اسلامی فکر میں رہبری محض ایک منصب، ایک لقب یا کوئی سیاسی عنوان نہیں؛ بلکہ ایک مقدس دینی ذمہ داری ہے۔ ایک حقیقی رہبر وہ ہے جو علم کو عمل سے، تقویٰ کو بصیرت سے اور دور اندیشی کو اجتماعی جواب دہی سے ہم آہنگ کرے۔ قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
”اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (علم والوں) سے پوچھو۔“ (سورۃ النحل: 43)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ پیچیدہ معاملات میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا دینی فریضہ اور فکری و عقلی ضرورت دونوں ہے۔
تاہم، ہر صاحبِ علم دینی رہبری کا اہل نہیں ہوتا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے:
«فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِنًا لِنَفْسِهِ، حَافِظًا لِدِينِهِ، مُخَالِفًا لِهَوَاهُ، مُطِيعًا لِأَمْرِ مَوْلَاهُ، فَلِلْعَوَامِّ أَنْ يُقَلِّدُوهُ»
”فقہاء میں سے جو شخص اپنے نفس کی حفاظت کرنے والا، اپنے دین کا نگہبان، اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے والا اور اپنے مولا کے حکم کا اطاعت گزار ہو، عوام پر لازم ہے کہ وہ اس کی تقلید کریں۔“
یہ روایت دینی قیادت کے بنیادی اوصاف کو بیان کرتی ہے: علم کے ساتھ تقویٰ، کردار کے ساتھ خود احتسابی، اور اقتدار و اختیار کا استعمال صرف اور صرف اطاعتِ الٰہی کے تابع رہ کر کرنا۔ لہٰذا، محض علمی شہرت یا ظاہری وجاہت کسی انسان کو قیادت کا اہل نہیں بنا دیتی۔
عصرِ غیبتِ کبریٰ میں یہ اصول مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام سے منسوب معروف توقیع میں ارشاد ہوا:
«وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ»
”اور پیش آنے والے نئے حوادث و واقعات میں ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں اللہ کی حجت ہوں۔“
یہاں ”حوادثِ واقعہ“ کا تصور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دین صرف ماضی کے مسائل کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ہر نئے عہد کے ابھرتے ہوئے سوالات، سیاسی و سماجی حالات اور پیش آمدہ تغیرات میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی ناگزیر ہے۔
قرآنِ کریم اجتماعی امور میں باہمی مشاورت کو بھی بنیادی ستون قرار دیتا ہے:
﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾
”اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔“ (سورۃ الشوریٰ: 38)
مزید برآں، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی حکم دیا گیا:
﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾
”اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ رکھیے۔“ (سورۃ آلِ عمران: 159)
یوں اسلامی قیادت علم، اصول پسندی، مشاورت اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کا نام ہے۔
اسی کسوٹی کی روشنی میں، آج ایران کی قیادت کو سمجھنا ایک اہم معاصر موضوع بن جاتا ہے۔ انقلابِ اسلامی کے بعد، امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ولایتِ فقیہ پر مبنی نظام کی عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کے بعد ولی امرِ مسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک طویل عرصے تک اس منصب کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے بعد، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (دام ظلہ العالی) موجودہ رہبر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں، ان کا دورِ قیادت ایک ایسے مرحلے میں ہے جب ایران کو شدید عسکری، معاشی اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
یہاں بنیادی بحث کسی شخصیت کی محض ستائش نہیں، بلکہ قیادت کے حقیقی معیارات کا اطلاق ہے۔ اگر امامِ عصر علیہ السلام نے نئے حوادث میں اہلِ علم کی طرف رجوع کی ہدایت فرمائی اور اہلِ بیت علیہم السلام نے فقیہ کے لیے دین کی حفاظت، نفسانی خواہشات کی نفی اور اطاعتِ خداوندی کو لازمی شرائط قرار دیا، تو موجودہ رہبر کو بھی انہی اصولوں کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔ اس لیے رہبری کی شناخت نام، نسب، شہر یا شہرت سے نہیں، بلکہ علمی اہلیت، دینی وابستگی، اخلاقی کردار، معاصر تقاضوں کی آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری سے ہوتی ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی قیادت ایک ایسے موڑ پر سامنے آئی ہے جو غیر معمولی بصیرت اور فیصلہ کن عزم کا متقاضی ہے۔ جنگ کے خطرات، بیرونی دباؤ، معاشی مشکلات اور عالمی کشیدگیوں کے دوران قومی حوصلے کو بلند رکھنا—اور قومی وحدت کا تحفظ کرتے ہوئے ریاستی مفادات کو دینی اقدار سے ہم آہنگ رکھنا—ایک بڑا امتحان ہے۔ حالیہ اطلاعات اہم قومی و خارجہ امور میں ان کی فیصلہ کن اتھارٹی کے استعمال کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کے انتخاب کے بعد، ایران کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات، حمایت کے مظاہرے اور ریاستی و عسکری اداروں کی مضبوط وابستگی واضح طور پر اس گہرے قومی اعتماد کی ترجمانی کرتی ہے جو انقلاب کے حامی طبقات میں ان کی قیادت کو حاصل ہے۔ ایرانی قوم کے لیے ان کی قیادت محض ایک آئینی عہدہ نہیں، بلکہ اسلامی انقلاب کے تسلسل، قومی خودمختاری، دینی تشخص اور اجتماعی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ بحرانوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود، ان کے گرد پیدا ہونے والا یہ اجتماعی اعتماد ان کی حکمتِ عملی، دور اندیشی، استقامت اور رہبری کی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم انہیں صحت، قوت، حکمت، بصیرت اور استقامت عطا فرمائے؛ ملتِ ایران کی خدمت اور اسلامی نظام کے تحفظ میں ان کی نصرت فرمائے؛ اور ان کی قیادت کو ایران کے لیے امن، وقار، وحدت اور خیر کا سبب بنائے۔ آمین۔
ایک رہبر کی اصل طاقت محض آئینی اختیارات میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں پنہاں ہوتی ہے جو وہ آزمائش کے دور میں قوم کے اندر بیدار کرتا ہے۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو امام خمینی اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے بعد بدلتے ہوئے حالات میں ملک کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری درپیش ہے—ایسی ذمہ داری جس میں ایران کے دینی تشخص، قومی اتحاد اور عوامی فلاح کا تحفظ شامل ہے۔
قرآنِ پاک ایک جامع ضابطہ بیان کرتا ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“ (سورۃ الحجرات: 13)
اسلامی قیادت کو صرف اقتدار سے نہیں، بلکہ تقویٰ، اہلیت اور احتساب سے ناپا جاتا ہے۔ منصب جتنا بڑا ہوگا، ذمہ داری اتنی ہی گراں بار ہوگی۔
عصر کے رہبر کو سمجھنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ شخصیت پر اصولوں کو، القاب پر اہلیت کو، دعووں پر عمل کو، اور شہرت پر کردار کو ترجیح دی جائے۔ زمانے بدلتے ہیں، بحرانوں کی نوعیتیں تبدیل ہوتی ہیں اور نئے چیلنجز جنم لیتے رہتے ہیں؛ مگر دین کی حفاظت، حق کی پہچان اور صالح قیادت کی ضرورت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ یہ قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کا وہ ابدی معیار ہے جو ہر دور کی دینی رہبری کو پرکھنے کی بنیادی کسوٹی فراہم کرتا ہے۔




