تاریخ
اسلامی تعلیمات، تاریخ، اور روحانی رہنمائی کے لیے آپ کا قابل اعتماد ذریعہ
تاریخ
تاریخ
احادیث
سیرت معصومین
سیرت معصومین
سیرت معصومین
سیرت معصومین
علماء کے جواب
بچوں کی دنیا
مشکلات زندگی
علماء کے جواب
تاریخقارئین کی محبت کے مطابق ترتیب دیا گیا
کمیونٹی اور سوسائٹیسب سے زیادہ پسند کیا گیااعمال کو شریعت اور دلیل کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نیتوں پر فتوے صادر کرنے سے بچنا چاہیے، اور کسی کی خدمت کو "تجارت" کہنے سے پہلے اس کے پیچھے چھپی عمر بھر کی محنت، ریاضت اور قربانی کا بھی احترام کرنا چاہیے۔

آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی رضوان اللہ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی گہری علمی بصیرت کے ساتھ انکا اعتدال پسند فکری مزاج تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک علم کا مطلب صرف زیادہ جاننا نہیں بلکہ وقت پر بولنا اور وقت پر خاموش رہنا ، اختلاف میں انصاف کرنا، حکم لگانے میں احتیاط برتنا اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے صبر سے تحقیق کرنا بھی تھا۔

حسینؑ کا نام لینا آسان ہے، حسینؑ کے اصولوں پر چلنا مشکل؛ یزید پر لعنت کرنا آسان ہے، اپنے زمانے کی یزیدیت کو بے نقاب کرنا مشکل۔ اس لیے سچی عزاداری وہ ہے جو آنکھ میں آنسو کے ساتھ دل میں شعور، زبان پر حق اور کردار میں حسینؑ کا حوصلہ پیدا کرے۔

فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نیا جوتا ملے گا۔

مومنین کو بھی اب جاگنا ہوگا۔ ہر بلند آواز علم نہیں ہوتی، ہر جذباتی انداز اخلاص کی دلیل نہیں ہوتا اور ہر منبر پر بیٹھنے والا امانت دار بھی نہیں ہوتا۔ منبر کی حفاظت صرف خطیب کی نہیں، سامع کی بھی ذمہ داری ہے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ دھوکا کھانا شروع کر دیتی ہے۔

نجف سے کربلا تک کا یہ سفر دراصل انسان کے باطن کا سفر ہے۔ یہ انسان کو خود غرضی سے ایثار، بے حسی سے ہمدردی، خوف سے حوصلے، مایوسی سے امید، تفرقے سے اتحاد اور مقصد سے خالی زندگی سے بامقصد حیات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت کے بہتر مستقبل کا زندہ منشور ہے۔

جب عزاداری علم کے بجائے رسم، فکر کے بجائے عادت اور مقصد کے بجائے ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے تو اس کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی عزاداری وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے ایمان کو مضبوط کرے، اس کے اخلاق کو سنوارے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا کرے۔

والدین جب ہماری فکر کرتے ہیں تو اکثر ہمیں ان کی باتیں روک ٹوک محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے محبت، خوف اور ہماری سلامتی کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔آج اگر آپ کے والدین آپ کی فکر کرتے ہیں، تو ان کی باتوں کو بوجھ نہ سمجھی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے-- من حقر مؤمناً مسكيناً أو غير مسكين لم يزل الله عز وجل خاقراً له ماقتاً (جامع الاسعادات 215/2) (جو شخص کسی مسکین یا غیر مسکین کی تحقیر کرے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ذلیل و خوار کرتا ہے اور اللہ اس سےدشمنی رکھتا ہے)

محرم ہمیں صرف رونے اور غم منانے کا نہیں، بلکہ رک کر سوچنے اور اپنے عمل کا جائزہ لینے کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر ہم عزاداری کے نام پر ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرتے چلے گئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن پیغامِ حسین علیہ السلام رسم و رواج کے ہجوم میں دب کر رہ جائے۔

آج صدیوں بعد بھی مالک اشتر کا نام لیا جاتا ہے تو صرف ایک سپہ سالار یاد نہیں آتا، بلکہ وفا کا ایک عہد، شجاعت کی ایک تاریخ، اطاعت کی ایک مثال، عدل کا ایک محافظ اور علیؑ کا ایک ایسا جاں نثار سامنے آ جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی حق کے لیے وقف کر دی۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی عزاداری وقار، سنجیدگی، خلوص اور سچائی کا نام ہے۔ اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اسے فطری انداز میں پیش کیا جائے، کیونکہ دل سے نکلنے والی ایک سچی آہ اور ایک بے ساختہ آنسو، ہزار مصنوعی تاثرات اور بناوٹی حرکات سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔

