مولانا وفا حیدر خان ایک مدرس، معلم اور عربی لسانیات کے اسکالر ہیں۔ طلباء کو دین اور فقہ کی تدریس کا کئی سالوں کا تجربہ ہے۔ وہ فی الحال مدرسہ (عج)، نوی ممبئی میں مدرس (ٹیچنگ اسٹاف) ہیں
پانی پر چلنا، ہوا میں اُڑنا، یا زمین سمیٹ لینا — یہ سب ظاہری جلوے ہیں۔ اصل کرامت یہ ہے کہ انسان کا دل زندہ ہو جائے۔ جو دل کا مالک بن گیا، وہ حقیقت میں انسان بن گیا۔
یہ تحریر وضو کے باطنی راز کو بیان کرتی ہے کہ یہ صرف جسمانی صفائی نہیں بلکہ روحانی طہارت کا عہد ہے۔ چہرہ دھونا گناہوں سے پاکیزگی، ہاتھ دھونا نیکیوں کی نیت، سر کا مسح غلط خیالات سے دوری، اور پاؤں کا مسح برائی سے بچنے کی علامت ہے۔ وضو دراصل ایک عہد ہے کہ انسان اپنی زندگی کو گناہوں سے پاک کر کے صرف اللہ کی رضا کے لیے گزارے۔
یہ حدیث امام علیؑ کے بے مثال مقام و منزلت کو بیان کرتی ہے کہ اگر نبی اکرم ﷺ کو امت کے غلو میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپؑ کی شان کو اس قدر بلند فرماتے کہ لوگ آپ کے قدموں کی خاک کو بھی تبرک و شفا کے طور پر لیتے۔ اس سے علیؑ کی عظمت بھی ظاہر ہوتی ہے اور نبی ﷺ کی حکمت بھی کہ امت کو شرک و گمراہی سے بچایا۔
جنسِ مخالف کو دیکھ کر لطف اندوز ہونا وقتی خوشی دیتا ہے مگر انجام افسردگی، ناکام شادی، عبادت سے غفلت، گھریلو تنازعات، عزت کی کمی، ایمان کی کمزوری اور گناہ کی طرف مائل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ 🔑 اسلام کا واضح پیغام ہے: اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو۔
چنگیز خان نے بخارا کے مسلمانوں کو فریب دے کر آپس میں لڑا دیا۔ بعض لوگوں نے لالچ میں آکر اپنے ہی بھائیوں سے غداری کی۔ مگر فتح کے بعد چنگیز نے انہی غداروں کو بھی قتل کرا دیا، یہ کہہ کر کہ جو اپنے بھائیوں کے نہ ہوئے، وہ ہمارے کیا ہوں گے۔
یہ حدیثِ نبوی ﷺ میں اللہ تعالیٰ کی سات اہم وصیتوں کا ذکر ہے۔ ان میں اخلاص، معافی، سخاوت، تعلقات کی بحالی، ذکر، فکر اور عبرت شامل ہیں۔ مؤمن کی زندگی ذکرِ الٰہی، عفو و درگزر اور غور و فکر سے معمور ہونی چاہیے۔ زبان، دل، نگاہ اور عمل سب اللہ کی یاد سے جُڑے رہیں۔
1. کامیابی صرف چیزوں کو حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا اصل کامیابی ہے۔ 2. ہر ناکامی کے پیچھے اللہ کی کوئی حکمت چھپی ہو سکتی ہے، جو ہمیں بعد میں سمجھ آتی ہے۔ 3. منفی سوچ کو چھوڑ کر قرآن کی آیات سے حوصلہ لینا سیکھو، خاص طور پر سورہ بقرہ کی آیت 216۔ 4. اللہ پر اعتماد رکھو، کیونکہ وہ جانتا ہے جو ہم نہیں جانتے۔
چار درزی ایک گلی میں اپنی دکانیں چلاتے تھے، ہر ایک دوسروں سے بہتر بننے کی کوشش میں لگا تھا۔ تین درزی خود کو شہر، ملک اور دنیا کا بہترین کہنے لگے، جبکہ چوتھے نے صرف "اس گلی کا بہترین" لکھا۔ سادگی، خلوص اور حقیقت پسندی نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ اصل کامیابی دکھاوے میں نہیں، بلکہ اپنے دائرے میں سچائی اور محنت سے بہترین بننے میں ہے۔
یومِ عرفہ 9 ذی الحجہ کو آتا ہے اور حج کا اہم ترین دن ہے، جس میں وقوفِ عرفات ادا کیا جاتا ہے۔ اس دن کو "عرفہ" کہنے کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں پہچان، معرفت، تعارف اور اللہ کی طرف سے بندوں کی تعریف شامل ہیں۔ امام حسینؑ نے اسی دن دعائے عرفہ میں اللہ سے گہرا روحانی تعلق ظاہر کیا، جو عرفان و بندگی کا عظیم نمونہ ہے۔ یہ دن ہمیں اللہ کی قربت، عاجزی اور شکرگزاری کا سبق دیتا ہے۔
ایک نکاح کی تقریب میں دلہن کے سسر نے سادگی اور حقیقت پسندی سے مہر کم رکھا۔ رشتہ داروں کے اعتراض کے باوجود، انہوں نے داماد کی مالی حالت کو مدنظر رکھا۔ ان کا مقصد بیٹی کا پُرسکون گھر بسانا تھا، نہ کہ دکھاوا کرنا۔ پندرہ سال بعد یہی فیصلے خوشحال اور باعزت رشتے کی بنیاد بنے۔
معرفت کا سفر پانچ مراحل پر مشتمل ہے: سب سے پہلے دل میں طلب اور بے چینی پیدا ہوتی ہے، پھر انسان علم کی روشنی حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ سچائی کو اپنانے کا خود سے وعدہ کرتا ہے، اور دن بھر اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے (مراقبہ)۔ آخر میں وہ دن کا محاسبہ کرتا ہے تاکہ غلطیوں کی اصلاح ہو سکے۔ یہ پانچ مراحل انسان کو اللہ کی قربت اور معرفت کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
استاد فاطمی نیاؒ ایک ولی اللہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے سورہ اعراف کی ایک آیت پر غور کیا اور محسوس کیا کہ اس میں کوئی باطنی راز ہے۔ اسی سوچ میں وہ ایک روحانی کیفیت میں داخل ہوئے جہاں شیطان ان کے سامنے ظاہر ہوا اور بحث کا چیلنج دیا۔ ولی اللہ نے علمی دلائل سے اسے شکست دی، مگر شیطان نے کہا کہ اس کا مقصد صرف ایک گھنٹہ ضائع کرنا تھا۔ اس پر انہیں آیت کا باطنی مفہوم سمجھ آیا کہ شیطان انسان کو اس کی کمزوری کے مقام سے ورغلاتا ہے — حتیٰ کہ عبادت، علم یا نیکی کے ذریعے بھی۔