رسولِ خدا ﷺ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں تقصیر (کمی) اور غلو (انتہا پسندی/حد سے تجاوز) دو متضاد انتہائیں ہیں:
- تقصیر سے مراد اہلِ بیت علیہم السلام کے حقیقی مقام، حقوق اور ثابت شدہ فضائل کی معرفت میں کوتاہی اور کمی ہے۔
- غلو سے مراد محبت اور عقیدت میں ایسی حد پار کر جانا ہے جہاں مخلوق کے لیے وہ اوصاف، صفات یا مطلق اختیارات تسلیم کر لیے جائیں جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔
اسی وجہ سے ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام نے تقصیر کی اصلاح اور تلافی کا دروازہ کھلا رکھا، مگر غلو سے شدید بیزاری، مذمت اور براءت کا اظہار فرمایا۔
غلو کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان
شیخ طوسی نے اپنی کتاب الامالی میں فضیل بن یسار کے واسطے سے امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان نقل کیا ہے:
قَالَ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:
«احْذَرُوا عَلَى شَبَابِكُمُ الْغُلَاةَ لَا يُفْسِدُونَهُمْ، فَإِنَّ الْغُلَاةَ شَرُّ خَلْقِ اللَّهِ، يُصَغِّرُونَ عَظَمَةَ اللَّهِ، وَيَدَّعُونَ الرُّبُوبِيَّةَ لِعِبَادِ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّ الْغُلَاةَ لَشَرٌّ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا.»
ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: «إِلَيْنَا يَرْجِعُ الْغَالِي فَلَا نَقْبَلُهُ، وَبِنَا يَلْحَقُ الْمُقَصِّرُ فَنَقْبَلُهُ.»
فَقِيلَ لَهُ: «كَيْفَ ذَلِكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ؟»
قَالَ: «لِأَنَّ الْغَالِيَ قَدِ اعْتَادَ تَرْكَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ وَالْحَجِّ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَى تَرْكِ عَادَتِهِ وَعَلَى الرُّجُوعِ إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَبَدًا، وَإِنَّ الْمُقَصِّرَ إِذَا عَرَفَ عَمِلَ وَأَطَاعَ.»
(حوالہ: شیخ طوسی، الأمالي، مجلس ۳۳، حدیث ۱۲)
ترجمہ:
"اپنے نوجوانوں کو غالیوں سے بچاؤ، کہیں وہ انہیں بگاڑ نہ دیں۔ بے شک غالی اللہ کی مخلوق میں بدترین لوگ ہیں؛ وہ اللہ کی عظمت کو گھٹاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! غالی یہود، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔"
پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"اگر غالی پلٹ کر ہماری طرف آئے تو ہم اسے قبول نہیں کرتے، جبکہ مقصر ہمارے ساتھ آ ملے تو ہم اسے قبول کر لیتے ہیں۔"
عرض کیا گیا: "اے فرزندِ رسولِ خدا! یہ کیسے؟"
آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"اس لیے کہ غالی نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج ترک کرنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے؛ چنانچہ وہ اپنی اس عادت کو چھوڑنے اور اللہ عزوجل کی اطاعت کی طرف پلٹنے پر قادر نہیں رہتا۔ جبکہ مقصر جب حقیقت اور معرفت حاصل کر لیتا ہے، تو وہ عمل کرتا ہے اور اطاعت بجا لاتا ہے۔"
حدیث مبارکہ کی تشریح
اس روایت میں امام علیہ السلام نے غلو کے ہولناک خطرات کی واضح نشان دہی فرمائی ہے: اللہ کی عظمت کو کم کرنا، مخلوق کے لیے ربوبیت کا دعویٰ کرنا، اور بالآخر فرائضِ الٰہی کو ترک کر دینا۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام نے خاص طور پر نوجوانوں کو غالیوں سے محفوظ رکھنے کی تاکید فرمائی؛ کیونکہ یہ محض کوئی انفرادی فکری لغزش نہیں، بلکہ ایسا انحراف ہے جو عقیدہ اور عمل دونوں کو بنیادی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، مقصر کے حوالے سے امام علیہ السلام کا رویہ اصلاح، قبولیت اور درگزر کا ہے۔ اس کی دلیل بھی خود امامؑ نے واضح فرما دی: "جب وہ معرفت پا لیتا ہے تو عمل کرتا ہے اور اطاعت بجا لاتا ہے۔" یعنی جب اس پر حقائق واضح ہو جاتے ہیں، تو وہ فوراً اطاعت اور نیک اعمال کی طرف لوٹ آتا ہے۔
یہ نکتہ اس روایت کے بنیادی فرق کو نمایاں کرتا ہے:
- تقصیر ایک ایسی کوتاہی ہے جسے تعلیم، تربیت اور راہنمائی کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔
- غلو حدود الٰہی کو پامال کرنے کا نام ہے، جو انسان کو توحید اور شریعتِ مطہرہ سے دور لے جاتا ہے۔
