منبرِحسینیؑ: خرافات اور شدت پسندی کے درمیان:

منبرِحسینیؑ:  خرافات اور شدت پسندی کے درمیان:

منبرِحسینیؑ: خرافات اور شدت پسندی کے درمیان:

محرم الحرام اور مجالسِ عزا صرف آنسو بہانے یا جذبات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ مکتبِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کی تعلیمات، سیرت، اخلاق، بصیرت اور شعور کی عظیم درسگاہ ہیں۔ منبرِ حسینی درحقیقت وہ مقدس امانت ہے جس کے ذریعے رسولِ اکرمؐ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کا پیغام نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو خطباء، علماء اور ذاکرین اپنے بیانات میں فضائلِ اہلِ بیتؑ، مصائبِ کربلا، تعلیماتِ قرآن، سیرتِ معصومینؑ اور اسلامی اخلاق کو بیان کرتے ہیں، حقیقت میں وہی اس عظیم منبر کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾

“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”

(التوبہ: 119)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین کی بنیاد سچائی، امانت داری اور حق کی پیروی پر قائم ہے۔ اسی لیے منبرِ اہلِ بیتؑ سے ادا ہونے والا ہر لفظ، ہر روایت اور ہر پیغام بھی صداقت اور دیانت کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض افراد نے منبرِ عزا کو تبلیغِ دین اور خدمتِ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے بجائے ذاتی شہرت، گروہی مفادات اور مالی منفعت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کی مجالس میں نہ اہلِ بیتؑ کی حقیقی تعلیمات کو وہ مقام ملتا ہے جس کی ضرورت ہے، نہ ان کے اخلاق و سیرت کو بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی قرآن و سنت کی روشنی میں عوام کی فکری تربیت کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ضعیف اور غیر مستند روایات، من گھڑت حکایات اور جذباتی قصوں کے ذریعے سامعین کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات ان کی گفتگو کا محور اصلاحِ معاشرہ کے بجائے اختلافات کو ہوا دینا، مؤمنین کے درمیان بدگمانی پیدا کرنا اور علماء و مراجع جیسی عظیم و محترم شخصیتوں کو نشانہ بنانا بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں امت کے اندر انتشار، بے اعتمادی اور فکری بے چینی جنم لیتی ہے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

«مَنْ رَوَى عَلَيْنَا حَدِيثًا فَكَذَبَ عَلَيْنَا حُشِرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى»

“جو شخص ہماری طرف کوئی حدیث منسوب کرے جبکہ وہ جھوٹ ہو، وہ قیامت کے دن نابینا محشور کیا جائے گا۔”

(الکافی، ج 1، ص 62)

یہ حدیث ہر خطیب، ذاکر اور مبلغ کو متوجہ کرتی ہے کہ منبرِ اہلِ بیتؑ ایک عظیم امانت ہے، اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ صرف مستند معارف، صحیح فضائل اور معتبر تعلیمات ہی لوگوں تک پہنچائی جائیں، نہ کہ ایسی باتیں جو عقائد کو کمزور اور معاشرے کو انتشار کا شکار بنا دیں۔

تاہم مسئلہ صرف ایک طرف نہیں۔ جس طرح خرافات اور غیر مستند باتیں دین کو نقصان پہنچاتی ہیں، اسی طرح افراط و شدت پسندی بھی امت کے لیے کم خطرناک نہیں۔ چنانچہ دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آ گیا ہے جو اصلاح اور بیداری کے نام پر اعتدال اور حکمت کا دامن چھوڑ بیٹھا ہے۔ چند انقلابی نعرے اور اصطلاحات سیکھ لینے کے بعد وہ خود کو حق و باطل کا آخری معیار سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص اس کی ہر بات سے اتفاق نہ کرے وہ فوراً “دشمنِ انقلاب” قرار پاتا ہے، جو کسی مسئلے میں مختلف رائے رکھے وہ “منحرف” کہلاتا ہے، اور جو عزاداری یا دینی امور کے بارے میں اس کے مخصوص اندازِ فکر سے ہٹ کر سوچے اسے “جاہل” اور “بے شعور” سمجھ لیا جاتا ہے۔

حالانکہ دین، انقلاب اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کا راستہ توازن، بصیرت، تحمل اور حسنِ اخلاق کا راستہ ہے، نہ کہ ہر اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لینے کا۔ اسی لیے شہید رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای طاب ثراہ نے متعدد مواقع پر “سپر انقلابی” طرزِ فکر سے خبردار کیا ہے؛ یعنی ایسا رویہ جس میں انسان جذبات میں آ کر اعتدال، حکمت اور انصاف کو فراموش کر دے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب جوش، شعور سے اور جذبات، بصیرت سے آگے بڑھ جاتے ہیں تو انسان آہستہ آہستہ تنگ نظری اور شدت پسندی کی طرف بڑھنے لگتا ہے، اور اگر اس روش کی اصلاح نہ کی جائے تو اس کی انتہا اسی ذہنیت پر ہوتی ہے جسے تاریخ میں “خارجیت” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؛ ایک ایسی سوچ جو اپنے سوا ہر ایک کو باطل سمجھتی ہے اور امت کے اتحاد کے بجائے انتشار کو جنم دیتی ہے۔

