تاریخ میں بعض لوگ انقلاب برپا نہیں کرتے، مگر انقلاب کے لیے ذہن تیار کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ میدان میں قیادت نہیں کرتے، مگر میدان میں اترنے والی نسل کو سوال کرنا سکھا دیتے ہیں۔ اور بعض لوگ اقتدار حاصل نہیں کرتے، مگر اقتدار کے خلاف شعور پیدا کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر علی شریعتی اسی قبیل کے آدمی تھے۔
وہ عالمِ دین نہیں تھے، روایتی حوزوی نظام کے فارغ التحصیل نہیں تھے، مگر انہوں نے ایک ایسی نسل سے مذہب کی زبان میں گفتگو کی جو جدید تعلیم، مغربی فکر، سوشلزم، مارکسزم اور تہذیبی احساسِ کمتری کے درمیان اپنی شناخت تلاش کر رہی تھی۔ انہوں نے نوجوان ایرانی کو بتایا کہ اسلام صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی قوت اور مستقبل کی تعمیر کا نام بھی ہو سکتا ہے۔
یہی ان کی سب سے بڑی تاریخی خدمت تھی۔
لیکن شریعتی کو سمجھنے کے لیے انہیں نہ تو فرشتہ بنانا ضروری ہے اور نہ مخالفین کے الفاظ میں گمراہ مفکر۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی قوت کو قوت، کمزوری کو کمزوری اور انقلاب میں ان کے کردار کو اس کے حقیقی حجم میں دیکھا جائے۔
ایک غیر معمولی ذہن
علی شریعتی 1933ء میں خراسان کے مزینان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد تقی شریعتی دینی ذوق رکھنے والے عالم اور خطیب تھے۔ گھر سے انہیں مذہبی تربیت ملی، مگر ان کی فکری تشکیل صرف مدرسے کی چار دیواری میں نہیں ہوئی۔
وہ جدید تعلیم سے گزرے، سماجیات پڑھی، فرانس گئے، مغربی فلسفے اور سیاسی افکار کا مطالعہ کیا اور وہاں کی فکری ہلچل کو قریب سے دیکھا۔
یہیں سے ان کی شخصیت کا ایک منفرد امتزاج سامنے آیا:
- مشرق کی روحانی و مذہبی میراث
- مغرب کی تنقیدی فکر
- استعمار کے خلاف مزاحمت
- سماجی انصاف کی طلب
- نوجوان نسل کو بیدار کرنے کا جذبہ
انہوں نے اسلام کو محض فرد کے نجی عقائد اور عبادات کا مجموعہ سمجھنے سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک دین کا ایک بڑا مقصد انسان کو ظلم، استبداد، استحصال اور جمود سے آزاد کرنا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان میں اسلام ایک زندہ قوت بن کر سامنے آیا۔
حسینیۂ ارشاد اور ایک نئی زبان
1960ء کی دہائی کے آخر میں تہران کا حسینیۂ ارشاد ان کے فکری عروج کا مرکز بن گیا۔ وہاں شریعتی کی تقریریں سننے کے لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہجوم جمع ہونے لگا۔
وہ روایتی منبر کی زبان میں گفتگو نہیں کرتے تھے؛ وہ جدید انسان سے جدید زبان میں بات کرتے تھے:
- سوشیالوجی کے طالب علم سے سوشیالوجی کی زبان میں
- فلسفے کے طالب علم سے فلسفے کی زبان میں
- ایک بے چین نوجوان سے بغاوت، آزادی اور شناخت کی زبان میں
