ایران کو ’’مجوسی‘‘ (آتش پرست) کا طعنہ دینے والوں کو سب سے پہلے تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کسی قوم کے صدیوں پرانے قبل از اسلام مذہبی پس منظر کی بنیاد پر آج بھی اسے تحقیر آمیز نام سے پکارنا نہ تو علمی رویہ ہے، نہ تحقیقی اور نہ ہی منصفانہ۔ اگر تاریخ کو تعصب کے بجائے غیر جانبداری کے ساتھ دیکھا جائے، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ فارس—اور اس سے جڑا وسیع تر ایرانی و خراسانی تہذیبی خطہ—محض ایک جغرافیائی نام نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ میں علم و ادب، تہذیب، فکری بصیرت اور دینی خدمات کا بنیادی گہوارہ رہا ہے۔
ایرانیوں کا اسلام کے ساتھ تعلق کسی وقتی سیاسی فتح سے شروع نہیں ہوا تھا؛ بلکہ ایرانی النسل شخصیات تو خود عہدِ نبوی میں ہی اسلام کے دامن سے وابستہ ہو چکی تھیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کا ہے، جنہیں تاریخی شواہد کی رو سے فارسی النسل اولین مسلمان اور ایرانیوں کے ابتدائی قبولِ اسلام کی روشن علامت تسلیم کیا جاتا ہے۔
حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کا سفرِ حیات اس تاریخی ربط کا نہایت پروقار اور خوبصورت آغاز ہے۔ وہ فارس کے ایک ایسے حق جو انسان تھے جنہوں نے سچائی کی تلاش میں طویل سفر کیے، مختلف مذہبی ماحول دیکھے، مسلسل عرفان کی جستجو کی اور بالآخر رسولِ اکرم ﷺ کے قدموں تک پہنچ کر اسلام قبول کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی بنے اور انہیں اہلِ بیتؑ سے نسبتِ خاص کا بے مثال مقام حاصل ہوا۔ غزوۂ خندق کے موقع پر، جب مہاجرین اور انصار دونوں فخر سے حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) کو اپنی صفوں میں شمار کرنے کے خواہاں تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ»
"سلمان ہم میں سے ہے، یعنی ہمارے اہلِ بیت سے ہے۔"
(حوالہ: امام حاکم نیشاپوری فی المستدرک علی الصحیحین، اور امام بیہقی فی دلائل النبوۃ)
یہ اعلان اس بنیادی اسلامی اصول کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی قدر و منزلت نسل، زبان یا جغرافیے سے طے نہیں ہوتی؛ بلکہ ایمان، اخلاص، معرفت اور کردار سے ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک عجمی/فارسی مرد کو اہلِ بیت کی صف میں شامل فرما کر یہ ثابت کر دیا کہ فارس اور اسلام کے رشتے کو محض جنگی و سیاسی فتوحات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) اس ربط کی وہ ابدی علامت ہیں جہاں سرزمینِ فارس، سچی طلبِ حق اور اسلام کی عالمگیر روح ایک ساتھ یکجا ہو جاتی ہیں۔
ایرانی اور خراسانی خطوں کی علمی فضا صدیوں پر محیط ایک وسیع ارتقا کی حامل رہی ہے۔ ایران میں اسلام کی قبولیت کا عمل تدریجی تھا اور صدیوں تک جاری رہا؛ دسویں صدی عیسوی (چوتھی صدی ہجری) تک ایرانی خطہ عمومی طور پر اسلام کے دائرے میں آ چکا تھا، اگرچہ مختلف علاقوں کی رفتار اور حالات میں فرق تھا۔ اس کے بعد یہ سرزمین اسلامی علوم کی تدوین اور ترقی کا اہم ترین مرکز بن گئی۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ اگرچہ بخارا، ترمذ، نسا اور ہرات جیسے تاریخی شہر آج کے سیاسی ایران کی سرحدوں میں نہیں ہیں، لیکن وہ اس دور کے وسیع تر ایرانی و خراسانی علمی و تہذیبی دائرے کا بنیادی حصہ تھے۔ اس لیے انہیں ایرانی فکری دنیا کا حصہ قرار دینا تاریخی لحاظ سے بالکل درست ہے، چاہے وہ دورِ حاضر کے سیاسی نقشے سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔
حدیث کے بنیادی اور مستند ذخیرے کا جائزہ ہی اس علمی عظمت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے:
- امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا تعلق بخارا سے تھا۔
- امام مسلم بن حجاج نیشاپوریؒ نیشاپور سے وابستہ تھے۔
- امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ ترمذ کے رہنے والے تھے۔
- امام احمد بن شعیب نسائیؒ نسا کے رہنے والے تھے۔
- امام ابن ماجہ قزوینیؒ قزوین سے تعلق رکھتے تھے۔
- امام ابو داؤد سجستانیؒ سجستان کے رہنے والے تھے۔
اسی علمی فضا نے امام حاکم نیشاپوریؒ، امام بیہقیؒ اور امام ابن خزیمہؒ جیسے عظیم ترین محدثین پیدا کیے، جن کی تصانیف آج بھی اسلامی حدیثی روایت کی بنیاد ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اس پورے فکری ماحول کو نظر انداز کر کے ایرانی تہذیب کو ایک حقارت آمیز لفظ میں قید کر دے، تو وہ درحقیقت اسلامی علمی تاریخ کے ایک بہت بڑے حصے کو جھٹلا رہا ہے۔
یہ علمی خدمات صرف حدیث تک محدود نہیں تھیں:
- قدیم تراجم و تذکرہ جات میں امام ابو حنیفہؒ کے خاندان کے فارسی الاصل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
- امام ابو حامد غزالیؒ طوس کے فرزند تھے۔
- امام فخر الدین رازیؒ رے سے تعلق رکھتے تھے۔
- امام محمد بن جریر طبریؒ آمل کے باشندے تھے۔
امام غزالی کی احیاء علوم الدین، امام رازی کی مفاتیح الغیب، اور امام طبری کی جامع البیان و تاریخ الرسل والملوک اسلامی الہیات، تفسیر اور تاریخ کے وہ مایہ ناز اور بے مثال شاہکار ہیں جن کے بغیر اسلامی فکر ادھوری ہے۔ نیشاپور، طوس، رے، قزوین، آمل اور خراسان کے مراکز نے فقہ، کلام، فلسفہ، تصوف، ادب اور تاریخ کے میدان میں بے شمار ائمہ و فقہاء پیدا کیے۔
یہاں ایک کھلے فکری تضاد کو سمجھنا چاہیے: ایک شخص صحیح بخاری کا مطالعہ کرے، صحیح مسلم سے دلیل لائے، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابو داؤد کی روایات بیان کرے، حاکم اور بیہقی کی تحقیقات سے مستفید ہو، اور غزالی، رازی و طبری کی تصانیف پڑھے؛ لیکن اسی سانس میں وہ ان کے پورے تہذیبی و تاریخی ماحول کو ’’مجوسی‘‘ کہہ کر ٹھکرا دے—تو یہ کھلا منافقانہ اور غیر علمی رویہ ہے۔ علماء کی کتب سے روشنی حاصل کرنا اور ان کے تہذیبی پس منظر پر کیچڑ اچھالنا ہرگز علمی دیانت نہیں ہے۔
ایران کی مذہبی تاریخ کوئی سادہ یا یک طرفہ نہیں ہے جسے ایک فقرے میں بیان کر دیا جائے۔ اسلام کے بعد صدیوں تک یہاں اہلِ سنت کا ایک مضبوط اور وسیع علمی نظام موجود رہا، جبکہ اہلِ بیتؑ کی محبت اور شیعی علمی مکتبِ فکر کے رجحانات بھی ہر دور میں متوازی طور پر چلتے رہے۔ رفتہ رفتہ شیعی علمی روایت نے تحقیق، تدریس، اجتہاد، مناظرے اور تصنیف کے ذریعے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ بعد ازاں، صفوی دور ایک بڑا سیاسی و تاریخی موڑ ثابت ہوا جس میں اثنا عشری تشیع کو سرکاری مذہب کا درجہ ملا اور آبادی کا تناسب بدلا۔ تاہم تشیع کوئی محض شاہی فرمان سے وجود میں نہیں آیا تھا، بلکہ صفویوں سے صدیوں پہلے بھی شیعی فکری دھارے یہاں گہرائی کے ساتھ موجود تھے؛ صفویوں نے صرف اسے ریاستی و ادارہ جاتی سرپرستی فراہم کی۔
مزید برآں، یہ مذہبی تبدیلی بھی راتوں رات واقع نہیں ہوئی تھی۔ تاریخی شواہد گواہی دیتے ہیں کہ سولہویں صدی کے وسط تک قزوین، شیراز اور ہمدان جیسے بڑے شہروں میں کثیر تعداد میں سنی آبادی موجود تھی، اور 1720ء کے لگ بھگ بھی ایک عثمانی مبصر نے لکھا تھا کہ ایران کی تقریباً ایک تہائی آبادی سنی مکتبِ فکر سے وابستہ تھی۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ ایران کا موجودہ مذہبی تناظر صدیوں کے طویل فکری، تاریخی اور سماجی عمل کا نتیجہ ہے۔
