رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ یمن کے بارے میں ارشاد فرمایا:
«أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں؛ وہ زیادہ نازک احساسات اور نرم دلوں کے مالک ہیں۔ ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے۔“
📚 صحیح بخاری: 4388 | صحیح مسلم: 52
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن کے لیے دعا بھی فرمائی:
«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا»
”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔“
📚 صحیح بخاری: 7094
اہلِ یمن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزید فرمایا:
«إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ»
”بے شک میں اپنے حوض (حوضِ کوثر) کے کنارے کھڑا ہو کر اہلِ یمن کے لیے راستہ بنانے کی خاطر لوگوں کو پیچھے ہٹاتا رہوں گا۔“
📚 صحیح مسلم: 2301
یہ یمن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روشن گواہی ہے:
ایمان یمنی ہے، حکمت یمنی ہے، ان کے دل نرم ہیں، اور یمن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے ذریعے برکت عطا کی گئی۔
اس کے برعکس، جب بعض صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نجد کے لیے دعا کی درخواست کی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»
”وہاں زلزلے اور فتنے رونما ہوں گے، اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔“
📚 صحیح بخاری: 7094
یمن کے لیے نبوی دعا اور اہلِ یمن کے لیے نبوی مدح و توصیف تاریخ کی ایک روشن اور ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔
🌿 «الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
(ایمان یمنی ہے، اور حکمت بھی یمنی ہے۔)



