خدا موجود ہے (Series - Article 1)

Sayed Minhal
10 January 2026
Share:
خدا موجود ہے (Series - Article 1)

رینی ڈکارٹ نے اپنی کتاب پرنسپلز آف فلوسوفی، Principles of Philosophy (1644) میں ایک نظریہ پیش کیا تھا، cogito, ergo sum، یہ جملہ فرانسسی زبان میں پڑھا جائے گا۔ کوگیٹو ایرگو سم یعنی میں سوچ رہا ہوں، لہٰذا میں موجود ہوں۔

ڈکارٹ کے اس نظریہ کا دارومدار یہ ہیکہ، ہر شئے عدم موجود ہے اگر اس کے وجود کی کوئی علّت موجود نا ہو۔ پر اگر علّت و اسباب موجود ہے تو اس شئے کا وجود لازمی ہے۔ اسنے اپنی ذات کے ہونے نا ہونے کو اسی نظریہ کے ظمن میں رکھتے ہوئے منطق کے اصولوں کے اعتبار سےاسطرح دلیل پیش کی۔

سوال ہے کہ:

کیا میں موجود ہوں؟

فرض کیجیئے میں موجود نہیں۔

اب مشاہدہ یہ ہے۔ سوچا جا رہا ہے۔ کہ ۔ کیا میں موجود ہوں؟

مگر علم اور مشاہدہ سے ثابت ہیکہ سوچنے کے لئے سوچنے والے کا وجود ضروری ہے۔

چونکہ میں ہی یہ سوال کر رہا ہوں کی کیا “میں” موجود ہوں؟

اس مشاہدے سے ثابت ہیکہ “میں” ہی سوچ رہا ہوں۔

چونکہ سوچا جا رہا ہے اور سوچنے کیلیئے سوچنے والے کا وجود ضروری ہے۔

لہٰذا “میں” کے بارے میں “سوچنے” کے لئے “میں” کا وجود بھی ضروری ہے۔

اس بات سے ثابت ہوتا ہیکہ “خود میں بھی موجود ہوں”

چنانچہ ثابت ہوتا ہے کے میں موجود ہوں۔

مغربی دانشوروں میں کئی فلسفی گزرے ہیں جنہوں نے ہر چیز پر سوال کیا اورہر چیز کی نوعیت پر ممکنہ جہت سے بحثیں کی ہیں۔ اپنے اپنے نظریات پیش کیئے، ان میں سے کچھ نظریات اتنے مقبول ہوئے کی وہ روش کی شکل اختیار کر گئے۔ جیسے

ریشنالزم(Rationalism) ،

اسکیپٹسزم(Skepticism) ،

ابسرڈزم(Absurdism) ،

ایگزسٹینسشلزم(Existentialism) ،

یوٹیلیٹیرینزم(Utilitarianism ) ،

نیہیلزم(Nihilism) ،

اسٹوئیسزم(Stoicism) ،

مٹیریلزم(Materialism) ،

سوشیلزم(Socialism) ،

کمیونزم(Communism) ، وغیرہ۔

ان میں سے کچھ نظریات ایکدوسرے سے ہم آہنگ ہوئے اور کچھ متضاد۔ ایک نظریہ دوسرے نظریہ کی بنیاد بنا تو کوئی دوسرے نظریہ کا بالکل مخالف بھی ہوا۔

ان نظریوں کا مقصد ابتدا سے ہی خلقت اور موجودات کی اصلیت، صفت، نوعیت، ہیئت اور نوبت کا مشاہدہ کرنا رہا ہے۔ نظریات سوچنے اور تفتیش کرنے کے طور طریقے کو متعین کرنے لگے اورزیرِغورمضمون کو کس طرز پر سوچا جائے اس زاویہ ءِ نظر کا تعین کرنے میں معاون ہوئے تا کہ طے شدہ ہدف تک پہنچا جائے۔

