فدک: سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حق کا معاملہ
السلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ
عزیزانِ محترم!
ہم نے پچھلے مضامین میں مسئلۂ فدک کے سلسلے میں یہ واضح کیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے حکمِ خدا سے فدک اپنی اکلوتی بیٹی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ہبہ (تحفہ) کر دیا تھا اور شہزادی کا اس پر قبضہ بھی تھا۔ مگر جب بنی سقیفہ میں حضور ﷺ کی شہادت کے بعد خلافت جناب ابوبکر کے ہاتھوں میں آ گئی تو انہوں نے سب سے پہلے جناب فاطمہؑ کی جاگیر پر قبضہ کر لیا اور ان کے کارندوں کو باغِ فدک سے باہر نکال دیا۔[۱]
جب جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خبر ملی تو انہوں نے کئی بار خلیفۂ وقت سے فدک کا مطالبہ کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ ابوبکر نے جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی دلیل سن کر ان کی تصدیق کرتے ہوئے فدک کے عامل، جسے ابوبکر نے معین کیا تھا، کو خط لکھا کہ باغ کو فاطمہؑ کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر عمر نے وہ خط اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پھاڑ ڈالا۔[۲]
جب حضرت فاطمہؑ نے مزاحمت کی تو بعض شیعہ تاریخی روایات کے مطابق عمر نے انہیں طمانچے مارے، جس سے ان کے کان کے گوشوارے کھنچ گئے اور آپؑ کا کان زخمی ہو گیا۔[۳] غرض کہ کئی بار مطالبے کے باوجود ایک ایسی حدیث کو بنیاد بنا کر فدک واپس نہیں کیا گیا جس کے الفاظ یہ ہیں:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»
یعنی: ہم گروہِ انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے، اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔[۴]
شہزادیؑ نے فوراً جواب دیا کہ تم جو حدیث پیش کر رہے ہو، کیا تمہارے علاوہ بھی کسی نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟
بی بیؑ سے یہ بھی منقول ہے کہ اگر تم ایسے افراد پیش بھی کر دو جو اس روایت کی تائید کریں، تب بھی یہ دعویٰ قرآن کے ساتھ اس کے بظاہر تعارض کے سوال سے خالی نہیں ہوگا، کیونکہ میرے بابا قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔
قرآن مجید میں وراثت کے قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ جب ان قوانین کے تحت دوسرے لوگ اپنے باپ سے وراثت پا سکتے ہیں تو مجھے اسی قانون سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے تمہاری پیش کردہ حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف قابلِ اعتراض ہے۔
اس تاریخی اختلاف کو رقم کرتے ہوئے ابن ابی الحدید حدیث کی روایت اور اس کے ناقلین پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے حوالے سے یہ بات نقل کی جاتی ہے کہ اس نزاع میں یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ابوبکر کے علاوہ کسی اور سے منقول نہیں ہوئی۔[۵] اس روایت کو قرآن مجید کی وراثت سے متعلق آیات کے ساتھ کس طرح سمجھا جائے، یہی مسئلۂ فدک کے بارے میں مختلف تاریخی اور مذہبی تعبیرات کا ایک بنیادی سوال ہے۔[۶]
عزیزانِ گرامی!
اگرچہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو مالِ دنیا سے کوئی لگاؤ نہ تھا، مگر اپنے حق کا اظہار کرنا اور احتجاج درج کرنا ضروری تھا، تاکہ ناحق قبضہ کرنے والے کسی کے حق پر قبضہ نہ کر سکیں اور انسان ظالم کے ظلم سے محفوظ رہے۔ مزید یہ کہ اس بات کی کوشش ہو کہ حق دار تک اس کا حق پہنچ جائے۔ اس لیے ظالم کے چہرے پر پڑا ہوا نقاب اٹھانا ضروری تھا۔
دوسرے یہ بھی کہ یہ مال کسی ایسے شخص کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے جو اپنی خواہشات کے مطابق جہاں چاہے خرچ کرے اور مستحقین محروم رہ جائیں۔ تاریخی مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ فدک بعد کے ادوار میں مروان کے حوالے بھی کیا گیا۔ مصنف کے نقطۂ نظر کے مطابق مروان نے اس کی آمدنی ناجائز طور پر خرچ کی۔ تاہم تاریخی روایات میں فدک کی منتقلی کے زمانے اور اس کے حالات کے بارے میں اختلاف ملتا ہے: بعض مصادر اس کی نسبت عثمان کے دور سے کرتے ہیں، جبکہ ایک تاریخی روایت معاویہ کے ذریعے اس کی منتقلی کا ذکر کرتی ہے۔[۷]
