کمیونٹی اور سوسائٹی
دینی مراکز کے مگرمچھ: تقدس کے پردے میں چھپے شکاری
مصنف نے ایک خونخوار مگرمچھ کی تمثیل کے ذریعے دینی مراکز، اوقاف اور مساجد میں چھپے ان بددیانت عناصر کو بے نقاب کیا ہے جو عوامی اعتماد اور غریبوں کے چندوں پر پلتے ہیں۔ تقدس کے لبادے میں چھپے یہ لوگ نہ صرف یتیموں، مریضوں اور طلبہ کا حق مارتے ہیں بلکہ ہر قسم کے سوال، تنقید اور احتساب کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی لباس یا عہدہ کسی کو شفافیت اور بازپرس سے بالاتر نہیں بناتا، اور خاموش تماشائی بنے رہنا دراصل ان کے ظلم کو تقویت دینا ہے۔ بالآخر مصنف نے زور دیا ہے کہ قوم کی امانتوں اور نسلوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے اجتماعی جرات، مکمل مالی شفافیت اور کڑے احتساب کی فوری ضرورت ہے۔