ماتم ہے زمانے میں حسین ابن علیؑ کا
Matam hai zamane mein Husain ibne Ali ka
matla
ماتم ہے زمانے میں حسین ابن علیؑ کا
اونچا ہے علم آج بھی عباس جری کا
اسلام کے کشکول میں سر رکھ دیا اپنا
پیاسوں نے اٹھایا نہیں احسان کسی کا
ہم شکل نبی پر ہوئی تلواروں کی بارش
پھل ٹوٹ گیا سینہ ئہ اکبر میں شقی کا
سجدے میں لعینوں نے جسے ذبح کیا تھا
یہ بھی نہیں سوچا کے نواسہ ہے نبی کا
اے کرب و بلا تجھ کو بھی کچھ رحم نہ آیا
سر بیرزے پہ رکھا گیا جب ابن علی کا
گھر لوٹ کے خیموں کو جلانے لگے ظالم
افسوس کلیجہ بھی نہ تھرایا کسی کا
وہ دن تھا کہ اک دل کے بہتّر ہوئے ٹکڑے
ہر ٹکڑے پہ لکھا تھا کلیجہ ہے علی کا
رومال میں زہرا نے چنا اشک سمجھ کر
منظر میری آنکھوں میں تھا اصغر کی ہنسی کا
صحرا کو سبیلوں میں شرر کر دیا تبدیل
پیاسوں نے اٹھایا نہیں احسان کسی کا