روایت — امام علی علیہ السلام "لَا تَكُنْ سَبُعًا ضَارِيًا تَغْتَنِمُ أَكْلَهُمْ" (اپنے اہل و عیال پر درندے کی طرح نہ بنو). (نہج البلاغہ) تشریح: گھر میں سختی اور غصہ انسان کو درندگی کے قریب کر دیتا ہے، جبکہ اسلام گھر کو سکون اور رحمت کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات تقصیر (معرفت میں کمی) اور غلو (مخلوق کو خدائی صفات دینا) دونوں انتہاؤں کی نفی کرتی ہیں۔ ائمہؑ نے مقصر کی تلافی و اصلاح کا دروازہ کھلا رکھا کیونکہ وہ صحیح معرفت ملتے ہی اطاعت و بندگی کی طرف لوٹ آتا ہے، مگر غلو کو سختی سے مسترد کیا کیونکہ غالی فرائض چھوڑ کر توحید کی حدیں پامال کر دیتا ہے۔ محبتِ اہلِ بیتؑ کا حقیقی معیار ذاتی دعوے نہیں بلکہ خالص توحید اور شرعی اطاعت کی پابندی ہے۔ اصل دین یہی اعتدال ہے کہ نہ ان کے مقام کو گھٹایا جائے اور نہ ربوبیتِ الٰہی کی حدود کو توڑا جائے۔

اسلامی فکر میں رہبری اقتدار یا خاندانی نسبت کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، فکری بصیرت، مشاورت اور جواب دہی پر مبنی ایک مقدس دینی امانت ہے۔ قرآنی و احادیثی معیار کی روشنی میں تحریر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کا جائزہ لیتی ہے، جنہیں شدید معاشی اور جیو پولیٹیکل دباؤ کے دور میں زمامِ قیادت سنبھالنی پڑی ہے۔ ایک حقیقی رہبر کی بنیادی قوت یہ ہے کہ وہ بحران کے وقت قوم میں اتحاد، اعتماد اور حوصلہ پیدا کرے۔ بالآخر، دینی قیادت کو ہمیشہ شخصیت کے بجائے اصول، اور شہرت کے بجائے عملی کردار اور اہلیت کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔

یہ تحریر نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو رحمت، عدل اور اعلیٰ اخلاق کا سرچشمہ قرار دیتی ہے، جنہوں نے زمینیں فتح کرنے کے بجائے دلوں کو مسخر کیا اور انسان کے باطن کو بدل کر رکھ دیا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے معاشرتی تفاوت اور قبائلی عصبیت کو مٹا کر انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور تقویٰ کو بنایا۔ سیرت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے محبت محض زبانی دعووں، محافل یا القابات تک محدود نہ رہے بلکہ ہمارے شب و روز اور معاملات میں دکھائی دے۔ اصل بندگی اور وفا یہ ہے کہ ہم اپنے قول و فعل، دیانت داری اور رحم دلی میں آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی حقیقی تصویر بنیں۔

اس لیے ایک انصاف پسند مؤرخ کے لیے امام حسنؑ کی شہادت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ “جعدہ نے زہر دیا یا نہیں”، بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جعدہ کو کس نے آمادہ کیا، کیوں کیا، اور اس قتل سے سیاسی طور پر فائدہ کس کو پہنچا؟

یہی حضرتِ زینبؑ سلام اللہ علیہا کے خطبے کی فتح تھی، یہی کربلا کا حقیقی انتقام تھا، اور یہی وہ ابدی انقلاب کی بازگشت ہے جسے نہ تلوار روک سکی، نہ تخت دبا سکا، نہ وقت مٹا سکا، اور نہ قیامت تک کوئی مٹا سکے گا۔

یہ صرف ایک جوان کی شہادت نہیں تھی، یہ حسینؑ کے دل کا ٹکڑا تھا جو خاکِ کربلا پر بکھر گیا تھا۔ یہ رسولِ خداؐ کے جمال کا آخری عکس تھا جو خون میں نہا گیا تھا۔ یہ جوانی، حسن، ادب، شجاعت اور وفاداری کی مشترکہ شہادت تھی۔

یہ اقتباس صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی روشنی میں یمن اور نجد کے درمیان تقابل پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کی نرم دلی، ایمان اور حکمت کی تعریف فرمائی، ان کی سرزمین کے لیے برکت کی دعا کی اور حوضِ کوثر پر انہیں ترجیح دینے کی بشارت دی۔ اس کے برعکس، جب نجد کے لیے دعا کی درخواست کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں فتنوں، زلزلوں اور شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔ مجموعی طور پر یہ متن نبوی ارشادات کی روشنی میں یمن کی تاریخی اور روحانی فضیلت کو واضح کرتا ہے۔

ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنا تاریخی حقائق اور علمی دیانت کے صریح منافی ہے، کیونکہ یہ خطہ عہدِ رسالت سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک اسلامی علوم کا عظیم مرکز رہا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ کی قربتِ نبوی سے لے کر صحاحِ ستہ کے ائمۂ حدیث، فقہاء اور مفسرین (جیسے غزالی، رازی اور طبری) تک، اسلامی ورثے کی تشکیل میں اس سرزمین کا کردار بنیادی رہا ہے۔ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار تقویٰ ہے نہ کہ نسل یا آباؤ اجداد کا قدیم مذہب؛ لہٰذا سیاسی یا نظریاتی اختلاف کو دلیل کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایک پوری قوم کو صدیوں پرانے متروک مذہب کا طعنہ دے کر جھٹلایا جائے۔

یہ تحریر امتِ مسلمہ کی تاریخ میں اقتدار پرستی اور ثقلین (قرآن و اہلِ بیتؑ) کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتی ہے۔ جہاں ملوکیت اور حکمرانوں نے مذہب کو ظلم، جبر اور خونی فتوحات کے جواز کے لیے استعمال کیا، وہیں اہلِ بیتؑ اور ان کے پیروکاروں نے کربلا کی مانند اصول، عدل اور قربانی کی لازوال تاریخ رقم کی۔ معاصر دور میں ۱۹۷۹ء کے بعد کا ایران اسی نظریاتی مزاحمت اور خود مختاری کا ایک عملی نمونہ پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ تحریر کا بنیادی حاصل یہ ہے کہ تاریخ فتوحات اور اقتدار سے نہیں، بلکہ ظلم کے دور میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے کردار سے یاد رکھی جاتی ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہیکہ یہ تفتیش صرف اٹھارہ سال پہلے کی گئی اور ٹیکنولوجی بھی جدید ہے جس سے خود سائینسدان پوری طرح واقف کار نہیں۔ مگر اس قدرتی مظہر اور شیرِ مادر کے کرشمے سے واقفیّت کسی کو نہ تھی۔ سوائے اس کے کی جس پر قراٰن مجید نازل ہوا اور جو اس کتاب کا وارث ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام اہل تشیع کے گیارہویں امام اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے والد گرامی ہیں، جنہوں نے اپنی مختصر حیات کا بیشتر حصہ سامرا میں عباسی حکومت کی کڑی نظربندی میں گزارا۔ سخت ترین سیاسی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، آپ نے "نظامِ وکالت" کو منظم کر کے امت کی فکری اور دینی رہنمائی کا سلسلہ بحال رکھا۔ آپ اپنی علمی عظمت، طویل عبادات، اور اعلیٰ اخلاقی کردار کے سبب اپنے معاصرین، حتیٰ کہ اپنے نگرانوں اور غیر مسلموں میں بھی بے حد محترم تھے۔ آپ کا سب سے اہم تاریخی کارنامہ اپنے فرزند کی ولادت کو محفوظ رکھ کر منصبِ امامت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا، جس کے بعد ۲۶۰ ہجری میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

یہ اقتباس اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد علاقوں کی تسخیر یا ملوکیت کا قیام نہیں، بلکہ انسانیت کی اخلاقی، فکری اور روحانی اصلاح تھا۔ قرآنی تعلیمات، صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی فتح جبر و اقتدار کے بجائے امن، انصاف اور دلوں کی تبدیلی میں مضمر ہے۔ لہٰذا، بعد کی تاریخ میں ہونے والی عسکری توسیع کو دین کا اصل مقصد نہیں بلکہ محض مسلمانوں کے تاریخی واقعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آخر میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، جنہوں نے دین کی بقا کسی بادشاہت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ علم، اخلاق اور بے مثال قربانیوں کے ذریعے یقینی بنائی۔
سماجی اسلامی تعلیمات اور کمیونٹی کی تعمیر
کردار سازی اور خود کو بہتر بنانا
معصومین کی طرز حیات و تعلیمات
اسلامی تاریخ اور تاریخی واقعات
مختلف اسلامی موضوعات
قراٰنی اٰیات کی ضمنی تفہیم
زندگی کے مسائل اور اسلامی حل
دینی سوالات کے علماء کے جوابات
روایات و اقوالِ معصومین
دینی مسائل اور فقہ
اسلام میں خواتین اور ان کے فرائض و حقوق
بچوں کی تعلیم و تربیت میں اسلامی رہنمائی اور والدین کے لیے ہدایات"
اسلامی، مذہبی، دینی اور ادبی شاعری
اعلان
ہم شیعہ قلم کاروں، علمائے کرام، ذاکرین، اور مصنفین (خواتین و حضرات) کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خدمتِ دین اور اصلاح معاشرہ کے نقطہ نظر سے www.darsemahdi.in کی معاونت میں قلم اٹھائیں۔
یہ ویب سائٹ آپ کو اپنے مضامین اردو، ہندی، مراٹھی اور انگریزی میں شائع کر کے دینِ مبین اور انسانیت کی خدمت کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے، تاکہ اس علمی و دینی سفر میں شامل ہو کر اہل بیتؑ کی بارگاہ سے اجرِ عظیم حاصل کیا جا سکے۔
رابطہ کریں:
ای میل: zikremahdi@gmail.com
واٹس ایپ / فون: 9987364540