انہوں نے کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ظلم کے مقابل کھڑے ہونے کی علامت بنا دیا۔ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کو صرف ایک مقدس شخصیت نہیں، بلکہ عدل کے استعارے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو صرف ایک صحابی نہیں، بلکہ طبقاتی استحصال کے خلاف احتجاج کی علامت بنایا۔ اور انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو صرف ماضی کا شہید نہیں، بلکہ ہر دور کے مظلوم انسان کی آواز بنا کر پیش کیا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں شریعتی کا قلم نوجوان ذہنوں کو چھونے لگا۔ ان کی اصطلاحات—خصوصاً "تشیعِ علوی و تشیعِ صفوی"، "بازگشت بہ خویشتن" (اپنی اصل کی طرف واپسی) اور "دینِ انقلابی"—نے ایرانی نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا۔ ان کے افکار نے ایسے نوجوانوں کی فکری تربیت کی جو بعد میں انقلاب میں شریک ہوئے۔
سرخ شیعت: طاقت بھی، خطرہ بھی
شریعتی کی فکر کا ایک مرکزی نکتہ یہ تھا کہ تشیع کو محض رسوم اور تاریخی شناخت میں محدود نہ کیا جائے، بلکہ اسے عدل، آزادی اور مزاحمت کی زندہ قوت بنایا جائے۔ اسی پس منظر میں انہوں نے "سرخ شیعت" کی تعبیر استعمال کی۔ ان کے نزدیک ایک ایسا مذہب جو مظلوم کے درد سے بے خبر ہو، ظلم کے سامنے خاموش رہے اور حاکم کے اقتدار کو تقدس فراہم کرے، اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
یہاں شریعتی کی آواز انتہائی مؤثر تھی۔
لیکن یہی وہ مقام بھی تھا جہاں ان کی فکر میں تعمیم (عام فہمی کا ابہام) پیدا ہونے لگی۔ انہوں نے بعض اوقات مذہبی طبقے، فقہاء اور تاریخی مذہبی اداروں کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنے کی کوشش کی۔ ان کا "اسلام منهای آخوند" (علما کے بغیر اسلام) کا تصور اسی فکری کشمکش کا اظہار تھا۔ جدید تاریخی مطالعات بھی واضح کرتے ہیں کہ شریعتی عمومی طور پر علما کے روایتی کردار کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے تھے اور مذہبی روشن فکر (روشن فکران) کو انقلابی تبدیلی کا اصل محرک سمجھتے تھے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا مذہب کی روحانی اور علمی حفاظت صرف سماجی انقلاب سے ممکن ہے؟
یہ وہ سوال تھا جس پر شریعتی کی فکر اور حوزۂ علمیہ کے فکری مزاج میں فاصلہ پیدا ہوا۔
شریعتی کی اصل قوت کیا تھی؟
شریعتی کی سب سے بڑی طاقت فکری بیداری تھی۔
- وہ سوئے ہوئے معاشرے کو جھنجھوڑ سکتے تھے۔
- وہ نوجوان کو اس کے اپنے مذہب سے دوبارہ متعارف کرا سکتے تھے۔
- وہ اسلام کو استعمار، سرمایہ داری اور سیاسی استبداد کے مقابل ایک متحرک قوت کے طور پر پیش کر سکتے تھے۔
- وہ یہ سوال اٹھا سکتے تھے کہ: اگر علیؑ عدل کے علم بردار تھے، تو علیؑ کو ماننے والا معاشرہ ظلم کو کیسے قبول کر سکتا ہے؟
یہ سوال معمولی سوال نہیں تھا؛ شریعتی نے مذہب کو نوجوان کے لیے دوبارہ زندہ موضوع بنا دیا۔
مگر فکری بیداری اور دینی کمال ایک چیز نہیں ہیں۔ یہ فرق شریعتی کے مقام کو سمجھنے کی بنیادی کنجی ہے۔
جہاں شریعتی کا قلم ڈگمگایا
شریعتی ایک ذہین، وسیع المطالعہ اور غیر معمولی خطیب تھے، لیکن ان کی علمی تشکیل بنیادی طور پر جدید سماجی علوم، فلسفے اور سیاسی فکر سے ہوئی تھی۔ وہ مفسر، فقیہ، اصولی، متکلم یا عارف کی حیثیت سے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ اسی لیے اسلام کی بعض پیچیدہ علمی بحثوں میں ان کی تعبیرات محلِ نقد بنیں۔
