باسمہ سبحانہ
گزشتہ دنوں ہمارے مضمون بعنوان "تنظیم المکاتب کا نصابِ تعلیم: اعتراض کے کٹہرے میں نہیں، تحقیق کی میز پر" کے بعد بعض احباب نے یہ سوال اٹھایا کہ اس میں محض ’’نائبِ خاص‘‘ کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے، جبکہ نصاب میں ’’نائبِ امام‘‘ کا ذکر مجمل طور پر موجود ہے۔ بعض احباب نے ذاتی پیغامات میں وہ تحریر بھی بھیجی جو اب فیس بک پر کسی اور نام سے گردش کر رہی ہے، جس کے اختتام پر یہ جملہ درج تھا:
"اگر آپ کسی کے آلہ کار نہیں ہوں گے تو بات سمجھیں گے؛ لیکن اگر آپ کو چھوڑا گیا ہے، تو اللہ آپ کا حساب کتاب کرے گا۔"
ہم نے اس پر فوری کوئی جواب نہیں دیا، تاکہ پہلے اس مسئلے پر تحقیق و مطالعہ مکمل کر لیا جائے اور پھر اس کا نچوڑ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ جہاں تک ’’آلہ کار‘‘ ہونے کے الزام کا تعلق ہے، تو انسان عام طور پر اپنے ہی مزاج کے مطابق دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ خاکسار خود کو امامِ زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا ایک ادنیٰ سپاہی سمجھتا ہے، جن کی راہ میں یہ قلم چلتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی خوشنودی مطلوب رہی، نہ کسی سے خوف محسوس کیا۔ میری ایک آزاد فکر، خودمختار سوچ، اور اعتدال پسندی شعار ہے؛ حق کی راہ میں قلم چلانا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ میرا قلم میرے پروردگار کی امانت ہے۔
لہٰذا، شبہات کے ازالے اور علمی ضرورت کے پیشِ نظر اپنے مطالعے کا نچوڑ پیشِ خدمت ہے۔ گزارش ہے کہ منصفانہ انداز میں مکمل تحریر کا مطالعہ فرمائیں؛ ہر تعمیری تنقید کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
تمہید
امامِ زمانہ (علیہ السلام) کی غیبتِ کبریٰ کے بعد ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: جب امامِ معصوم (علیہ السلام) ظاہری طور پر موجود نہ ہوں، تو دینی اور اجتماعی معاملات میں امت کس کی طرف رجوع کرے؟
یہ سوال محض نماز، روزہ، خمس اور نکاح جیسے انفرادی احکام تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ اس کے دائرے میں قضاوت، اوقاف، یتامیٰ کی سرپرستی، اموالِ لاوارث، اجتماعی نظم، دفاع، سیاسی اقتدار، اور بعض صورتوں میں جنگ و جہاد جیسے حساس امور بھی شامل ہیں۔
یہیں سے ایک وسیع فقہی ڈھانچہ سامنے آتا ہے، جسے بعد کے فقہاء نے مختلف اصطلاحات میں بیان کیا:
نیابتِ عامہ، ولایتِ فقیہ، امورِ حسبیہ، مرجعیت، اور ولایتِ امر۔
ان تمام اصطلاحات کو ایک دوسرے کا مکمل مترادف سمجھ لینا علمی غلطی ہوگی۔ اس پوری بحث کا بنیادی اصول درج ذیل ہے:
کسی جامع الشرائط فقیہ کا نائبِ عام ہونا، لازماً اسے امامِ معصوم (علیہ السلام) کے تمام تر اختیارات کا مالک نہیں بنا دیتا؛ اور نہ ہی ہر مرجعِ تقلید کا وجود خود بخود ولیِ امر (اجتماعی نظم کے حاکم) ہونے کے مترادف ہے۔
اسی کے ساتھ، یہ کہنا بھی درست نہیں کہ غیبت کے دور میں جہاد کا تصور سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ باریک اور دقیق ہے۔
بنیادی سوالات درج ذیل ہیں:
- کیا جہادِ ابتدائی عصرِ غیبت میں فی نفسہٖ مشروع ہے؟
- اگر مشروع ہے، تو کیا وہ واجب بھی ہو سکتا ہے؟
- اگر واجب ہو سکتا ہے، تو اس کے اعلان، قیادت اور نفاذ کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟
