کچھ روز قبل ہونے والا واقعہ ذہن میں بالکل تازہ ہے۔ اپنے والد، بھائیوں، گھر والوں اور اصحاب کی لاشیں بھی پیشِ نظر ہیں۔ قید کی حالت میں میلوں کا سفر مخدراتِ عصمتؑ کے ساتھ طے کرکے اس دیار میں پہنچے ہیں جو محمدﷺ و آلِ محمدؑ کی دشمنی کا سرچشمہ ہے۔ تھکن، غم، بھوک و پیاس کی شدت اور مصائب و آلام اپنے بامِ عروج پر ہیں۔ مزید ذلت کا سامان یہ کیا گیا ہے کہ محل میں داخل ہونے کے لیے انتظار کی زحمت بھی دی جا رہی ہے۔
اسی اثنا میں ایک شامی بوڑھا وہاں پہنچا اور آپؑ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’خدا کا شکر ہے کہ تم لوگ اسلامی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ خدا نے فتنہ گروں کا خاتمہ کر دیا۔‘‘ یہ، وہ وغیرہ وغیرہ۔ وہ بہت دیر تک بڑبڑاتا رہا اور جو کچھ مغلظات بک سکتا تھا، آپؑ اور آپؑ کے اجدادؑ کے بارے میں بکتا رہا۔
کون ہے جو یہ سب برداشت کرے اور جھنجھلا نہ اٹھے؟ کس میں اتنا ضبط ہے کہ اپنے شہید بابا اور شہید دادا کی شان میں گستاخی ہوتا دیکھے اور چپ رہے؟ لیکن امامؑ یہ سب گردن جھکائے سنتے رہے۔
قطعِ پوشاکِ تحمل قدِ سجادؑ پہ ہے
خاتمۂ صبر کا شبیرؑ کی اولاد پہ ہے
مرزا سلامت علی دبیرؔ علیہ الرحمۃ
جب وہ بوڑھا بکواس کرتے کرتے خود ہی تھک ہار کر چپ ہو رہا تو امامؑ ایک مہربان استاد کی مانند اس کے نزدیک ہوئے اور نہایت احترام سے گویا ہوئے:
’’کیا آپ نے قرآن پڑھا ہے؟‘‘
وہ بوڑھا شخص حیران ہوا اور بولا: ’’کیوں نہیں؟ میں نے بارہا قرآن پڑھا ہے۔‘‘
پھر امامؑ نے آیتِ مودّت کی تلاوت فرمائی:
﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾
(سورۃ الشوریٰ، آیت 23)
اور پوچھا: ’’کیا یہ آیت یاد ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا: ’’ہاں! بالکل یاد ہے۔‘‘
امامؑ نے اس کے جواب پر فرمایا: ’’اس آیت میں خدا نے رسول اللہﷺ کے جن قرابت داروں سے مودّت کا حکم دیا ہے، واللہ! رسول اللہﷺ کے وہ رشتہ دار ہم ہیں۔‘‘
اس بوڑھے کی روح میں ایک ہلچل سی پیدا ہوئی۔ وہ حیران و پریشان کھڑا تھا کہ امامؑ نے رسول اللہﷺ کے قرابت داروں کا حق ادا کرنے والی آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ﴾
(سورۃ الإسراء، آیت 26)
اور پوچھا: ’’کیا یہ آیت پڑھی ہے؟‘‘
اس شامی کے پاس سوائے اثبات میں سر ہلانے کے کوئی چارہ نہ تھا۔
امامؑ نے فرمایا: ’’اس آیت کے مصداق بھی ہم ہی ہیں۔‘‘
اس شامی کے ضمیر کی دنیا میں زلزلہ برپا ہوگیا اور وہ پھٹی ہوئی نظروں سے امامؑ کی طرف دیکھنے لگا۔
امامؑ پھر گویا ہوئے اور اب آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
(سورۃ الأحزاب، آیت 33)
پھر وہی سوال دہرایا: ’’اے مردِ پیر! یہ آیت بھی نظروں کے آگے سے گزری ہے کہ نہیں؟‘‘
وہ شامی بوڑھا فوراً بول اٹھا: ’’جی! میں نے یہ آیت متعدد بار پڑھی ہے۔‘‘
امامؑ نے اطمینان سے فرمایا:
’’اس آیت میں جن اہلِ بیتِ رسولﷺ کی عصمت و طہارت کی گواہی خدا نے دی ہے، وہ معصوم ہم ہیں۔‘‘
یہ سب سن کر وہ بوڑھا زمین پر بیٹھ گیا اور زار و قطار رونے لگا۔ امامؑ کی بارگاہ میں معافی کی درخواست کی، پھر خدا کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کیے اور تین مرتبہ کہا:
’’یا الٰہی! میری توبہ قبول فرما۔ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔ میں تیرا کلام پڑھتا رہا اور تعصب میں اس قدر غرق رہا کہ تیری آیات میں کبھی غور ہی نہ کیا! خدایا! میں تیرے مصطفیٰ بندوں کے دشمنوں اور قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سبق:
نامساعد اور مشکل حالات میں بھی صبر، شکیبائی، تحمل، برداشت، اخلاق اور معاملہ فہمی سے بڑے بڑے مسائل پر قابو پا کر صورتِ حال کو اپنے حق میں پلٹایا جا سکتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
استفادہ: تاریخِ عاشورہ — ڈاکٹر ابراہیم آیتی