یہ تنقید محض روایتی قدامت پسندوں کی طرف سے نہیں آئی، بلکہ شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری نے بھی کی، جو خود امام خمینی کے ممتاز شاگرد اور انقلاب کے اہم فکری معمار تھے۔ شہید مطہری، شریعتی کے بعض افکار سے گہرا علمی اختلاف رکھتے تھے۔ انہوں نے شریعتی کی تحریروں میں مفہومی خلط، فلسفہ و سائنس کے فرق کو کم کرنے اور اسلامی نظریات کی بعض غیر دقیق تعبیرات کی نشان دہی کی۔
یہ اختلاف ذاتی عداوت پر مبنی نہیں تھا، بلکہ یہ دو مختلف فکری ذمہ داریوں کا فرق تھا:
- شریعتی کا سوال تھا: مسلمان کو جگایا کیسے جائے؟
- مطہری کا سوال اس سے ایک قدم آگے تھا: جگنے کے بعد اسے صحیح فکر، صحیح عقیدہ اور صحیح دینی بنیاد کہاں سے ملے گی؟
امام خمینی: انقلاب کی روحانی و سیاسی قیادت
یہاں ایک تاریخی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے: ایران کا اسلامی انقلاب صرف شریعتی کی فکری پیداوار نہیں تھا۔
شریعتی نے ذہنوں کو بیدار کیا، مگر انقلاب کو دینی قیادت، سیاسی سمت اور عملی مرکز امام خمینی نے فراہم کیا۔ امام خمینی کی جدوجہد کا سرچشمہ صرف جدید سیاسی نظریات نہیں تھے، بلکہ ان کی بنیاد فقہ، اصول، فلسفہ، اخلاق، عرفان اور اسلامی سیاسی فکر میں تھی۔ نجف اشرف میں ان کے دروسِ ولایتِ فقیہ نے اسلامی حکومت کے ایک باقاعدہ نظریے کو سیاسی پروگرام سے جوڑ دیا۔
یہاں شریعتی اور امام خمینی کے کردار کا بنیادی فرق سامنے آتا ہے:
- شریعتی نے پوچھا: اسلام کو انقلابی شعور کیسے بنایا جائے؟
- امام خمینی نے اس کے ساتھ یہ سوال بھی حل کیا: اسلامی انقلاب کی شرعی، سیاسی اور اجتماعی قیادت کیسے قائم ہوگی اور نظام کیسے چلے گا؟
اسی لیے دونوں کو ایک ہی درجے اور ایک ہی نوعیت کا کردار دینا تاریخی انصاف کے خلاف ہوگا۔
شہید مطہری: فکر کی حفاظت
اگر شریعتی نے نوجوان کو سوال دیا، تو مطہری نے جواب کی علمی بنیاد فراہم کی۔
- اگر شریعتی نے مغرب کے سامنے اسلام کا دفاع جذباتی اور انقلابی زبان میں کیا، تو مطہری نے فلسفہ، کلام، اخلاق اور اسلامی فکر کی مضبوط علمی بنیادوں کے ساتھ مدلل جواب دیا۔
- اگر شریعتی نے کہا کہ اسلام کو حرکت چاہیے، تو مطہری نے واضح کیا کہ محض حرکت کافی نہیں، بلکہ حرکت کے لیے صحیح نظریے اور سمت کی بھی ضرورت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شہید مطہری کی اہمیت انقلاب سے پہلے بھی تھی اور انقلاب کے بعد بھی مسلّم رہی۔ وہ امام خمینی کے ان ممتاز شاگردوں میں تھے جن کی فکری تشکیل براہِ راست امام کی فقہی، اخلاقی اور عرفانی تعلیم سے ہوئی۔
اس لیے شریعتی اور مطہری کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑا کرنا درست نہیں؛ دونوں کی تاریخی ضرورت الگ تھی:
ایک نے نوجوان کے ذہن کا دروازہ کھولا، اور دوسرے نے اس دروازے سے داخل ہونے والی فکر کو مضبوط علمی معیار دیا۔
شاہ کے خلاف شریعتی
شریعتی کی فکر نے شاہی نظام کے لیے اس لیے خطرہ پیدا کیا کہ وہ صرف حکومت کی سیاسی مخالفت نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اس نظام کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرتے تھے۔ ان کی تقریریں نوجوانوں کو یہ احساس دلاتی تھیں کہ مذہب جمود کا نام نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا نام ہے۔