- اگر یہ موقف اپنایا جائے کہ غیبت میں جہاد اپنی جگہ باقی ہے لیکن اس کے لیے نائبِ امام کی اجازت درکار ہے، تو یہیں سے ایک نئی فقہی بحث کا آغاز ہوتا ہے۔
نیابتِ خاص اور نیابتِ عام
۱۔ نیابتِ خاص: ایک معین اور شخصی منصب
غیبتِ صغریٰ کے دوران امامِ مہدی (علیہ السلام) کے چار معروف نوابِ خاص تھے:
- عثمان بن سعید عمری (رحمۃ اللہ علیہ)
- محمد بن عثمان عمری (رحمۃ اللہ علیہ)
- حسین بن روح نوبختی (رحمۃ اللہ علیہ)
- علی بن محمد سمری (رحمۃ اللہ علیہ)
ان کی نیابت کی بنیادی خصوصیت ان کا باقاعدہ، منصوص اور شخصی تقرر تھا۔ وہ امام (علیہ السلام) اور شیعہ عوام کے درمیان رابطے کا مخصوص واسطہ تھے۔ تاہم، غیبتِ کبریٰ کے آغاز کے ساتھ ہی یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ لہٰذا، آج کے دور میں کسی بھی فرد کے لیے یہ دعویٰ کرنا کہ وہ امامِ زمانہ (علیہ السلام) کا ’’نائبِ خاص‘‘ ہے، شیعہ عقیدۂ غیبت کے مسلمہ تاریخی فہم کے سراسر منافی ہے۔
۲۔ نیابتِ عام: کسی مخصوص فرد تک محدود نہیں
نیابتِ عامہ کسی ایک متعین فرد کے لیے مخصوص نہیں۔ ہر وہ فقیہ جو تمام شرائط پر پورا اترتا ہو (جامع الشرائط ہو)، وہ اس منصب کا مصداق بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مطلوبہ شرعی صفات کا حامل ہو۔
غیبتِ کبریٰ میں فقہاء کی طرف رجوع کرنے کے روائی شواہد موجود ہیں۔ امامِ زمانہ (علیہ السلام) سے منسوب مشہور توقیع میں ارشاد ہوا ہے:
«وَأَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَأَنَا حُجَّةُ اللَّهِ»¹
"اور رہے پیش آنے والے نئے واقعات، تو ان میں ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں، اور میں اللہ کی حجت ہوں۔"
یہ روایت عصرِ غیبت میں فقہاء کی طرف رجوع کرنے کی بنیادی دلیل سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ روایات کے راویوں (روات)—جن سے اصولیین کے اجماع کے مطابق احکام کا استنباط کرنے والے فقہاء مراد ہیں—کی طرف رجوع کا حکم خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہر فقیہ کو امام کے تمام حکومتی اور سیاسی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اس نیابت کے دائرۂ اختیار کو معین کرنے کے لیے مستقل فقہی استدلال کی ضرورت ہے۔
نیابتِ عام کی حقیقت
شیعہ فقہاء کے مابین اس بات پر اتفاق ہے کہ غیبت کے دوران فقہی ماہرین کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ البتہ اختلاف اس نکتے پر ہے کہ فقیہ کا دائرۂ اختیار کہاں تک وسیع ہے:
- کیا فقیہ کا اختیار صرف فتوے دینے (افتاء) تک محدود ہے؟
- کیا یہ قضاوت اور عدالتی نظام تک پھیلا ہوا ہے؟
- کیا اس کا اطلاق صرف عمومی فلاحی و ناگزیر امور (امورِ حسبیہ) پر ہوتا ہے؟
- یا پھر یہ وسیع تر اجتماعی حکمرانی—یعنی مکمل سیاسی ولایت اور حاکمیت—تک محیط ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں مختلف فقہی مکاتبِ فکر ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔
جہادِ ابتدائی کے بارے میں فقہی نقطہ ہائے نظر
اکثر شیعہ فقہاء (مشہور) کے نزدیک جہادِ ابتدائی کے لیے تین شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:
- امامِ معصوم کی موجودگی: اسی بنا پر، عصرِ غیبت میں جہادِ ابتدائی کو غیر مشروع سمجھا گیا ہے۔
