کہ اس گروہ کے اعتراضات کیا ہیں؟ اور کس بنا پرخدا موجود نہیں؟ ۔ یہ چار شہسوار وہ لوگ ہیں جو جدید الحاد کی نمایاں شخصیات کے طور پر ابھرے ۔یہ مفکرین سائنسی تجربیت (Empiricism)اورعقلی دلیل (Rationalism)کے نقطہ نظر سے خصوصاً ارتقا، نیچرل ازم اور اخلاقیات کی بنیاد پر مذہب کے مخالف ہیں۔ ۔ ان کے دلائل مذہب کے نقصانات اور ثبوت کی کمی پر زور دیتے ہیں۔ ذیل میں ان کے بنیادی خیالات مذکور ہیں۔
(رچرڈ ڈاکنز) Richard Dawkins
ارتقائی ماہر حیاتیات (Evolutionary biologist) ڈاکنز، اپنی کتاب دی گاڈ ڈیلیوژن (The God Delusion) میں بحث کرتا ہے کہ خدا ایک فریب ہے، جسکا کوئی عقلی اورمشاہداتی ثبوت موجود نہیں۔ اسکا خیال ہیکہ یہ نمو اور حیات کی پیچیدگیاں، قدرتی انتخاب (Natural Selection) کی بنا پر وجود میں آتی رہیں۔ وہ اسی سبب کی بنا پر کسی ڈیزائنر(خالق) کے وجود سے انکار کرتا ہے۔ اس کے مطابق مذہب نقصاندہ بھی ہے اوریہ بھی کہ مذہب تشدد کی تحریک دیتا ہے۔
(سیم ہیرس) Sam Harris
نیورو سائنس دان (Neuroscientist) ہیرس، اپنی کتاب دی اینڈ آف فیتھ (The End of Faith) میں، دعویٰ کرتا ہے کہ ایمان دہشت گردی اور فکری جمود، پیدا کرتا ہے۔ اس کی تنقید کا نشانہ اسکے آبائی مذہب سے زیادہ اسلام پر ہے۔ اس کے مطابق استدلال(Reason) اور تدبّر (Meditation) مذہبی کتابوں سے بہتر اخلاقیات پیش کرتے ہیں۔
(کرسٹوفر ہچنس) Christopher Hitchens
جرنلسٹ (Journalist) ہچنس اپنی کتاب گاڈ از ناٹ گریٹ (God Is Not Great) میں اپنا مؤقف اس طرح بیان کرتا ہیکہ مذہب تفتیش (inquiry) پر اطاعت کا مطالبہ کرکے سیاست سے لے کر ذاتی آزادی تک ہر چیز کو زہریلہ بنا دیتا ہے۔ استفسارات (inquisitions) جیسے تاریخی مظالم ثابت کرتے ہیں لبرل ازم مذہب سے مطابقت نہیں رکھتا۔
(ڈینیئل ڈینیٹ) Daniel Dennett
فلسفی (Philosopher) ڈینیٹ نے اپنی کتاب بریکنگ دی اسپیل (Breaking the Spell) میں مذہب کو ایک فطری لیکن پرانی یادداشت کے طور پر دیکھا ہے، اور سائنسی مطالعہ پر زور دیا ہے تاکہ اس بات کو بے نقاب کیا جائے۔ اس کے مطابق شعور اور اخلاقیات ارتقائی (evolutionarily) ہیں، لہٰذا تمام مذہبی باتیں فریب اور دھوکا ہے۔
اب ایسا نہیں کہ مذہب کے خلاف جو دلیلیں یہ مفکر آج پیش کرتے ہیں، اس سے پہلے یہی اعتراضات مذہب پر نہیں کیئے گئے۔ انکا کہنا صرف اس حد تک صحیح ہے کی مذہب ہر سوال کا جواب خاطر خواہ طور پر نہیں دے سکتا، جس طور اور طریقے سے انھیں درکار ہے۔ مگر اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جس طرح سائینس کو سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے کیا اسی طرح مذہب کو بھی سوال پوچھنے کا حق حاصل نہیں؟ کیا مذہب سوال نہیں پوچھ سکتا؟
اگر مذہب یہ پوچھے کی۔۔۔
- کیا ہر انسان سائینس دان، عاقل و فہیم ہو یہ ممکن ہے؟
- اگر ہر انسان سائینس دان نہیں ہو سکتا، کیا کچھ انسان مکمل علم خدا کو جان سکتے ہیں؟
- کیا سائینس نے جو انکشافات کیئے وہ حتمی ہیں؟
- کیا انسانوں کیساتھ نا انصافی اور مظالم صرف مذہبی تاریخ کا حصہ ہیں؟
- کیا سائینسی میدان میں انسانوں پر کوئی ظلم نہیں ہوا؟
- کیا غیر مذہبی لوگوں نے کبھی کسی کا نقصان نہیں کیا؟
- کیا سائینس بھی مذہب کے ہر سوال کا جواب خاطر خواہ طور پر دے سکتی ہے؟
- بالفرض خدا موجود نہیں، اسی طرح بالفرض خدا موجود ہوا تو، نقصان کیا ہوگا؟
- اگر کچھ وقفہ کے بعد سائینس نے خدا کو دریافت کر لیا تو جو فنا ہو چکے انکا کیا بنے گا؟
- کیا نیچرل سیلیکشن، طبعیات، فلکیات اور کیمیا کی کلیدوں کو چیلیج کیا جاسکتا ہے؟
تو ٹھیک ہے اب ان سوالوں پر بھی غور کریں گے۔ انشا اللہ

Sayed Minhal
"Sayed Minhal, is a Software Engineer with an MNC from Mumbai, India. He is an ardent follower and supporter of the Ahlal Bayt AS. Minhal has contributed to multiple technical endeavors in spreading the message of Ahlal Bayt AS"


