شخصیت سازی
ماں کا غصہ یا رب کی رضا؟
یہ تحریر ایرانی عالم دہخدا کی ماں سے عقیدت اور صبر پر مبنی ہے، جنہوں نے غصیلی اور سخت مزاج ماں کی خدمت کے لیے ساری زندگی شادی نہیں کی۔ ایک رات ماں نے غصے میں ان کے سر پر پانی کا گلاس دے مارا، مگر دہخدا نے صبر کیا اور اللہ سے شکوہ کے بجائے استقامت مانگی۔ اسی رات خواب میں بشارت ملی کہ ان کا صبر علم کا خزانہ بنے گا۔ بعد ازاں انہوں نے وہ عظیم کتابیں لکھیں جو آج بھی علمی دنیا میں زندہ ہیں۔ سبق یہ ہے کہ ماں کی خدمت، صبر اور اخلاص کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