- مسلمانوں کی مناسب عسکری قوت: مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ جنگ کا آغاز کر سکیں۔
- دعوتِ اسلام اور اتمامِ حجت: جنگ چھیڑنے سے قبل مخالفین کے سامنے دینِ اسلام کی حقانیت واضح کرنا اور ان پر حجت تمام کرنا ضروری ہے۔²
مزید برآں، امامِ معصوم کی براہِ راست موجودگی اور ان کی یا ان کے نائبِ خاص کی اجازت کو روایتی طور پر ایک غیر متبدل شرط تسلیم کیا گیا ہے۔³
متقدمین کا مشہور موقف: امامِ معصوم کی شرط
فقہائے شیعہ کے ایک بڑے گروہ کا موقف رہا ہے کہ جہادِ ابتدائی کے لیے امامِ معصوم کی موجودگی ناگزیر ہے۔ اس موقف کے حامیوں میں شامل ہیں:
- شیخ طوسی (۳۸۵–۴۶۰ھ)⁴
- قاضی ابنِ براج (تقریباً ۴۰۰–۴۸۱ھ)⁵
- ابنِ ادریس حلی (تقریباً ۵۴۳–۵۹۸ھ)
- محققِ حلی (۶۰۲–۶۷۶ھ)⁶
- علامہ حلی (۶۴۸–۷۲۶ھ)⁷
- شہیدِ ثانی (۹۱۱–۹۵۵ یا ۹۶۵ھ)⁸
- صاحبِ جواہر، شیخ محمد حسن نجفی (۱۲۰۲–۱۲۶۶ھ)⁹
ان فقہاء کی رائے میں جہادِ ابتدائی سختی کے ساتھ امامِ معصوم کی موجودگی اور اجازت پر موقوف ہے، اور یہ اختیار نائبینِ عام (فقہاء) تک منتقل نہیں ہوتا۔¹⁰
غیبت میں جہادِ ابتدائی کے قائل فقہاء
تاہم، یہ نظریہ مکمل طور پر متفق علیہ نہیں ہے۔ متقدمین میں کئی جلیل القدر فقہاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے امامِ معصوم کی ذاتی موجودگی کو لازمی شرط قرار نہیں دیا، اور شرائط کی موجودگی میں عصرِ غیبت کے دوران بھی جہادِ ابتدائی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- شیخ مفید¹¹
- ابو الصلاح حلبی¹²
- سلار دیلمی¹³
معاصر فقہاء کا موقف
دورِ حاضر کے متعدد جید مراجع و علماء نے بھی جہادِ ابتدائی کے لیے امامِ معصوم کی موجودگی کی شرط پر علمی و فقہی اشکالات وارد کیے ہیں۔ ان میں نمایاں نام یہ ہیں:
- آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئی¹⁴
- سید علی خامنہ ای¹⁵
- آیت اللہ حسین علی منتظری¹⁶
- آیت اللہ محمد مؤمن¹⁷
- آیت اللہ عبد اللہ جوادی آملی وغیرہ
ان فقہاء کے نزدیک قرآنی آیات اور معصومین (علیہم السلام) کی روایات سے یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتی کہ جہادِ ابتدائی کے لیے امامِ معصوم کا بالمشافہ موجود ہونا قطعی شرط ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر باقی تمام معروضی شرائط پوری ہوں، تو عصرِ غیبت میں بھی جہادِ ابتدائی واجب ہو سکتا ہے۔¹⁸ ان کے تجزیے کے مطابق، بعض روایات میں استعمال ہونے والی اصطلاح ’’امامِ عادل‘‘ سے مراد صرف امامِ معصوم ہی نہیں، بلکہ ایسا عادل حاکم یا رہبر بھی ہو سکتا ہے جو مطلوبہ شرعی معیارات پر پورا اترتا ہو۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئیؒ کے موقف کا تجزیہ
معاصر فقہ میں اپنے غیر معمولی مقام کے باعث آیت اللہ العظمیٰ خوئی کا نظریہ اس بحث میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ چونکہ آیت اللہ خوئی فقیہ کی ولایت کو صرف ’’امورِ حسبیہ‘‘ تک محدود مانتے تھے، اس لیے جہاد کے بارے میں بھی ان کی رائے اتنی ہی محدود تھی۔
متن کا گہرائی سے جائزہ لینے پر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ منہاج الصالحین (کتاب الجہاد) میں آیت اللہ خوئی اس مسئلے کو دو واضح مراحل میں تقسیم کرتے ہیں:
