ہم لوگوں سے کیسا سلوک کریں (How to treat people)

تحقیر یا کسی بندہ ء خدا کو اپنے سے کم/ پست سمجھنا
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ (سورۃ حجرات آیت 11) | کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
من حقر مؤمناً مسكيناً أو غير مسكين لم يزل الله عز وجل خاقراً له ماقتاً (جامع الاسعادات 215/2)
جو شخص کسی مسکین یا غیر مسکین کی تحقیر کرے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ذلیل و خوار کرتا ہے اور اللہ اس سےدشمنی رکھتا ہے
مختصر تشریح
خود پسندی، کینہ اور حسد جیسے افعال تکبر کا سبب بنتے ہیں۔ کبھی کوئی سوچتا ہے کہ فلاں شخص مجھ جتنا پڑھا لکھا نہیں ہے اور کبھی کوئی شخص اس لئے تکبر کرتا ہے کہ فلاں شخص کے پاس مجھ جتنی دولت نہیں ہے اور کبھی کوئی شخص اس لئے کسی کی تحقیر کرتا ہے کہ دوسرا شخص اس سے حقیر پیشے سے وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کی مدد کرنی چاہیے اور سب کا احترام کرنا چاہیے۔ اور اپنی زبان سے کسی بھی شخص کو اذیت نہیں دینی چاہیے اور کسی کو بھی اپنے سے پست تصور نہیں کرنا چاہیے۔ تحقیر کی کوئی بھی صورت ہو وہ حرام ہے۔
اگر اس نے کسی شخص کی دل آزاری کی ہو تو اس کا ضرر تحقیر کرنے والے پر بھی ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ اللہ کی کمزور ترین مخلوقات پر بھی شفقت کی جائے۔
1. مفضل ابن عمر
مفضل ابن عمر کوفہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے کوفہ میں ان کی طرف سے وکیل مالیات تھے۔ ان کی دوستی چند کبوتر بازوں سے تھی جنہیں بظاہر دیندار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
کچھ بزرگوں کو ان کا یہ رویہ پسند نہ آیا تو انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط بھیجا جس میں اس کے اس رویہ کا ذکر کیا اور سب نے اپنے دستخط بھی اس خط میں کئے۔
وہ خط امام علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اس خط کے جواب میں امام علیہ السلام نے مفضل ابن عمر کے نام ایک اور خط بھیجا اتفاق سے جس وقت وہ خط مفضل ابن عمر کو ملا تو اس وقت وہ تمام شیعہ بزرگ بھی موجود تھے جنہوں نے امام کو اس کی شکایت کی تھی۔ مفضل نے خط پڑھ کر ان لوگوں کے حوالے کر دیا۔ اس خط میں مفضل اور کبوتر بازوں کے متعلق کچھ نتحریر نہ تھا۔ امام نے ایک بڑی رقم کے لئے لکھا تھا کہ مجھے اتنی رقم کی ضرورت ہے بعض روایات میں ہے کہ وہ رقم ایک ہزار درہم سے کچھ کم ہزار درہم تھی۔
اب بات پیسوں کی تھی تو سب نے سر جھکا دیے پھر سب نے کہا کہ پہلے ہمیں اتنی رقم اکٹھی کرنی ہے بعد میں سب نے معذرت کر لی کہ ہم اتنی بڑی رقم کا بندوبست نہیں کر سکتے۔
مفضل بڑا دانا تھا اس نے سب کو وہاں کھانے کی دعوت دی اور کھانے کے بغیر اس نے کسی کو جانے نہ دیا۔
اس نے اسی اثنا میں جب کھانا تیار ہو رہا تھا تو کسی کو بھیج کران کبوتر بازوں کو وہاں پر بلوالیا۔
تو مفضل نے ان کے سامنے امام جعفر صادق علیہ السلام کا خط پڑھا کہ امام علیہ السلام کو اتنی رقم کی ضرورت ہے تو کبوتر بازوں نے کوئی عذر نہیں تراشا۔ ابھی مہمان کھانا کھانے میں مصروف تھے کہ وہ بہت بڑی رقم لے کر آئے۔ انہوں نے وہ رقم مفضل کے حوالے کی اور وہاں سے چلے گئے۔
اس وقت مفضل ابن عمر نے ان دستخط کرنے والوں کی طرف منہ کر کے کہا کہ آپ مجھ سے یہی چاہتے ہیں کہ میں ان جوانوں سے راہ و رسم ترک کر دوں جبکہ ان کی اصلاح کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔ جب دین پر کوئی وقت آتا ہے تو یہ دین کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
