’’رافضی‘‘ کی اصطلاح کہاں سے آئی؟
’’رافضی‘‘ نہ تو کوئی قرآنی اصطلاح ہے، اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے کبھی شیعانِ علیؑ کے لیے یہ لقب استعمال فرمایا۔ بلکہ یہ ایک ایسا نام ہے جسے تاریخ میں شیعوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں بدنام کرنے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کیا گیا۔
یہ اصطلاح ان متعصب، بدعنوان ملاؤں، دین فروشوں اور درباری مفتیوں کے ہتھیار کے طور پر سامنے آئی جن کا دین و ایمان اور جن کے فتوے مکمل طور پر جابر حکمرانوں کے اشاروں پر چلتے تھے۔ ان کے نزدیک حق وہ تھا جس سے بادشاہ خوش ہو، اور باطل وہ جس سے دربار ناراض ہو۔ یہ وہ بدطینت لوگ تھے جنہوں نے پیٹ اور درہم و دینار کے عوض اپنے دین کا سودا کیا، حکمرانوں کے ظلم و ستم پر خاموش رہے، اور اہلِ بیتِ رسولﷺ سے محبت کرنے والوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
ان کے فکری وارث آج بھی امتِ مسلمہ کے وجود پر ایک ناسور بن کر موجود ہیں۔ آج بھی ان کا دین و ایمان، ضمیر، غیرت اور فتوے سامراجی طاقتوں کے مفادات کے تابع ہیں۔ ان کی وفاداریاں قبلۂ حق کے بجائے سامراج کے ایوانوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر امت کے اتحاد، خود مختاری اور مظلوموں کے حق میں بلند ہونے والی ہر آواز کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔
بنو امیہ کے دورِ حکومت میں اہلِ بیتؑ اور ان کے چاہنے والوں کے خلاف دشمنی اور عناد کو ریاستی طاقت کے ذریعے ہوا دی گئی۔ حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے مذہب کو آلہ کار بنایا، جبکہ درباری خوشامدیوں نے ان کے دنیاوی عزائم کو دینی لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی۔ ایسے سازشی ماحول میں سیاسی اور فکری مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے مختلف تحقیر آمیز القاب تراشے گئے، جن میں ’’رافضی‘‘ بھی شامل تھا۔
لیکن ذرا غور فرمائیے: کیا کسی پر کوئی تحقیر آمیز لیبل چسپاں کر دینے سے اس کے عقائد باطل ثابت ہو جاتے ہیں؟
کیا گالی دینا کسی مدلل دلیل کا جواب ہو سکتا ہے؟
اور کیا اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں پر تہمتیں لگا کر ان کی محبت کو دلوں سے کھرچا جا سکتا ہے؟
ہرگز نہیں!
شیعانِ علیؑ کی شناخت مخالفین کے دیے ہوئے القاب سے نہیں، بلکہ ان کے بنیادی عقائد، اعلیٰ کردار اور اہلِ بیتِ نبوتﷺ سے لازوال محبت و عقیدت سے عبارت ہے۔ اختلافِ رائے رکھنا ہر شخص کا حق ہے؛ تاہم، اختلاف کی آڑ میں کسی پورے مکتبِ فکر کو گالی دینا، اس پر من گھڑت الزامات لگانا اور فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔
تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ بھی ہے کہ جب دین بے ضمیر مفاد پرستوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جائے، تو وہ حکمرانوں کے مفادات کو الہیٰ احکام کا نام دینے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ حق کے نہیں، بلکہ اقتدار اور طاقت کے خادم ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے! کسی اصطلاح کا بار بار دہرایا جانا اسے قرآنی سند عطا نہیں کر سکتا، اور الزامات لگانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ حق شناسی کے لیے طعن و تشنیع نہیں بلکہ دلیل، عداوت نہیں بلکہ انصاف، اور تعصب کے بجائے غیر جانبدارانہ تحقیق و جستجو درکار ہے۔



