تقلید، نیابتِ عامہ اور صحابیتِ امامِ عصر (عج): ایک تحلیلی اور فکری زاویہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقلید، نیابتِ عامہ اور صحابیتِ امامِ عصر (عج): ایک تحلیلی اور فکری زاویہ
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بحث سننے کو ملتی ہے کہ "ہم صرف مولا علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں، لہٰذا ہمیں دورِ غیبت میں مراجع، فقہاء یا آیاتِ عظام کے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔"
اس فکر پر سرسری نگاہ ڈالنے کے بجائے اگر ہم مکتبِ اہل بیتؑ کی کلامی اور تاریخی روح کو سمجھیں تو حقیقت بالکل روشن ہو جاتی ہے۔
1. "ہم کلُّنا محمد" کا فلسفہ اورتسلسل
حدیثِ مبارکہ ہے کہ آئمہ طاہرینؑ نے فرمایا: "اولنا محمد، اوسطنا محمد، آخرنا محمد، کلنا محمد" (ہمارا پہلا بھی محمد ہے، درمیانا بھی محمد ہے، آخری بھی محمد ہے، ہم کے ہم سب محمد ہیں)۔
اس فرمان کی روشنی میں تمام آئمہ علیہ السلام نورِ واحد ہیں۔ اسی اصول کے تحت:
جس طرح ہم رسولِ خدا ص کے مخلص صحابہ کی عزت و تکریم کرتے ہیں،
جس طرح ہم مولا علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے وفادار صحابہ (مثلاً سلمان، ابوذر، میثم تمار، مسلم بن عقیل، حبیب بن مظاہر) کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں،
اور جس طرح ہم امام زین العابدینؑ سے لے کر امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے دور کے راویوں، فقہاء اور صحابہ (مثلاً زرارہ، جابر بن یزید جعفی، ابوبصیر) کا احترام دین کا حصہ سمجھتے ہیں...
توجہ طلب بات یہ ہے کہ بارہویں امام، حضرت حجت بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر آ کر یہ تسلسل کیسے ٹوٹ سکتا ہے؟ کیا امامِ عصر (عج) کے صحابہ اور ان کے دین کے مددگار موجود نہیں ہیں؟ یا ہم انہیں پہچاننے میں مغالطے کا شکار ہو رہے ہیں؟
2. دورِ غیبت میں امام (عج) کے نائب اور صحابی کون ہیں؟
غیبتِ کبریٰ کا مطلب امام کا وجودِ مبارک سے محروم ہونا نہیں، بلکہ ان کی ظاہری دسترسی کا نہ ہونا ہے۔ خود امامِ زمانہ (عج) نے غیبتِ کبریٰ میں پیش آنے والے نئے دینی و معاشرتی مسائل (حوادثِ واقعہ) میں عوام کی رہنمائی کے لیے اپنی توقیعِ مبارک میں حدیثِ مبارکہ تحریر فرمائی جو بارہویں تاجدارِ امامت حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی جانب سے اپنے ایک مخلص صحابی اسحاق بن یعقوب کے نام صادر فرمائی گئی۔ اسی معروف توقیع (مقدس خط) میں تحریر فرمایا:
"وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ"
ترجمہ: "اور لیکن جو ناگہانی واقعات اور مسائل (حوادثِ واقعہ) پیش آئیں تو ان میں ہماری احادیث کے راویوں (فقہاء اور مجتہدین) کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔"
یہ معتبر روایت شیعہ کتبِ احادیث و فقہ میں درج ذیل بنیادی مآخذ کے ساتھ محفوظ ہے:
- کمال الدین و تمام النعمۃ (شیخ صدوق، جلد 2، صفحہ 484)
- کتاب الغیبۃ (شیخ طوسی، صفحہ 290)
- الاحتجاج (شیخ طبرسی، جلد 2، صفحہ 284)
- وسائل الشیعہ (شیخ حر عاملی، جلد 27، صفحہ 140)
پس اس دور میں جو علماء، مراجعِ کرام، مجاہدین اور مفکرین دینِ اسلام کا دفاع کر رہے ہیں، معارفِ اہل بیتؑ کو پھیلا رہے ہیں اور باطل قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں—وہ دراصل اسی سلسلے کی کڑی اور امامِ عصر (عج) کے سپاہی و ناصر ہیں۔
3. تکریمِ علماء اور نصرتِ امام
چاہے وہ فقہ و اجتہاد کے میدان میں شریعت کی پاسبانی کرنے والے مراجع عظام ہوں (جیسے آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، یا ماضی کے عظیم مراجع جیسے آیت اللہ خمینی) یا مکتب کی حفاظت کے لیے میدانِ عمل میں قربانیاں دینے والے سپاہ سالار اور شہداء (جیسے شہید قاسم سلیمانی، شہید عارف حسین حسینی، اور دیگر معتبر شخصیات)—یہ تمام نفوسِ قدسیہ امامِ زمانہ (عج) کے راستے کے خدمتگار اور ان کی نصرت کے علمبردار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں بھی مختلف فکر، حتیٰ کہ دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے مخلص افراد (جیسے جون اور وہب نصرانی) شامل تھے جنہوں نے حق کا ساتھ دیا۔ اسی طرح آج بھی جو شخص بھی—خواہ وہ کسی بھی شعبۂ زندگی سے ہو—عدل، حق اور معارفِ اہل بیتؑ کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے، وہ امام کے ہدف کا شریکِ کار ہے۔
نتیجہ فکر:
تقلید یا مراجع کی پیروی کوئی نیا مذہب یا کسی معصوم کے مقابلے میں نیا راستے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ معصومؑ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے، امام کے مقرر کردہ راویوں اور فقہاء کے ذریعے معصوم کی بات کو سمجھنے کا نام ہے۔
اگر ہم پچھلے تمام آئمہ کے صحابہ کی تکریم کو عینِ دین سمجھتے ہیں، تو دورِ غیبت میں امامِ عصر (عج) کے ناصرین، علماء، مراجع اور پاسبانوں کا احترام و تکریم بھی اسی سلسلے کا تسلسل اور معرفتِ امام کی علامت ہے۔
ذاکرہ کاظمہ عباس ✍️

ذاکرہ کاظمہ عباس
خواہر کاظمہ عباس ممبئی سے تعلق رکھنے والی ذاکرہ ہیں اور اہل بیت ع کے فضائل و مناقب سے متعلق عوام الناس کو آگاہ کرنے کے لیے انتہائی سرگرم رہتی ہیں۔ علاوہ از ایں تنظیم المکاتب، لکھنؤ کی ایک ایسوسی ایٹ معلم ہیں۔