آپ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ خدا نماز اور روزے کا محتاج ہے اور آپ مغرور ہو چکے ہیں۔ جب مالیات کی بات آئی تو آپ عذر تراشی میں لگ گئے اور امام کو جواب دینا تک گوارہ نہ سمجھا۔
جو مفضل کے اس رویے سے نالاں تھے وہ لا جواب ہو گئے اور بعد میں کسی نے بھی مفضل کے اس رویہ کی شکایت نہ کی۔ (بامردم اینگونہ برخوردکینم 78 / منھج لامقال 343)
2. سیرتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے جسم پر آبلے پڑے ہوئے تھے اور اُن آبلوں سے پیپ جاری تھی۔ اس وقت آپ ﷺ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ اس شخص نے بہت سے لوگوں کے پاس بیٹھنے کی کوشش کی لیکن سب نے اسے حقیر سمجھا جس شخص کے پاس بھی بیٹھتا تو وہ اٹھ کر چلا جاتا تھا۔ جب پیغمبر اکرم ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب بٹھایا اور اس پر شفقت کی۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ اتنا میں ایک شخص وارد ہوا۔ جو جذام کی بیماری میں مبتلا تھا۔ لوگ اس سے نفرت کرنے لگے۔ لیکن آپ ﷺ نے اس شخص کو اپنے پہلو میں بٹھایا اور اسے کھانا کھانے کی دعوت دی۔
قریش میں سے ایک شخص جس نے اس کو انتہائی نفرت سے دیکھا تھا بعد میں وہ خود اس بیماری میں مبتلا ہوا اور دنیا سے رحلت کر گیا۔ (علم اخلاقی اسلامی 435/1 – جامع لسعادات 357/1)
3. خوار سمجھنے کا نتیجہ
بنی اسرائیل میں ایک گناہگار شخص رہتا تھا اور لوگوں کو اس سے سخت نفرت تھی اور انہوں نے اسے اپنے شہر سے نکال دیا۔
ایک دن اس شخص نے راستے پر دیکھا کہ بنی اسرائیل کا ایک عابد گزر رہا ہے جس کے سر پر ایک کبوتر نے اپنے پروں سے سایہ کیا ہوا تھا۔
اس شخص نے اپنے آپ سے کہا کہ میں تو گناہگار ہوں اور وہ عبادت گزار ہے اگر کچھ لمحے میں اس عابد کے ساتھ بیٹھ جاؤں توممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت کی وجہ سے مجھ پر بھی رحم کر دے۔ دل میں سوچنے کے بعد وہ اس عابد کے پاس گیا۔
جب عابد نے اس شخص کو اپنے پاس بیٹھا ہوا دیکھا تو کہنے لگا یہ کیا بلا ہے میں اس قوم کا سب سے بڑا عابد ہوں یہ انتہائی فاسد ہے کہ یہ جرات کر میرے پاس آکر بیٹھ جائے۔ عابد نے اس شخص سے منہ موڑ لیا اور اس سے کہا کہ جناب آپ یہاں سے اٹھ کر چلے جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی کو وحی کی کہ دونوں افراد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اپنے اعمال کا حساب بھی سن لو۔
اللہ فرمارہا ہے کہ میں نے اس گناہگار کے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں۔ اور میں نے اس عابد کی تمام نیکیاں تکبر کی وجہ سے ختم کر دیں ہیں۔(شنیدانی تاریخ -373 / حجتہ البعیضا ء – 239/6 )
4۔ چھوٹے قد والا اور بدصورت بیٹا
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے کچھ بیٹے تھے جن میں سے ایک بیٹا پست قد اور کمزور تھا جبکہ اس کے باقی بیٹے خوبصورت دراز قد اور تندرست و توانا تھے۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے اس بیٹے کو حقارت کی نظر سے دیکھا بیٹا بہت دانا تھا وہ سمجھ گیا کہ اس کا باپ اس کو حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس نے اپنے باپ کی طرف منہ کر کے کہا:
”پست قد دانا دراز قد ر نادان سے بہتر ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے جس کا قد لمبا ہو اس کی قدر و منزلت بھی زیادہ ہو۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ بکری پاکیزہ ہے اور ہاتھی مردار ہوتا ہے۔"
