باپ: ایک دل چھو لینے والی سبق آموز کہانی

ایک دل چھو لینے والی سبق آموز کہانی
دوپہر کی تپتی ہوئی دھوپ میں ایک بوڑھا باپ اور اس کا جوان بیٹا صبح سے اینٹوں کے بھٹے پر کام کر رہے تھے۔
باپ بار بار اپنے بیٹے سے کہتا:
"بیٹا! کچھ دیر سائے میں بیٹھ جاؤ۔ اتنی سخت دھوپ تمہیں بیمار کر دے گی۔ کام کل بھی ہو جائے گا۔"
مگر بیٹا جوان تھا، اسے اپنی طاقت پر بھروسہ تھا۔ وہ مسکرا کر جواب دیتا:
"ابا جان! آپ فکر نہ کریں، بس تھوڑا سا کام باقی ہے۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔"
بوڑھا باپ ہر بار خاموش ہو جاتا، لیکن اس کا دل بے چین رہتا۔ وہ اپنے بیٹے کو تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتے دیکھتا تو اندر ہی اندر پریشان ہوتا رہتا۔
آخرکار وہ گھر گیا۔
اپنے دو سالہ پوتے کو گود میں اٹھایا، اس کی پیشانی کو پیار کیا اور اسے ساتھ لے کر دوبارہ بھٹے پر آ گیا۔
وہ ایک طرف کھڑا ہوا اور بچے کو چند لمحوں کے لیے دھوپ میں کھڑا کر دیا۔
گرمی محسوس ہوتے ہی بچہ بے چین ہو کر رونے لگا۔
یہ دیکھتے ہی بیٹا گھبرا گیا۔ وہ فوراً دوڑ کر آیا، بچے کو گود میں اٹھایا اور سایہ دار جگہ پر لے گیا۔
پھر پریشانی سے بولا:
"ابا جان! آپ نے بچے کو دھوپ میں کیوں کھڑا کیا؟ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو؟"
بوڑھے باپ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے آہستگی سے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"میرے بیٹے! تم نے اپنے بچے کو صرف چند لمحے دھوپ میں دیکھا تو تمہارا دل بے چین ہو گیا۔ تمہیں خوف ہونے لگا کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچ جائے۔"
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بھری ہوئی آواز میں بولا:
"میں بھی صبح سے یہی تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔ جب میں تمہیں اس تیز دھوپ میں کام کرتے دیکھتا ہوں تو میرا دل بھی اسی طرح تڑپتا ہے۔"
پھر اس نے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:
"فرق صرف اتنا ہے کہ تم اپنے بیٹے کے باپ ہو، اور میں تمہارا باپ ہوں۔"
یہ الفاظ بیٹے کے دل میں اتر گئے۔
وہ خاموش ہو گیا۔
پہلی بار اسے اپنے باپ کی آنکھوں میں وہ خوف نظر آیا جو صرف سچی محبت سے پیدا ہوتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ آگے بڑھا، اپنے باپ کو گلے لگایا اور رندھی ہوئی آواز میں بولا:
"مجھے معاف کر دیں، ابا جان! میں آپ کی فکر اور محبت کو سمجھ ہی نہیں سکا۔"
بوڑھے باپ نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیا۔
اس دن بیٹے نے زندگی کا وہ سبق سیکھا جو شاید برسوں کی نصیحتیں بھی نہ سکھا سکتی تھیں:
بعض رشتوں کا درد انسان کو تب سمجھ آتا ہے جب وہ خود اسی رشتے کی ذمہ داری میں آتا ہے۔
والدین جب ہماری فکر کرتے ہیں تو اکثر ہمیں ان کی باتیں روک ٹوک محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے محبت، خوف اور ہماری سلامتی کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔
آج اگر آپ کے والدین آپ کی فکر کرتے ہیں، تو ان کی باتوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔
کیونکہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ:
"جس محبت کو میں روک ٹوک سمجھتا رہا، وہ دراصل میرے والدین کی بے لوث محبت تھی۔"
اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو سلامت رکھے اور ہمیں ان کی قدر کرنے والا بنائے۔ آمین۔

مولانا وفا حیدر خان
مولانا وفا حیدر خان ایک مدرس، معلم اور عربی لسانیات کے اسکالر ہیں۔ طلباء کو دین اور فقہ کی تدریس کا کئی سالوں کا تجربہ ہے۔ وہ فی الحال مدرسہ (عج)، نوی ممبئی میں مدرس (ٹیچنگ اسٹاف) ہیں