حسینیۂ ارشاد کی سرگرمیوں پر حکومت کی نظر پڑی اور بالآخر 1973ء میں اسے بند کر دیا گیا۔ شریعتی گرفتار ہوئے اور انہوں نے طویل قید و تنہائی کا سامنا کیا۔ 1975ء میں رہائی کے بعد بھی ان پر سخت پابندیاں رہیں۔ ان کی گرفتاریوں اور ریاستی نگرانی نے ان کی آواز اور شہرت کو مزید بڑھا دیا۔
یہ تاریخ کا ایک عجیب مظہر تھا:
جس شخص کو خاموش کرنے کے لیے حکومت نے پہرے بٹھائے، اسی جبری خاموشی نے اس کی آواز کو اور زیادہ دور تک پہنچا دیا۔
لندن کی آخری منزل
1977ء میں شریعتی ایران چھوڑ کر یورپ پہنچے۔ جون 1977ء میں وہ لندن میں اچانک وفات پا گئے۔ ان کی موت کے بارے میں سرکاری مؤقف دل کا دورہ تھا، جبکہ شاہ کی خفیہ ایجنسی "ساواک" کے ملوث ہونے کا شبہ بھی طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے (تاہم حتمی ثبوت نہ ہونے کے سبب اسے قطعی قتل قرار دینا تاریخی احتیاط کے منافی ہے)۔ ان کی عمر اس وقت صرف چوالیس برس تھی۔
ان کی موت کے چند ہی ماہ بعد ایران میں وہ عوامی طوفان اٹھا جس نے بالآخر شاہی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ انقلاب صرف شریعتی کی وجہ سے آیا؛ لیکن یہ کہنا بھی تاریخ سے ناانصافی ہوگی کہ انقلاب سے پہلے شریعتی کی فکر نے ایرانی نوجوانوں کی ایک پوری نسل کے ذہن کو ہموار نہیں کیا تھا۔
انقلاب ایک دریا، جس کے کئی چشمے
انقلابِ ایران کسی ایک شخص، ایک کتاب یا ایک تقریر کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پسِ منظر میں کئی دہائیوں کی مذہبی بیداری، سیاسی جدوجہد، علما کی قربانیاں، طلبہ کی تحریکیں، عوامی ناراضی، شاہی استبداد کے خلاف اجتماعی نفرت، عالمی سیاسی تغیرات اور مختلف فکری لہریں کارفرما تھیں۔
اس پورے منظرنامے میں شریعتی کا مقام ایک بیدارگر مفکر کا ہے:
- انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ اسلام صرف ماضی کا کوئی تاریخی نسخہ نہیں، بلکہ وہ عصرِ حاضر کے ظلم کے خلاف بھی ببانگِ دہل بول سکتا ہے۔
- امام خمینی نے اس بیداری کو قیادت، شرعی بصیرت اور فیصلہ کن سیاسی جدوجہد کی سمت دی۔
- شہید مطہری نے جدید فکری فتنوں کے مقابل اسلام کی نظریاتی بنیاد کو مستحکم کیا۔
- اور بالآخر عوام نے اس انقلابی فکر کو سڑکوں پر عملی تاریخ میں ڈھال دیا۔
یہی انقلاب کی ایک متوازن اور مکمل تصویر ہے۔
شریعتی کو نہ بت بنائیں، نہ مٹائیں
شریعتی کے حوالے سے دو انتہائیں پائی جاتی ہیں:
- ایک طرف وہ لوگ ہیں جو انہیں انقلابِ اسلامی کا واحد مفکر، واحد معمار اور تقریباً ہر دینی مسئلے کی آخری سند تسلیم کر لیتے ہیں۔
- دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ان کی بعض فکری لغزشوں کو بنیاد بنا کر ان کی تمام تر خدمات کو یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔
دونوں رویے علمی دیانت کے خلاف ہیں۔
انہوں نے مذہب کو موروثی امتیاز، طبقاتی اجارہ داری یا محض بے روح رسم تک محدود کر دینے کے رجحان کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی تنقید کا بنیادی مقصد دین کی روح کو جمود اور مفاد پرستی سے پاک کرنا تھا، جس میں ایک مخلصانہ اصلاحی جذبہ کارفرما تھا۔ تاہم، اس عمل میں ان کی فکر بعض مقامات پر تعمیم کا شکار ہوئی اور مذہبی طبقے پر تنقید کا دائرہ ضرورت سے زیادہ وسیع ہو گیا۔ اس لیے ان کے اعتراضات کو اصلاحی تناظر میں سمجھنا چاہیے، نہ کہ اسے پورے دینی و علمی طبقے پر ایک حتمی اور کلی فیصلے کے طور پر لاگو کیا جائے۔