لہٰذا ایران کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے ان ادوار کو الگ الگ فہم کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے:
- قدیم قبل از اسلام کے فارسی مذاہب۔
- اسلام کی تدریجی، پرامن اور صدیوں پر محیط قبولیت۔
- اہل سنت کی صدیوں پرانی مضبوط علمی و فقہی روایت۔
- اہلِ بیتؑ کی تعلیمات پر مبنی شیعی فکر کا ارتقا اور نشوونما۔
- صفوی عہد میں تشیع کا ریاستی و سرکاری مذہب بننا۔
ان تمام تاریخی تغیرات اور علمی ادوار کو بھلا کر ہر چیز پر ’’مجوسی‘‘ کا لیبل چسپاں کر دینا کوئی تاریخی تحقیق نہیں، بلکہ حقائق سے صریح آنکھیں چرانا ہے۔
اسلام کسی انسان کی توقیر کو اس کے آبا و اجداد کے پرانے مذہب سے نہیں تولتا۔ قرآنِ مجید کا اصول بالکل واضح ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
(سورۃ الحجرات: ۱۳)
اگر آپ کو ایرانی علماء کے کسی کلامی یا فقہی موقف سے اختلاف ہے، تو اس پر علمی دلائل کے ساتھ مکالمہ کیجیے۔ اگر آپ کو ایرانی ریاست کی کسی سیاسی یا خارجہ پالیسی سے اختلاف ہے، تو اس پالیسی پر مدلل تنقید کیجیے۔ اگر کسی عالم یا قائد کے نظریے پر اعتراض ہے، تو شائستگی اور دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔ مگر کسی پوری قوم کو اس مذہب کے نام سے تحقیر کا نشانہ بنانا جس سے ان کے اسلاف چودہ سو سال پہلے دستبردار ہو چکے ہوں، اخلاقی اور فکری بددیانتی ہے۔
پورا ایران ’’مجوسی‘‘ ہے کہہ کر رد کر دینا تاریخی اور تہذیبی کم علمی کی علامت ہے۔ کسی قوم کا ماضی ضرور پڑھنا چاہیے، مگر اس کے ماضی کے پرانے نقوش کو آج کی نسلوں کی دائمی شناخت اور گالی بنا دینا سراسر ناانصافی ہے۔ اگر یہی منفی اصول دنیا کی دیگر اقوام پر لاگو کر دیا جائے، تو روئے زمین پر شاید ہی کوئی ایسی قوم بچے جسے اس کے موجودہ مذہب کے ساتھ پکارا جا سکے۔
ایران اور اس کی تہذیبی تاریخ ہمیں ایک عالمگیر سبق دیتی ہے: اسلام کسی خاص نسل، جغرافیے یا زبان کی جاگیر نہیں ہے۔ فارس کے سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) رسولِ معظم ﷺ کے محبوب صحابی بنے؛ خراسان اور ماوراء النہر کے محدثین نے حدیثِ نبوی کے ضخیم مجموعے مرتب کیے؛ اور طوس، نیشاپور، رے اور آمل کے محققین نے تفسیر، فقہ، تاریخ اور فلسفے کے مینار کھڑے کیے۔ یہ تمام تر خدمات پوری اسلامی امت کا مشترکہ اثاثہ ہیں۔
چنانچہ ایران کو ’’مجوسی‘‘ کہنے سے قبل حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کے مقام کو سمجھیے؛ بخاری و مسلم کے اساطین کے شجروں اور علاقوں کا مطالعہ کیجیے؛ غزالی، رازی اور طبری کے علمی ذخیرے کو کھنگالیے؛ اور ایران و خراسان کی صدیوں پر محیط تاریخ کا سنجیدگی سے جائزہ لیجیے۔ تاریخ کسی قوم کو ایک حقارت آمیز لفظ کی قید میں جھونکنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے فکری اور تمدنی سفر کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔
جس سرزمین نے حضرت سلمان فارسی جیسا درخشندہ صحابی دیا، جس علمی دنیا نے اسلامی علوم کے بنیادی ستون تعمیر کیے، اور جس قوم نے فکری و ایمانی سفر طے کر کے اپنی شناخت قائم کی—اسے محض ’’مجوسی‘‘ کہہ دینا تاریخ، علم اور عدل—تینوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اختلاف کیجیے، مگر علم کے ساتھ؛ تنقید کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ؛ اور تاریخ کا تذکرہ کیجیے، تو پورے سیاق و سباق کے ساتھ۔ ایران پر تبرّا کرنے اور اسے ’’مجوسی‘‘ کہنے سے پہلے اس کی تاریخ ضرور پڑھ لیجیے—کیونکہ سچی تاریخ تعصب نہیں، بلکہ حقائق اور انصاف پیدا کرتی ہے۔






