اس عالمِ فانی میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں، حالانکہ وہ موجود ہوتی ہیں۔ کچھ چیزیں تو اتنی باریک ہوتی ہیں کہ انہیں خردبین (مائیکروسکوپ) سے دیکھا جاتا ہے، یا اتنی دور ہوتی ہیں کہ دوربین کے ذریعے دیکھی جاتی ہیں؛ مگر بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جو دوربین سے بھی نظر نہیں آتیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان کے وجود ہی سے انکار کر دیا جائے۔ مثلاً، ہم اس فضا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہوائیں تو چلتی ہیں مگر ہم ہوا کو دیکھ نہیں پاتے۔ مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اور پانی سے جدا ہو کر زندہ بھی نہیں رہ سکتیں، مگر وہ پانی کو دیکھ نہیں پاتیں۔ یہ خداوندِ عالم کی حکمتِ بالغہ ہے کہ اگر ہمیں ہوا نظر آنے لگے تو ہماری نظروں کے سامنے ایک پردہ سا آ جائے گا، اور اگر مچھلیوں کو پانی نظر آنے لگے تو ان کے سامنے بھی ایک حجاب حائل ہو جائے گا؛ نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ ہم ہوا میں چل سکیں گے اور نہ مچھلیاں پانی میں تیر سکیں گی، کیونکہ یہ پردہ ایک دیوار کی مانند بن جائے گا اور آگے بڑھنا ناممکن ہو جائے گا۔ جب آگے کچھ سجھائی ہی نہیں دے گا تو کوئی آگے کیسے بڑھ پائے گا؟ اور مچھلیوں کو جب راستہ دکھائی نہیں دے گا تو وہ کیسے تیر سکیں گی؟
یہ اس خالقِ کائنات کی حکمت ہے کہ اس نے ہماری بصارت کی طاقت کو ماحول کے عین مطابق بنایا ہے۔ اسی حکمتِ الٰہی کے تحت ہماری آنکھوں کو اس وضع پر پیدا کیا گیا کہ ہم فرشتوں کو نہ دیکھ سکیں۔ بالفرض، اگر فرشتے ہمیں کھلم کھلا نظر آنے لگیں تو کیا ہم کوئی کام اپنی مرضی اور اختیار سے کر پاتے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ رکھا ہے تاکہ ہم آزادی اور اپنے ارادے کے ساتھ اپنے اعمال انجام دے سکیں۔
قرآنِ مجید کے بغور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اللہ رب العزت کے حکم کے تابع ہیں؛ وہ ہمہ وقت اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں اور ضرورت کے وقت بحکمِ خداوندی انسانوں کی نصرت و مدد کرتے ہیں۔ جیسا کہ جنگِ بدر میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی، حالانکہ فرشتے لوگوں کو نظر نہیں آ رہے تھے۔ خداوندِ متعال نے فرشتوں کو انسانوں کی نصرت کے لیے مامور کیا ہے، اور جب وہ کسی بندے کی مدد فرمانا چاہتا ہے تو فرشتوں کو حکم دیتا ہے اور فرشتے اس پر فوراً عمل پیرا ہوتے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوتا ہے کہ فرشتے انسانوں کی نگہبانی اور حفاظت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہم "کراماً کاتبین" کا ذکر سنتے ہیں، جو ہمارے دونوں کندھوں پر موجود ہیں اور ہمارے تمام اعمال کو قلمبند کرتے رہتے ہیں؛ یہاں تک کہ انسان کا ایک سانس لینا یا ہلکی سی پھونک مارنا بھی ان کے اندراج سے باہر نہیں رہتا، وہ کسی بھی اچھے یا برے عمل کو چھوڑے بغیر درج کر لیتے ہیں۔
اب اگر کوئی انسان اپنے معبود کی اطاعت میں خود کو غرق کر لے، اس کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا اور ہر فعل رضائے الٰہی کے مطابق ہو، اور اس کا مکمل توکل اللہ پر ہو، تو جب وہ دنیاوی اور گھریلو مشقتوں سے تھک جائے یا اسے نیند آ جائے، تو حکمِ خدا سے فرشتے اس کی اعانت کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ سیدۃ النساء العالمین، حضرت فاطمۃ الزہرا (سلام اللہ علیہا) کے ساتھ ہوا؛ جب آپ گھر کے کام کاج سے نڈھال ہو جاتیں یا نیند آ جاتی، تو فرشتے کبھی چکی پیسنے آ جاتے اور کبھی حسنینِ کریمین (علیہم السلام) کا جھولا جھلانے پہنچ جاتے۔ دیکھنے والے حیرت سے دیکھتے کہ بی بی آرام فرما رہی ہیں اور چکی خود بخود گردش کر رہی ہے۔ جب صحابہ نے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: "یہ فرشتے ہیں جو میری بیٹی فاطمہ کی مدد کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔"
اور کبھی یہی فرشتے سائل کے روپ میں حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے در پر صدا لگانے آئے۔ بی بی نے اپنے سامنے رکھی روٹی اٹھا کر سائل کی جھولی میں ڈال دی، اور ان کے ہمراہ حضرت علی (علیہ السلام)، امام حسن (علیہ السلام)، امام حسین (علیہ السلام) اور گھر کی باوفا کنیز حضرت فضہ نے بھی اپنی اپنی روٹیاں سائل کو عطا کر دیں۔ باوجود اس کے کہ وہ سب روزے کی حالت میں تھے؛ اور یہ ایثار ایک دن نہیں بلکہ مسلسل تین دنوں تک جاری رہا۔ مسلسل تین روزے رکھ کر صرف پانی اور نمک سے افطار کیا اور اپنی روٹیاں مسکین، یتیم اور اسیر کو عطا فرما دیں۔ ان کا یہ بے مثال ایثار اور خلوص بارگاہِ الٰہی میں اس قدر پسندیدہ ٹھہرا کہ پروردگار نے ان کی شان اور منزلت میں پورا سورہ نازل فرما دیا، جسے سورۂ دہر، سورۂ ہل اتیٰ یا سورۂ انسان کہا جاتا ہے۔
وما علینا الا البلاغ
اللّٰہم العن قاتلی فاطمۃ الزہراء