مروان، حکم بن ابی العاص کا بیٹا تھا۔ حکم بن ابی العاص کے مدینہ سے نکالے جانے اور بعد میں واپس آنے کے بارے میں تاریخی اور سوانحی مصادر میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ مصنف کے بیان کے مطابق جناب ابوبکر اور عمر کے دور میں حکم اور مروان کو مدینہ واپس آنے کی اجازت نہیں ملی، جبکہ خلافتِ سوم میں حکم کو واپس بلایا گیا اور اسے عہدہ بھی دیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیلات اور تعبیر کے بارے میں مصادر میں اختلاف موجود ہے۔[۸]
مولائے کائنات، حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے:
«بَلَىٰ، كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ»
یعنی: ہاں، فدک ہمارے ہاتھ میں تھا؛ مگر ان لوگوں نے بخل کیا اور اسے ہم سے چھین لیا۔
پھر فرمایا:
«وَنِعْمَ الْحَكَمُ اللهُ»
یعنی: اور اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔[۹]
ان شاء اللہ روزِ محشر عدلِ الٰہی کے ذریعے انصاف ہوگا۔
«سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ»
عنقریب ظلم کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹتے ہیں۔ — سورۂ شعراء، آیت ۲۲۷
«أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ»
خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ — سورۂ ہود، آیت ۱۸
3. مشترکہ حوالہ جات — Endnotes
یہ حوالہ جات دونوں مضامین کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ویب لنکس دستیاب آن لائن متون یا متعلقہ مطالعے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں؛ مختلف مطبوعہ نسخوں میں جلد، صفحہ اور حدیث نمبر مختلف ہو سکتے ہیں۔
1
فدک کا مطالبہ اور وراثت کا اختلاف
صحیح البخاری، کتاب فرض الخمس، اور صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، میں رسول اللہ ﷺ کے ترکے اور سیدہ فاطمہؑ کے مطالبے سے متعلق روایات موجود ہیں۔
صحیح بخاری — فدک سے متعلق روایات
صحیح مسلم — فدک سے متعلق روایات
2
فدک کی تحریری دستاویز پھاڑے جانے کی روایت
علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد ۲۹۔ اس میں فدک کے بارے میں تحریر جاری ہونے اور اسے پھاڑے جانے سے متعلق روایت نقل کی گئی ہے۔
بحار الانوار، جلد ۲۹ — عربی متن
بحار الانوار، جلد ۲۹ — انگریزی پی ڈی ایف
3
جسمانی بدسلوکی سے متعلق روایات
Vinay Khetia, Fatimah as a Motif of Contention and Suffering in Islamic Sources، Concordia University، ۲۰۱۳ء۔ یہ تحقیقی مقالہ سیدہ فاطمہؑ سے متعلق مختلف روایات اور ان کے مآخذ کا علمی جائزہ لیتا ہے۔
4
حدیثِ «لا نورث»
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں انبیاء کی وراثت سے متعلق یہ روایت نقل ہوئی ہے۔ اس روایت کی تعبیر اور قرآن کی آیاتِ وراثت کے ساتھ اس کے تعلق پر مختلف علمی آرا موجود ہیں۔
5
ابن ابی الحدید اور حدیث کے راوی
ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد ۱۶، مسئلۂ فدک سے متعلق بحث، خصوصاً صفحات ۲۱۶–۲۲۰ (طباعت کے مطابق صفحات مختلف ہو سکتے ہیں)
6
قرآن مجید میں وراثت سے متعلق آیات
7
فدک کی بعد کے ادوار میں منتقلی
فدک کی ملکیت اور مروان کو اس کی منتقلی سے متعلق روایات کے لیے تاریخی مصادر کے تقابلی مطالعے کی ضرورت ہے۔ مختلف مصادر اس منتقلی کو مختلف حکمرانوں کے دور سے منسوب کرتے ہیں۔
A Short History of Fadak after the Martyrdom of Fatimah (sa)
Al-Baladhuri, The Origins of the Islamic State — متعلقہ تاریخی متن
8
حکم بن ابی العاص کی جلاوطنی اور واپسی
ابن عبدالبر، الاستیعاب، حکم بن ابی العاص کے حالاتِ زندگی کے تحت؛ نیز متعلقہ تاریخی مطالعے۔
9
نہج البلاغہ میں فدک
نہج البلاغہ، خط ۴۵، امام علی علیہ السلام سے منسوب عبارت «بَلَىٰ، كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ»۔ مختلف نسخوں میں خط کی نمبرنگ مختلف ہو سکتی ہے۔
- متعلقہ عبارت اور حوالہ جاتی معلومات
10
اختتامی قرآنی آیات
ادارتی نوٹ / Editorial note
یہ مضمون مصنف کے شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق مسئلۂ فدک کو پیش کرتا ہے۔ حوالہ جات کا مقصد قارئین کو متعلقہ مذہبی و تاریخی مصادر تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ مختلف مصادر میں بعض واقعات، ان کی ترتیب اور ان کی تعبیر کے بارے میں اختلاف موجود ہے۔ کسی ماخذ کا حوالہ دینا بذاتِ خود کسی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں ہے؛ قارئین اصل مصادر کا مطالعہ کرکے اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔





