شبیر کا ماتم نہ رکا ہے نہ رکے گا
Shabbeer ka matam na ruka hai na rukega
مطلع
شبیر کا ماتم نہ رکا ہے نہ رکے گا
اسلام کا پرچم نہ جھکا ہے نہ جھکے گا
اس نور کو محشر کا بھی کچھ خوف نہیں ہے
اس نور کو محشر کا بھی کچھ خوف نہیں ہے
شبیر کا سورج نہ ڈھلا ہے نہ ڈھلے گا
تھوکیں بھی نہ دولت پہ غلامان شہِ دیں
تھوکیں بھی نہ دولت پہ غلامان شہِ دیں
ہم لوگوں میں کوئی نہ بکا ہے نہ بکے گا
ہم لوگ حسینی ہیں خبردار خبردار
ہم لوگ حسینی ہیں خبردار خبردار
سر ظلم کے آگے نہ جھکا ہے نہ جھکے گا
ان اشکوں میں ہم سارے زمانے کو ڈبو دیں
ان اشکوں میں ہم سارے زمانے کو ڈبو دیں
ماتم سے کبھی جی نہ بھرا ہے نہ بھرے گا
تہذیب سبیلوں کی ہے اصغر کا تبسـم
تہذیب سبیلوں کی ہے اصغر کا تبسـم
پانی پہ کوئی ایسے ہنسا ہے نہ ہنسے گا
نیزوں پہ لہو روتی رہی شامِ غریباں
نیزوں پہ لہو روتی رہی شامِ غریباں
سرور کی طرح کوئی لٹا ہے نہ لٹے گا
مقطع
فرعون کی طاقت یا وصی جور حکومت
باطل سے کبھی حق نہ دبا ہے نہ دبے گا