پہلا مرحلہ: کیا اصل جہاد کے لیے غیبت کے زمانے میں امام یا نائبِ خاص کی اجازت شرط ہے؟
روایات اور دلائل کی جانچ پڑتال کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:
«وقد تحصل من ذلك أن الظاهر عدم سقوط وجوب الجهاد في عصر الغيبة وثبوته في كافة الأعصار لدى توفر شرائطه»¹⁹
"اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ عصرِ غیبت میں جہاد کا وجوب ساقط نہیں ہوا؛ بلکہ تمام ادوار میں شرائط کے فراہم ہونے کی صورت میں یہ بدستور ثابت ہے۔"
(واضح رہے کہ آیت اللہ حسین وحید خراسانی نے منہاج الصالحین کے اسی مقام پر حاشیہ چڑھاتے ہوئے آیت اللہ خوئی سے اختلاف کیا ہے اور لکھا ہے: «بل الظاهر السقوط»²⁰ — "بلکہ ظاہر یہ ہے کہ وجوب ساقط ہو چکا ہے۔")
شرائط کی فراہمی کے بعد آیت اللہ خوئی مزید فرماتے ہیں:
«فإذا توفرت هذه الشرائط عندهم وجب عليهم الجهاد والمقاتلة معهم»²¹
"جب یہ شرائط پوری ہو جائیں، تو ان پر جہاد کرنا اور ان سے قتال کرنا واجب ہو جائے گا۔"
چنانچہ آیت اللہ خوئی کے نزدیک مسئلہ محض جہاد کے ’’جواز‘‘ تک محدود نہیں ہے؛ وہ صریح الفاظ میں ’’عدمِ سقوطِ وجوب‘‘ (وجوب کے برقرار رہنے) کے قائل ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ جہاد واجب ہو جاتا ہے (وجب علیہم)۔
دوسرا مرحلہ: جہاد کے حکم اور نفاذ کا اختیار کس کے پاس ہے؟
اس کے بعد آیت اللہ خوئی اگلا سوال قائم کرتے ہیں:
«أنا لو قلنا بمشروعية أصل الجهاد في عصر الغيبة فهل يعتبر فيها إذن الفقيه الجامع للشرائط أولا؟»²²
"اگر ہم عصرِ غیبت میں اصل جہاد کی مشروعیت کو تسلیم کر لیں، تو کیا اس میں جامع الشرائط فقیہ کی اجازت شرط ہوگی یا نہیں؟"
اس شرطیہ جملے (لو قلنا) کو سیاق سے الگ کر کے یہ دعویٰ کرنا درست نہیں کہ وہ جہادِ ابتدائی کے قائل نہیں؛ کیونکہ وہ اس سے قبل وجوب کے باقی رہنے کا واضح فیصلہ صادر کر چکے ہیں۔ اب جب قیادت اور اجازت کی بات آتی ہے، تو وہ فرماتے ہیں:
«فلا محالة يتعيّن ذلك في الفقيه الجامع للشرائط»²³
"پس ناگزیر طور پر یہ ذمہ داری جامع الشرائط فقیہ کے ساتھ ہی متعین ہو جاتی ہے۔"
اس کے بعد وہ اس کی فقہی بنیاد بیان کرتے ہیں:
«فإنه يتصدى لتنفيذ هذا الأمر المهم من باب الحسبة»²⁴
"کیونکہ وہ اس عظیم امر کے نفاذ کی ذمہ داری بابِ حسبہ کے تحت سنبھالتا ہے۔"
یہ جدید شیعہ فقہی نظریے کی ایک نہایت عمیق تعبیر ہے۔ آیت اللہ خوئی جامع الشرائط فقیہ کے عملی تصرف اور قیادت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر اسے امام خمینی کے نظریۂ ولایتِ مطلقۂ فقیہ پر موقوف نہیں کرتے۔ آیت اللہ خوئی کے استدلال کی بنیاد حفظِ نظام، انتشار و بدامنی (ہرج و مرج) کی روک تھام، قیادت کی ناگزیریت اور امورِ حسبیہ پر قائم ہے۔ جنگ جیسا حساس معاملہ ایک ایسے بااختیار قائد کا تقاضا کرتا ہے جس کے فیصلے کی سماج میں پذیرائی ہو، تاکہ ناعاقبت اندیش عناصر افراتفری کا سبب نہ بنیں۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قیادت کا اختیار صرف ولایتِ مطلقہ کے نظریے سے ہی ثابت نہیں ہوتا؛ بلکہ اجتماعی بقا اور بابِ حسبہ کے تحت بھی یہ بھاری ذمہ داریاں فقیہ کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہیں۔
دیگر معاصر فقہاء کا زاویۂ نگاہ
آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی
آیت اللہ سیستانی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ولایتِ فقیہ کے دائرۂ کار کو نہایت واضح انداز میں تقسیم کیا ہے:
«الولاية فيما يعبّر عنها في كلمات الفقهاء (رض) بالامور الحسبية تثبت لكل فقيه جامع لشروط التقليد»²⁵
"وہ ولایت جسے فقہاء کی اصطلاح میں امورِ حسبیہ کہا جاتا ہے، تقلید کے تمام شرائط پر پورا اترنے والے ہر فقیہ کے لیے ثابت ہے۔"
وہ مزید فرماتے ہیں:
«وأما الولاية فيما هو أوسع منها من الامور العامة التي يتوقّف عليها نظام المجتمع الإسلامي فلمن تثبت له من الفقهاء ولظروف إعمالها شروط إضافية ومنها أن يكون للفقيه مقبولية عامة لدى المؤمنين»²⁶
"رہا ان وسیع تر عمومی معاملات میں ولایت کا معاملہ جن پر مسلم معاشرے کے نظم کا دارومدار ہے، تو جن فقہاء کے لیے یہ ثابت ہے، اس کے نفاذ کے لیے اضافی شرائط درکار ہیں—جن میں سے ایک یہ ہے کہ فقیہ کو مؤمنین کے درمیان عمومی مقبولیت حاصل ہو۔"
یہ تفریق انتہائی بنیادی ہے: ولایت کا منصب یک جہتی نہیں ہے۔ اگر اسلامی سماج کے وجود اور بقا کا دارومدار جنگ پر آ ٹھہرے، تو اس کی تشخیص وہ فقیہ کرے گا جو اجتماعی نظم کا ذمہ دار ہو، بشرطیکہ وہ مطلوبہ شرائط اور عوامی مقبولیت رکھتا ہو۔
مرجعِ تقلید اور ولیِ امر کا فرق
- مرجعِ تقلید: وہ فقیہ ہے جس کی طرف مکلفین شرعی احکام جاننے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
- ولیِ امر: اس کا تعلق اجتماعی نظم، حکومتی فیصلوں اور سماجی مفادات کی نگہبانی سے ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ ایک فقیہ عظیم مرجعِ تقلید ہو، لیکن سیاسی اقتدار کے توسیعی دائرے کے بارے میں اس کی رائے مختلف ہو۔ اس لیے ہر مرجع کو بلا تفریق ولیِ امر یا امامِ معصوم کے جملہ اختیارات کا مالک سمجھ لینا درست نہیں۔
دفاعی جہاد بمقابلہ جہادِ ابتدائی
- جہادِ دفاعی: یہ مسلمانوں کی جان، مال، سرزمین اور مقدسات پر دشمن کے حملے کے وقت لازم آتا ہے۔ اپنی جان اور مال کا دفاع ایک فطری اور ناقابلِ تنسیخ شرعی حق ہے۔ حملہ آور کے مقابلے میں دفاع کرنے کے لیے کسی مرجع یا نائبِ امام کی پیشگی اجازت کا انتظار نہیں کیا جاتا۔
- جہادِ ابتدائی: اس سے مراد خود جنگ کا آغاز کرنا ہے۔ فقہی اجازت—خواہ ولایتِ امر کے تحت ہو یا بابِ حسبہ کے تحت—کا سوال دراصل اسی قسم کے جہاد سے مخصوص ہے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای
سید علی خامنہ ای کا موقف ہے کہ ولیِ فقیہ مفادِ عامہ (مصلحتِ عامہ) کو مدنظر رکھتے ہوئے جہادِ ابتدائی کی اجازت دینے کا مجاز ہے:
*«بلکہ این نظر اقویٰ است»*²⁷
"بلکہ یہی نظریہ زیادہ مضبوط (اقویٰ) ہے۔"
اگرچہ آیت اللہ خوئی اور سید علی خامنہ ای دونوں عصرِ غیبت میں فقیہ کے زیرِ اثر جہاد کو مشروع مانتے ہیں، لیکن دونوں کے استدلال کی بنیادیں مختلف ہیں:
- آیت اللہ خوئی اصل وجوب کو برقرار مانتے ہیں، مگر اس کے نفاذ کو بابِ حسبہ اور ہرج و مرج کی روک تھام کے تحت فقیہ کے سپرد کرتے ہیں۔
- سید علی خامنہ ای اس اختیار کو براہِ راست ولایتِ امر اور مصلحتِ عامہ کے دائرۂ اختیار سے وابستہ کرتے ہیں۔²⁸
آیت اللہ عبد اللہ جوادی آملی
آیت اللہ جوادی آملی بھی اس نوعیت کے جہاد کو عصرِ غیبت میں جائز مانتے ہیں، لیکن اس کے لیے ’’ولیِ فقیہ جامع الشرائط‘‘ کی اجازت و نفاذ کو ایک ناگزیر اور ساختی شرط قرار دیتے ہیں۔²⁹
آیت اللہ حسین علی منتظری
آیت اللہ منتظری نے اس مسئلے کو ایک متبادل زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے جہادِ ابتدائی کی اس تشریح کو یکسر مسترد کیا جس میں جبری مذہب کی تبدیلی، علاقائی توسیع پسندی، یا دیگر اقوام پر تسلط کا شائبہ ہو۔ انہوں نے جہادِ ابتدائی کی بنیادوں کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے تمام جائز جنگی کارروائیوں کو دفاع کی مختلف صورتوں میں شامل کیا۔³⁰
عصرِ غیبت میں جہاد کے چار فقہی مناہج
عصرِ غیبت میں جہاد کے حوالے سے شیعہ فقہاء کے آراء کو بنیادی طور پر چار زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- مشہور متقدمین کا موقف: امامِ معصوم کی عدم موجودگی کے باعث جہادِ ابتدائی مکمل طور پر ساقط ہے۔
- مشروط بقائے وجوب: اصل فریضہ اپنی جگہ قائم ہے، لیکن اس کا اطلاق روایتی کڑی شرائط کے پورا ہونے پر موقوف ہے۔
- بابِ حسبہ کے تحت نفاذ: وجوب برقرار ہے، لیکن بدامنی اور انتشار کو روکنے کے لیے اس کا حکم اور قیادت صرف جامع الشرائط فقیہ کا حق ہے (آیت اللہ خوئی کا موقف)۔
- اختیارِ ولیِ امر: اس نوعیت کے جہاد کے آغاز کا فیصلہ مصلحتِ عامہ کی بنیاد پر حاکمِ شرع یا ولیِ فقیہ کا صوابدیدی اختیار ہے (آیت اللہ خامنہ ای کا موقف)۔
تنظیم المکاتب کے نصاب پر انطباق
نصابِ تعلیم کی متنازعہ عبارت یہ ہے:
"ہمارے ہاں جہاد بغیر نائبِ امام (کسی ذمہ دار) کی اجازت کے نہیں ہوتا۔"
۱۔ برصغیر کا سماجی اور تاریخی تناظر
ہندوستان کے کثیر مذہبی، آئینی اور تاریخی تناظر میں اس جملے کو دیکھا جائے تو اس کا بنیادی مقصد بالکل واضح ہے:
جہاد کوئی انفرادی من مانی نہیں، اور نہ ہی یہ غیر ذمہ دار اور خود ساختہ مسلح گروہوں کا استحقاق ہے۔
یہ اصول فقہی ڈسپلن، حفظِ نظام اور اجتماعی مفاد سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مختلف مذاہب آئینی ضابطوں کے تحت اکٹھے رہتے ہوں، ریاستی و قانونی نظم سے ہٹ کر کی جانے والی کوئی بھی مسلح کارروائی شدید فساد اور انارکی کو جنم دے سکتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی فرد یا جتھے کو اپنی مرضی سے جہاد کا بگل بجانے سے روکنا ایک بنیادی حفاظتی تدبیر ہے۔
۲۔ ’’نائبِ امام‘‘ کا مفہوم لازماً ’’ولیِ فقیہ‘‘ نہیں
جب یہ درسی کتب لکھی گئیں، اس وقت ولایتِ فقیہ کی موجودہ سیاسی و ریاستی ساخت رائج نہیں تھی۔ پس اس دور میں ’’نائبِ امام‘‘ سے مراد کوئی مخصوص سیاسی عہدہ نہیں تھا، بلکہ:
- مجاز دینی و شرعی حکام،
- باصلاحیت جامع الشرائط فقہاء،
- معتبر دینی قیادت،
- یا ایسا ذمہ دار ادارہ جاتی نظم تھا جو شہریوں کو انفرادی جنگجوئی سے باز رکھ سکے۔
۳۔ معاصر تقاضوں کے مطابق درسی اصلاح کی تجویز
اس متن کو جدید تدریسی اور فقہی اسلوب میں طلباء کے لیے اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے:
"عصرِ غیبت میں جہاد کے احکام اس کی قسم پر منحصر ہیں۔ جہاں تک جہادِ ابتدائی کا تعلق ہے، تو فقہاء میں اختلاف ہے: بعض اسے امامِ معصوم کی عدم موجودگی میں ساقط سمجھتے ہیں، جبکہ بعض اسے سخت شرائط کے ساتھ باقی مانتے ہوئے فقیہِ جامع الشرائط یا ولیِ امر کی اجازت سے مشروط کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، دفاعی جہاد جان، مال اور مقدسات کے تحفظ کے لیے ہر حال میں ایک شرعی فریضہ ہے۔ البتہ کسی بھی فرد یا غیر ذمہ دار تنظیم کو اپنے طور پر مسلح کارروائی چھیڑنے یا جہاد کے اعلان کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں ہے۔"
اس وضاحت سے نصاب کا اصل مقصد بھی برقرار رہتا ہے، علمی دیانت کے ساتھ فقہی آراء کا اختلاف بھی سامنے آ جاتا ہے، اور جدید دور میں کسی منفی غلط فہمی کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
فیصلہ کن فقہی تفریق: مشروعیت بمقابلہ اختیارِ نفاذ
اس پوری بحث کا سب سے بنیادی تجزیاتی نکتہ دو الگ سوالات کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنا ہے:
- کیا عصرِ غیبت میں جہادِ ابتدائی اپنی اصل میں مشروع ہے؟
- اگر مشروع ہے، تو اس کے اعلان، قیادت اور نفاذ کا مجاز کون ہے؟
اگر کوئی فقیہ اس کی اصولی مشروعیت کو تسلیم بھی کر لے، تب بھی عملی نفاذ کا سوال ایک جداگانہ مسئلہ ہے۔ جیسا کہ آیت اللہ خوئی نے متنبہ فرمایا:
«تصدي غيره لذلك يوجب الهرج والمرج»³²
"اس کے [جامع الشرائط فقیہ کے] علاوہ کسی اور کا اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا بدامنی اور افراتفری کا موجب بنے گا۔"
چونکہ جنگ پوری قوم اور ملت کے وجود پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے مسلح کارروائیوں کا آغاز انفرادی جذبات، فرقہ وارانہ نعروں، یا چند قرآنی آیات کی من مانی تشریحات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصولی نکتہ روایتی فقہی نظم کو جدید دور کے شدت پسند گروہوں (جیسے داعش وغیرہ) کے نراجی رویوں سے جدا کرتا ہے۔
نتیجہ
نیابتِ عامہ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی ایک فقیہ امامِ معصوم (علیہ السلام) کا مطلق اور ہمہ گیر متبادل بن جائے۔ بلکہ یہ غیبتِ کبریٰ میں احکامِ شریعت کی توضیح، اخلاقی رہنمائی، اور ناگزیر اجتماعی ضروریات کے انتظام کے لیے فقہاء کی طرف رجوع کا ایک شرعی نظام ہے—جس کی حدود خود فقہاء کے درمیان اجتہادی موضوع رہی ہیں۔
اسی طرح، جہاد کی نظریاتی مشروعیت ایک الگ امر ہے اور اس کے نفاذ کا عملی اختیار ایک الگ موضوع:
- آیت اللہ العظمیٰ خوئی نے جہاد کے اصل وجوب کو برقرار مانا، لیکن افراتفری کو روکنے کے لیے بابِ حسبہ کے تحت اس کی باگ ڈور جامع الشرائط فقیہ کے ساتھ مخصوص کی۔
- آیت اللہ خامنہ ای نے اس اختیار کو امت کے عمومی مفاد (مصلحتِ عامہ) سے مشروط کرتے ہوئے براہِ راست ولایتِ امر کے دائرے میں رکھا۔
- آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے حسبیہ امور اور عمومی ریاستی و اجتماعی نظم کے اختیارات کے درمیان فرق کرتے ہوئے وسیع ولایت کے لیے عوامی مقبولیت کو لازم قرار دیا۔
لہٰذا، نیابتِ عامہ دراصل غیبت کے دوران متعین حدود میں شرعی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا نام ہے۔ یہی معتدل فکر تاریخی فقہ، معاصر مراجع کے اختلافات، اور تنظیم المکاتب جیسے اداروں کے تعلیمی مواد کے اصل تناظر کو سمجھنے کا سب سے متوازن علمی راستہ فراہم کرتی ہے۔
بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ ہم سب کو بے جا تعصبات سے بالاتر ہو کر حق اور سچائی کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حواشی اور مراجع