شریعتی کو ان کی علمی قوتوں اور کمزوریوں، دونوں کے ساتھ پڑھنا چاہیے:
- ان کے بیانیے سے فکر کا تحرک اور بیداری تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر عقائد و احکام کی باریکیاں ان کی ہر تعبیر سے اخذ نہیں کی جا سکتیں۔
- ان کی سماجی بصیرت سے فائدہ ضرور اٹھایا جا سکتا ہے، مگر اسلامی معارف کی اصل رہنمائی کے لیے قرآن، سنت، اہلِ بیت علیہم السلام اور مستند علمی روایت کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شریعتی کی فکر اپنے فکری دائرے کی حد تک پہنچتی ہے، اور امام خمینی و شہید مطہری کی دینی و علمی روایت اس تشنگی کو سیراب کرتی ہے۔
شریعتی کا تاریخی مقام
ڈاکٹر علی شریعتی کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ ہر نظریاتی یا فقہی مسئلے میں حرفِ آخر تھے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے انتشار کے اس دور میں نوجوان مسلم ذہن کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر یہ سوال پوچھنے کی جرات پیدا کی:
"تم مسلمان کیوں ہو؟"
- انہوں نے مذہب کو محض روایتی وراثت کے خانے سے نکال کر شعور اور آگہی کا مسئلہ بنایا۔
- انہوں نے واقعۂ کربلا کو محض تاریخی غم سے آگے بڑھا کر زندہ ضمیر کی للکار بنایا۔
- انہوں نے حضرت علیؑ کو محض عقیدت کا پیکر نہیں، بلکہ عملی عدل کا معیار قرار دیا۔
- انہوں نے حضرت ابوذرؓ کو محض ایک صحابی نہیں، بلکہ استبداد اور ناانصافی کے خلاف ابدی احتجاج کا استعارہ بنایا۔
- سب سے بڑھ کر، انہوں نے ایک فکری کشمکش میں مبتلا نسل کو یہ خود اعتمادی بخشی کہ مسلمان ہونے کا مطلب مغرب کی اندھی تقلید کرنا ہے نہ مشرق کے جمود کا اسیر ہونا؛ بلکہ اپنی تہذیبی بنیادوں پر کھڑے ہو کر جدید دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا ممکن ہے۔
یہ ان کا تاریخی کارنامہ ہے۔ مگر اس کارنامے کو ازخود ایک کامل دینی نظام قرار دینا خود شریعتی کی فکر کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
شریعتی انقلاب کے بیدارگر تھے، امام خمینی اس کے قائد تھے، اور شہید مطہری اس کے مایہ ناز فکری محافظ۔
- شریعتی نے ذہنوں میں شعور کی چنگاری روشن کی۔
- امام خمینی نے اس جذبے کو عملی و سیاسی انقلاب کی راہ دکھائی۔
- شہید مطہری نے اس روشنی کو مستحکم نظریاتی بنیادیں اور دوام بخشا۔
تاریخی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ شریعتی کو نہ امام خمینی کا متبادل ٹھہرایا جائے، نہ مطہری کا ہم پلہ، اور نہ ہی ان کے گراں قدر کردار کو انقلاب کی تاریخ کے اوراق سے حذف کیا جائے۔
وہ ایک غیر معمولی ذہن تھے،
ایک بے چین اور پرشور روح تھے،
ایک بیدارگر قلم تھے،
اور ایک عظیم انقلابی مفکر تھے۔
مگر ہر مفکر ہر میدان کا رہنما نہیں ہوتا۔ شریعتی کی سب سے بڑی خدمت غالباً یہی تھی کہ انہوں نے ایک پوری نسل کو سوچنے، کھوجنے اور بولنے پر آمادہ کیا۔
اور تاریخ کی عدالت میں، بسا اوقات ایک زندہ سوال، ایک پورے انقلاب سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔




