تعزیت کا حقیقی اور سچا انداز

تعزیت کا حقیقی اور سچا انداز

عزاداری صرف ظاہری مراسم کا نام نہیں، بلکہ دل کی ایک گہری کیفیت کا نام ہے۔ مجالس کی رونق، جلوسوں کی عظمت، نوحوں کی تاثیر اور ماتم کی حرارت اپنی جگہ بے حد اہم ہیں۔ یہ سب محبتِ امام حسین علیہ السلام کے زندہ مظاہر ہیں اور انہی کے ذریعے صدیوں سے کربلا کا پیغام نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ لیکن اس تمام اہتمام کے ساتھ ایک اور جہت بھی ہے جو شاید عزاداری کی اصل روح سے زیادہ قریب ہے۔ہمارے جلوس اور اجتماعات اپنے تقاضے رکھتے ہیں۔ وہاں نظم و ضبط بھی ضروری ہوتا ہے، ترتیب بھی اور صف بندی بھی۔ یہ سب ایک ناگزیر ضرورت ہے اور اس کے بغیر وسیع اجتماعات کا انتظام ممکن نہیں۔ لیکن غمِ حسین علیہ السلام صرف انتظام کا عنوان نہیں، احساس کا عنوان بھی ہے۔

اس لیے ان مبارک دنوں میں کبھی کچھ وقت اپنے دل کے لیے بھی مخصوص ہونا چاہیے؛ ایسا وقت جب انسان دنیا کی مصروفیات سے الگ ہو کر خاموشی سے کربلا کو یاد کرے۔

کبھی تنہا بیٹھ کر یہ سوچے کہ فرات کنارے پیاس کیسی تھی، خیموں میں بے قراری کیسی تھی، علی اصغر علیہ السلام کی تڑپ کیسی تھی، زینب سلام اللہ علیہا کے دل پر کیا گزری ہوگی، اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے عزیز نواسے امام حسین ع نے اپنے عزیزوں کی لاشوں کے درمیان وہ آخری ساعتیں کس طرح گزاری ہوں گی۔

جب انسان ان مصائب کو دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو عزاداری ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جاتا ہے، بیان نہیں کیا جاتا۔ کربلا کا غم بھی انہی دردوں میں سے ایک ہے۔ یہ دل کے اس گوشے میں اترتا ہے جہاں الفاظ کی رسائی نہیں ہوتی۔ وہاں نہ تقریر ہوتی ہے، نہ نوحہ، نہ کوئی اور ذریعہ؛ صرف ایک دل ہوتا ہے جو مظلومِ کربلا کو تعزیت پیش کر رہا ہوتا ہے اور چند آنسو ہوتے ہیں جو عقیدت، محبت اور وفاداری کی زبان بن جاتے ہیں۔

شاید یہی وہ کیفیت ہے جس میں عزاداری اپنی حقیقی تاثیر دکھاتی ہے۔ انسان صرف ثواب کی نیت سے نہیں روتا بلکہ اپنے دل کو حسین علیہ السلام کے غم سے جوڑ دیتا ہے۔ پھر یہی غم اس کی زندگی میں نور بن کر اترتا ہے، اس کے کردار میں سچائی پیدا کرتا ہے، اس کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے اور اسے ظلم کے مقابلے میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

محرم اور عاشورا ہمیں صرف یاد منانے کی دعوت نہیں دیتے، بلکہ یاد کو دل میں اتارنے کی دعوت دیتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مجالس، جلوسوں اور عزاداری کی تمام برکتوں سے فیضیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں بھی ایک چھوٹی سی کربلا آباد کر لیتے ہیں، جہاں وہ خاموشی سے امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں کو پرسہ پیش کرتے ہیں۔ شاید اسی اخلاص میں وہ نور پوشیدہ ہے جو انسان کی دنیا بھی سنوار دیتا ہے اور آخرت بھی۔

رو غمِ شبیر میں اے دل بھلا ہو جائے گا

کم سے کم اجرِ رسالت تو ادا ہو جائے گا

بنتی جاتی ہے میرے دل پر شہیدوں کی شبیہ

جیسے کچھ دن میں مرا دل کربلا ہو جائے گا

-قاضی سید وصی احمد - آوارہ سلطانپوری

تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری

25/06/2026
Maulana Sayed Karamat Husain

مولانا سید کرامت حسین

مولانا سید کرامت حسین جعفری، گورسائی، پونچھ (جموں و کشمیر) سے متعلقہ ایک عالم دین ہیں۔ دینی و سماجی خدمات کے میدان میں جامعہ فاطمہ زہراءؑ ممبئی، متعدد مساجد اور حسینیوں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ مترجم، مصنف اور محقق کی حیثیت سے درجنوں کتابوں اور تین ہزار سے زائد مقالات کے ذریعے تاریخ، عقائد، اخلاق، سیرت، فلسطین، غزہ، قدس اور عالمِ اسلام کے اہم مسائل پر گراں قدر علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