- محمد بن حسن طوسی، کتاب الغیبۃ، ’’باب التوقیعات‘‘، توقیعِ اسحاق بن یعقوب؛ نیز دیکھیے: محمد بن حسن حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج ۲۷، ’’ابواب صفات القاضی‘‘، ب ۱۱، ح ۹۔
- محمد جواد فاضل لنکرانی، جہادِ ابتدائی در قرآنِ کریم، دفتری ویب سائٹ۔
- جہادِ ابتدائی در سنت و سیرۂ نبوی، بنیادِ پژوہش ہائے اسلامی، آستانِ قدسِ رضوی۔
- محمد بن حسن طوسی، المبسوط فی فقہ الامامیۃ، تہران: المکتبۃ المرتضویۃ، ۱۳۸۷ھ۔
- قاضی ابنِ براج، فقہی مباحثِ جہادِ ابتدائی۔
- جعفر بن حسن، محققِ حلی، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال والحرام، قم: اسماعیلیان، ۱۴۰۸ھ۔
- حسن بن یوسف، علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، قم: مؤسسۃ آل البیتؑ لاحیاء التراث، ۱۴۱۴ھ۔
- زین الدین بن علی، شہیدِ ثانی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، تحقیق: سید محمد کلانتر، قم: مکتبۃ الداوری، ۱۴۱۰ھ۔
- محمد حسن نجفی، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش۔
- سیف اللہ صرامی اور سعید عدالت نژاد، ’’جہاد‘‘، دانشنامۂ جہانِ اسلام، تہران: بنیادِ دائرۃ المعارفِ اسلامی، ۱۳۸۶ش۔
- محمد بن محمد، شیخ مفید، المقنعۃ، قم: مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۰ھ۔
- عباس علی عمید زنجانی، فقہِ سیاسی، تہران: امیر کبیر، ۱۳۷۷ش۔
- حمزہ بن عبد العزیز، سلار دیلمی، المراسم فی الفقہ الامامی، تحقیق: محمود بستانی، قم: منشورات الحرمین، ۱۴۰۴ھ۔
- سید ابو القاسم خوئی، منہاج الصالحین، قم: مدینۃ العلم، ۱۴۱۰ھ، ’’کتاب الجہاد‘‘۔
- سید علی خامنہ ای، رسالۂ آموزشی مطابق با فتاوائے حضرت آیت اللہ خامنہ ای، تہران: مؤسسۂ پژوہشی فرہنگی انقلابِ اسلامی، ۱۳۹۸ش۔
- حسین علی منتظری، پاسخ بہ پرسش ہائے پیرامونِ مجازات ہائے اسلامی و حقوقِ بشر، قم: نشرِ ارغوانِ دانش، ۱۴۲۹ھ۔
- محمد مؤمن، ’’جہادِ ابتدائی در عصرِ غیبت‘‘، مجلہ فقہِ اہل بیتؑ، شمارہ ۲۶، تابستان ۱۳۸۰ش۔
- محمد تقی مصباح یزدی، جنگ و جہاد در قرآن، قم: انتشاراتِ مؤسسۂ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، ۱۳۸۳ش؛ نیز دیکھیے: اخلاق در قرآن، ۱۳۹۱ش۔
- سید ابو القاسم خوئی، منہاج الصالحین، ’’کتاب الجہاد‘‘، ج ۱، ص ۳۶۴–۳۶۶، مؤسسۃ الامام الخوئی الخیریۃ۔
- حسین وحید خراسانی، منہاج الصالحین، ’’کتاب الجہاد‘‘، متعلقہ حاشیہ: «بل الظاہر السقوط»۔
- سید ابو القاسم خوئی، منہاج الصالحین، ’’کتاب الجہاد‘‘، ج ۱، ص ۳۶۵۔
- ایضاً، ص ۳۶۵–۳۶۶۔
- ایضاً، ص ۳۶۶۔
- ایضاً، ص ۳۶۶۔
- دفترِ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی، سرکاری استفتائات، باب ’’ولایتِ فقیہ‘‘، سوال متعلق بہ امورِ حسبیہ۔
- ایضاً، حصہ متعلق بہ عمومی نظم و حکومت۔
- سید علی خامنہ ای، سرکاری استفتاء دربارۂ جہادِ ابتدائی، استفتاء نمبر ۱۴۸۔
- ایضاً۔
- عبد اللہ جوادی آملی، سوال و جواب دربارۂ جہادِ ابتدائی در عصرِ غیبت و لزومِ اذنِ ولیِ فقیہ۔
- حسین علی منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیۃ، قم: المرکز العالمی للدراسات الاسلامیۃ، ۱۴۰۹ھ۔
- سید ابو القاسم خوئی، منہاج الصالحین، ج ۱، ص ۳۶۵–۳۶۶؛ دفترِ آیت اللہ سیستانی، استفتائات۔
- سید ابو القاسم خوئی، منہاج الصالحین، ’’کتاب الجہاد‘‘، ج ۱، ص ۳۶۶۔