ایسا نہیں ہیکہ یہ نظریات ماضی قریب میں منظر عام پر آئے ہوں جب معاشرتی رجحان نے خاطر خواہ ترقی دیکھی۔ تاریخ کہتی ہیکہ مغربی طرز اور مغربی فلسفہ پر رینیسانز (Renaissance) کا کافی اثر ہوا۔ جب ذخائیر علوم تک عام طبقہ کی رسائی ہوئی اور پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے علم و دانش کے جواہر صرف خواص نہیں بالکہ عوام کو دستیاب ہوئے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی عقلوں کو علم کا ایندھن ملا نتیجتا فہم و فراست کو توانائی ملی۔ فہمید میں اضافے کیساتھ فکر کی پرواز بلند ہوگئی۔ جب بلندی سے لوگوں نے اپنے حال پرنظر کی تو باتیں واضح ہونے لگیں اور انھوں نے سوال کرنا شروع کیا۔ جیسے ڈکارٹ نے سوال کیا تھا، اپنے وجود پر، اسی طرح کچھ لوگوں نے سوال کیا خدا کے وجود پر۔

معاملہ یہ بھی نہیں کہ یہ نظریات یہ روشیں صحیح ہیں یا غلط، یقینی طور پر سارے نظریات اپنے اپنے طرزِ تحقیق و انکشاف میں عقلا و فہما ثابت شدہ ہیں اور منطقی طور پر جواز رکھتے ہیں۔ معاملہ یہ ہیکہ جب ان نظریات میں اختلاف بھی ہے تو سارے کے سارے صحیح تو نہیں ہو سکتے۔ سوال تو واجب ہے؟

لہٰذا تحقیق کی ضرورت ہیکہ کیا یہ نظریات کامل و بے عیب ہیں؟ کیا یہ روشیں تکمیل تک پہنچی یا ابھی نہیں؟ وہ اسلیئے کی ڈکارٹ کا نظریہ کہتا ہے چونکہ اسباب (علت) موجود ہیں میں بھی موجود ہوں، یہ ثابت ہے، ڈیوڈ ہیوم اسکے بر عکس کہتا ہے کہ اسباب (علت) کے وجود کا اقرار ہماری عقل کی عادت (صفت) کی بنا پر ہے لہٰذا ضروری نہیں کے سوچا جا رہا ہے تو سوچنے والا بھی ہوگا، کیونکہ علت پر اعتبار عقل کی عادت ہے مشاہدہ نہیں۔ اس نظریہ کو نظریہ علت و معلول (Causality) کہتے ہیں۔ بتایئے، آپ کے ذہن عالیہ کے مطابق کون صحیح ہے؟

اب اس بات کو اگر تسلیم کر لیا جائے کے کسی کا وجود ہے تو پھراس سے ایک قدم آگے بڑھ کر البرٹ کامو (Albert Camus) کہتا ہے اگر کوئی موجود ہے تو اس کا مقصد بے معنی ہے، اسکا وجود رائیگاں ہے پھر اسکے برعکس سارتر (Jean-Paul Sartre) کہتا ہے چونکہ وجود ہے اسلیئے مقصد بھی ہونا چایئے۔ اب یہ تضاد Absurdism vs Existentialism کا موضوع ہے۔

ان باتوں کو تمہیدی طور پر تسلیم کرتے ہوئے آئیے ایک سفر پر چلتے ہیں جہاں کچھ نکات پر بات کی جائے اور دیکھا جائے کی۔

“کیا خدا موجود ہے؟” 

اگلی قسط کا انتظار کیجیئے، جلد حاضرِ خدمت ہونگے، انشا اللہ

۔۔۔

Image by WikiImages from Pixabay
Sayed Minhal

Sayed Minhal

"Sayed Minhal, is a Software Engineer with an MNC from Mumbai, India. He is an ardent follower and supporter of the Ahlal Bayt AS. Minhal has contributed to multiple technical endeavors in spreading the message of Ahlal Bayt AS"