بادشاہ کو اپنے اس بیٹے کی حکمت آمیز بات پسند آئی اور وہ مسکرانے لگا۔ وہاں پر جتنے بھی اعیان مملکت بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بھی خوش ہو کر مسکرانے لگے۔ لیکن اس کے دوسرے بھائیوں کو یہ بات پسند نہ آئی۔
اتفاق سے انہی دنوں ایک دشمن بادشاہ نے اس بادشاہ پر حملہ کیا۔ بادشاہ کے لشکر کی طرف سے جس نے سب سے پہلے مخالف لشکر کے قلب پر حملہ کیا وہ یہی پست قد اور بدصورت لڑکا تھا۔ اس نے اپنی شجاعت کا اظہار کیا اور مخالف لشکر کے کئی سالاروں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا اور پھر واپس اپنے باپ کے پاس آیا اور بڑے احترام سے کہا:
”اباجان! کمزور گھوڑے میدانِ جنگ میں کام آتے ہیں۔“
پھر وہ دوبارہ میدانِ جنگ میں گیا۔ اور اسی اثنا میں اس کے باپ کے چند فوجی بھاگنے لگے تو اس نے کھڑے ہو کر نعرہ بلند کیا۔
"مردوں کی طرح سے جنگ کرو اگر نہیں کر سکتے تو مردوں کے لباس اتار کر عورتوں کے لباس پہن لو"۔
جیسے ہی بھاگتے ہوئے فوجیوں نے یہ نعرہ سنا تو ان کو اس سے قوت ملی اور وہ دشمن فوج پر غالب آگئے۔
اس فتح کے بعد بادشاہ نے بیٹے کے چہرے کو چوما اور اس کے بعد اسے اپنا ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس کے بھائی اس سے حسد کرنے لگے۔ اور ایک دن اس کے بھائیوں نے اس کے کھانے میں زہر ملا دی تاکہ وہ کھا کر مر جائے لیکن وہ جب زہر ملا رہے تھے تو اس کی ایک بہن نے یہ سب کچھ ہاتھ کھڑی دیکھ رہی تھی۔
جب اس پست قد اور بدصورت لڑکے کے سامنے کھانا رکھا گیا تو اس کی بہن زور زور سے اس درچے کو ہلا رہی تھی۔ وہ سمجھ گیا اور اس نے وہ زہر آلود کھانا نہ کھایا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع بادشاہ کو ہوئی تو اس نے اپنے دوسرے بیٹوں کو اپنے ملک کے دور دراز حصوں میں بھیج دیا۔ (حکایاتِ گلستان، ص 43)
5.جو تجھ سے زیادہ خراب ہو اسے میرے پاس لے آؤ
خداوند تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ اب کی بار جو تجھ سے مناجات کرنے کے لئے آؤ تو اپنے سے کسی کم تر کو اپنے ساتھ میرے پاس لے آنا۔
موسیٰ علیہ السلام نے ادھر ادھر دیکھا لیکن ان میں یہ جرات پیدا نہ ہوئی کہ میں کس سے کہوں کہ تم مجھ سے کم تر ہو اور میں تجھ سے بہتر ہوں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے حیوانات پر نگاہ ڈالی اور چاہا کہ اس ایک بیمار کتے کو اپنے ساتھ لے جاؤں۔ اس کی گردن میں
رسی ڈالی اور کچھ دیر کے بعد پشیمان ہوئے اور اس کتے کو بھی رہا کر دیا۔
بارگاہِ خداوندی میں اکیلے آئے۔ آوازِ قدرت آئی میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تم اپنے ساتھ اپنے سے کم تر کو میرے پاس کیوں نہیں لائے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: پروردگار میں نے کسی کو اپنے سے کم تر نہیں پایا۔
آوازِ قدرت آئی: "مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم، اگر تم کسی کو لاتے تو میں اس پست کو بلندی دیتا اور تیرا نام انبیاء کی فہرست سے خارج کر دیتا۔"(مونہ معارف 676 – لیالی الاخبار 197)
نوٹ: یہ ماخذ "سو موضوع پانچ سو داستان" جلد نمبر 1 ص 147 تا 151 سے لیئے گئے ہیں۔

سید منہال
سید منہال، ممبئی، انڈیا سے ایک سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ وہ اہل بیت ع کے پیروکار اور پرجوش حامی ہیں۔ منہال نے اہل بیت ع کے پیغام کو پھیلانے میں متعدد تکنیکی محاظ پر کام کیا ہے۔