اس کا سبق بالکل واضح ہے: اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت انسان کو اللہ کی عبادت سے آزاد نہیں کرتی، بلکہ اس کے دل میں بندگی اور اطاعت کو مزید پختہ بناتی ہے۔ امام علیہ السلام کا مقصد تقصیر کی تعریف کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ کمی اور کوتاہی کی اصلاح ممکن ہے، مگر غلو انسان کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں سے حق کی طرف واپسی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے مقصر کے لیے فرمایا: "ہم اسے قبول کر لیتے ہیں"، جبکہ غالی کے لیے فرمایا: "ہم اسے قبول نہیں کرتے۔"
غلو کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے غالیوں سے کھلم کھلا بیزاری اور براءت کا اعلان فرمایا۔ اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے نام پر کیے جانے والے غلو کو کبھی بھی محبت، عقیدت یا ولایت کا کوئی قابلِ قبول درجہ قرار نہیں دیا؛ بلکہ اسے اپنی پاکیزہ تعلیمات سے کھلی سرکشی سمجھ کر مسترد فرمایا۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی سچی محبت وہی ہے جو توحید کے تابع ہو اور اللہ کی بندگی کے دائرے میں سموئی ہو۔ ایسی ہر عقیدت جو اللہ کی ربوبیت کی حدود کو پامال کرے، وہ اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت نہیں بلکہ ان کے اساسی فرمودات سے بغاوت ہے۔
قرآنِ مجید کا قطعی فیصلہ ہے:
اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
"اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔" (سورۃ الزمر: ۶۲)
اور ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ
"بے شک اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ہے۔" (سورۃ الذاریات: ۵۸)
چنانچہ اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت، ولایت اور تمام مسلمہ فضائل برحق اور ناقابلِ انکار ہیں، مگر تخلیق، رزاقیت اور مطلق ربوبیت کے اختیارات صرف اور صرف خدائے وحدہ لا شریک کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مخلوق کے لیے ان صفات کو مستقل، خود مختار اور بالذات تسلیم کرنا کوئی معمولی کلامی بحث نہیں، بلکہ ایک سنگین انحراف ہے جو توحید کی بنیادوں کو مجروح کرتا ہے۔ اللہ کے اذن سے کسی تصرف کا موضوع ایک الگ کلامی بحث ہے، مگر کسی بندے کو مستقل خالق، رازق یا رب قرار دینا بالکل دوسرا اور باطل معاملہ ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت میں کمی کرنی پڑے تو یہ ہرگز محبت نہیں بلکہ صریح غلو ہے؛ اور غلو کے بارے میں ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کا اٹل فیصلہ ہمیشہ براءت، انکار اور شدید رد کا رہا ہے۔
اسی طرح "مقصر" کی اصطلاح کو بھی بلا سوچے سمجھے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہر وہ شخص جو کسی خاص تعبیر، رسمی عمل یا غیر بنیادی دعوے کو قبول نہ کرے، وہ لازماً اہلِ بیت علیہم السلام کا دشمن یا کمزور عقیدے والا نہیں بن جاتا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص نماز میں کسی مخصوص جملے کو اس لیے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ اسے جزوِ نماز سمجھنے کے لیے شرعی دلیل کا محتاج مانتا ہے، تو یہ عمل قطعی طور پر اس کی ولایت یا محبت کے انکار کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ اعتقادی اصطلاحات کا فیصلہ جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ معروضی معیارات اور ٹھوس دلائل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اصل میزان اعتدال و توازن ہے: نہ اہلِ بیت علیہم السلام کے حقیقی مقام میں کمی کی جائے، اور نہ ہی ان کے نام پر اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات میں ایسی شراکت گھڑی جائے جو توحید سے متصادم ہو۔ تقصیر کا مداوا سچی معرفت سے ہوتا ہے، اور غلو کا علاج حدودِ توحید کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان درحقیقت اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کو محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے درست سمت عطا فرماتا ہے۔ محبت بھی ہو، ولایت کا اقرار بھی ہو اور فضائل کا اعتراف بھی، لیکن مرکز اللہ کی توحید رہے اور منزل اس کی خالص بندگی ہو۔ اسی اعتدال میں اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت بھی سلامت رہتی ہے اور دینِ اسلام بھی غلو کے تباہ کن انحراف سے محفوظ رہتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا حتمی معیار ہمارے ذاتی دعوے نہیں، بلکہ خود ائمہ علیہم السلام کی تعلیمات ہیں۔ جو راستہ توحید، عبادت اور اطاعت کی طرف لے جائے، وہی سچی محبت کا راستہ ہے؛ اور جس موڑ پر ان کے نام پر اللہ کی ربوبیت کی حدود مٹنے لگیں، وہیں رک جانا ہی ان کے پاکیزہ مشن کی سچی پاسداری ہے۔