یہ افراد کبھی اصلاح کے نام پر عزاداری اور عزاداروں کی تحقیر کرتے ہیں، کبھی مومنین کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں اور کبھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے شعائرِ حسینیؑ کی بے توقیری کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ نتیجتاً خرافات پھیلانے والے عناصر انہی بیانات کو جواز بنا کر علماءِ اعلام، مراجعِ کرام اور ایران کے اسلامی نظام کے خلاف زہر افشانی شروع کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرہ دو انتہاؤں کے درمیان الجھ کر رہ جاتا ہے؛ ایک طرف خرافات اور دوسری طرف شدت پسندی، جبکہ نقصان پوری ملت اور اس کے فکری شعور کا ہوتا ہے۔

اس طرزِ فکر کا ایک نہایت تشویش ناک اور خطرناک نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ ہمارا ایمانی اور فکری معاشرہ بھی آہستہ آہستہ اسی بیماری میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے جس نے سیاسی میدان میں عوام کی بصیرت اور قوتِ فیصلہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہاں صورتِ حال یہ ہے کہ حق و باطل، اصول و کردار، دیانت و امانت اور خدمت و خیانت کے معیاروں کو پسِ پشت ڈال کر جو بھی رہنما سامنے آ جائے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا نظریے سے ہو، اس کے حق میں زندہ باد کے نعرے بلند کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اصول پسندی کی جگہ شخصیت پرستی اور مفاد پرستی، بصیرت کی جگہ اندھی تقلید، اور اخلاص کی جگہ منافقت نے لے لی ہے۔افسوس کہ اگر یہی روش دینی اور مذہبی حلقوں میں بھی جڑ پکڑتی رہی تو لوگ حق اور باطل کو قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے کے بجائے افراد، گروہوں اور نعروں کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں گے۔ پھر تحقیق کی جگہ تعصب، شعور کی جگہ جذباتیت، اور حق شناسی کی جگہ گروہی وابستگی لے لے گی۔

ایسے ماحول میں نہ صرف سچائی کی پہچان دشوار ہو جاتی ہے بلکہ فتنوں، گمراہیوں اور فکری انحرافات کا راستہ بھی ہموار ہو جاتا ہے، اور ایک زندہ و بیدار ایمانی معاشرہ بتدریج اپنی فکری قوت، بصیرت اور شناخت سے محروم ہونے لگتا ہے۔اسی لیے آج ہمارے معاشرے کو افراد کے ناموں، نعروں، جذباتی انداز اور بلند آوازوں کے بجائے معیارِ حق کی ضرورت ہے۔ معیارِ حق قرآن، تعلیماتِ اہلِ بیتؑ، مستند معارف اور باعمل علماء کی رہنمائی ہے، نہ کہ شخصیات، گروہ یا وقتی جذبات۔

قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے:

﴿فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ﴾

“میرے ان بندوں کو بشارت دے دو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔”

(الزمر: 17-18)

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ محراب و منبر پر آنے والوں کے علمی پس منظر، کردار، اخلاق، تعلیم اور فکری اعتبار کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے، کن علماء کے شاگرد رہے ہیں، ان کا عملی کردار کیسا ہے، اور کیا وہ واقعی اہلِ بیتؑ کے پیغام کے امین ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں باعمل اور معتبر علماء، ائمہ جمعہ اور دینی اداروں کی نگرانی اور تصدیق ناگزیر ہے۔

بلاشبہ یہ کام آسان نہیں، لیکن امت کے ایمان، نسلِ نو کے عقائد اور معاشرے کے فکری مستقبل کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔

اگر ہم نے منبرِ حسینی کی حرمت اور وقار کی حفاظت نہ کی تو خرافات، شخصیت پرستی، انتہاپسندی اور منافقت ہمارے ایمانی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیں گی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ خرافات کے اسیر بنیں اور نہ افراط و تفریط کے شکار۔ نہ منبر کو کاروبار بننے دیں اور نہ اصلاح کے نام پر توہین کا ذریعہ۔ ہمیں ایسے علماء، خطباء اور ذاکرین کو سامنے لانا ہوگا جو علم، تقویٰ، اخلاص، اخلاق اور بصیرت کے ساتھ مکتبِ اہلِ بیتؑ کی نمائندگی کرتے ہیں اور جن کے ذریعے لوگوں کے دل اہلِ بیتؑ سے قریب اور معاشرہ حق کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔خداوندِ عالم ہمیں حق کو حق سمجھنے، باطل کو باطل پہچاننے، منبرِ حسینی کی حرمت کی حفاظت کرنے اور مکتبِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کے حقیقی پیغام کو آنے والی نسلوں تک صحیح شکل میں پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

سیدکرامت حسین شعور جعفری

20/06/2026
Maulana Sayed Karamat Husain

مولانا سید کرامت حسین

مولانا سید کرامت حسین جعفری، گورسائی، پونچھ (جموں و کشمیر) سے متعلقہ ایک عالم دین ہیں۔ دینی و سماجی خدمات کے میدان میں جامعہ فاطمہ زہراءؑ ممبئی، متعدد مساجد اور حسینیوں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مترجم، مصنف اور محقق کی حیثیت سے درجنوں کتابوں اور تین ہزار سے زائد مقالات کے ذریعے تاریخ، عقائد، اخلاق، سیرت، فلسطین، غزہ، قدس اور عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر گراں قدر علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