باسمِہٖ تعالٰی
جب کسی بھی ادارے، اسکول یا مدرسے کے تعلیمی نصاب پر گفتگو کی جاتی ہے، تو سب سے بنیادی نکتہ یہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ نصاب پتھر پر لکھی ہوئی کوئی ایسی لکیر نہیں ہوتا جس میں تغیر ناممکن ہو۔ زمانے کے تقاضے بدلتے ہیں، تعلیمی ضروریات ارتقا پذیر ہوتی ہیں، زبان کا اسلوب تبدیل ہوتا ہے، اور بچوں کی ذہنی استعداد و معاشرتی ضروریات میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نصاب کو وقتاً فوقتاً ازسرِنو مرتب کیا جاتا ہے، اس میں ترمیم، اختصار، توسیع اور جدت پیدا کی جاتی ہے۔
تعلیمی نصاب میں ارتقا: حیات اور بیداری کی علامت
دنیا کے تمام معتبر تعلیمی نظاموں میں نئی نسل کے تقاضوں کے پیشِ نظر نصاب کو اپ ڈیٹ کرنا کوئی عیب نہیں، بلکہ نصاب کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی اسلامی تعلیمی ادارہ اپنی نصابی کتب کے انداز، ترتیب، مثالوں، زبان، اسباق یا تدریسی طریقۂ کار میں تبدیلی لاتا ہے، تو اس پر اعتراض کا کیا جواز ہے؟
- کیا ہر تبدیل شدہ جملہ ایک نئی شریعت کا اعلان ہے؟
- کیا نصابی کتاب کی ترتیب نو فقہ بدل دینے کے مترادف ہے؟
- کیا کسی پیچیدہ فقہی اصطلاح کو آسان فہم بنانا دین میں دخل اندازی ہے؟
اگر ایسا ہوتا، تو صدیوں سے فقہ پر شروحات، حواشی، خلاصے، تلخیصات اور تعلیقات لکھنے کا عمل کیوں جاری رہتا؟
حقیقت یہ ہے کہ شریعت ایک چیز ہے اور شریعت کو سکھانے کا طریقۂ کار دوسری چیز۔ تنظیم المکاتب نے شریعت کی بنیادوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی، بلکہ فقہائے اہلِ بیت (علیہم السلام) کے بیان کردہ مسائل کو بچوں کی فہم کے مطابق آسان زبان میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
درسِ خارج اور ابتدائی نصاب کے مابین فرق
جب کوئی مجتہد درسِ خارج کی سطح پر کسی مسئلے کی شروط، قیود، استثناءات اور فروعی مباحث پر گفتگو کرتا ہے، تو اس کے مخاطب علما، فضلا اور اہلِ تحقیق ہوتے ہیں۔ برسوں جاری رہنے والی اس بحث پر اعتراضات ہوتے ہیں، نقود لکھے جاتے ہیں اور علمی مناظرے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ پھر ان کے نتیجے میں فتاویٰ صادر ہوتے ہیں، اور بسا اوقات تحقیق کے تسلسل کے ساتھ تبدیل بھی ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، جب کسی ابتدائی مکتب میں کسی بچے کو دین کے بنیادی احکام سمجھانے ہوں، تو کیا وہاں درسِ خارج چھیڑا جائے گا یا بچے کے سامنے پیچیدہ فقہی عبارات رکھ دی جائیں گی؟ اس طرح بچہ دین کو سمجھے گا نہیں، بلکہ فقہ سے خوفزدہ ہو جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ نصاب کا کام فتویٰ کی کتابیں من وعن نقل کرنا نہیں، بلکہ فقہی احکام کو تدریسی زبان میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ تنظیم المکاتب کے نصاب سازوں نے یہی کام کیا:
- انہوں نے مفتی بن کر کوئی نیا فتویٰ نہیں دیا۔
- انہوں نے از خود کوئی نیا واجب ایجاد نہیں کیا۔
- انہوں نے حرام کو حلال یا حلال کو حرام قرار نہیں دیا۔
- انہوں نے صرف فقہا کی اصطلاحات کو بچے کی سطح پر لانے کی کوشش کی۔
یہ شریعت کی تحریف نہیں، بلکہ تعلیم و تربیت کا فن ہے۔
نائبِ امام کے اذن سے جہاد کے مسئلے پر غلط فہمیاں
اگر تنظیم المکاتب کے نصاب کی کسی عبارت پر جہاد کے مسئلے کو لے کر اعتراض کیا گیا ہے، تو پہلے اس کے پسِ منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر بچے کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ جہاد کوئی انفرادی، من مانی یا قانون شکن کارروائی نہیں، بلکہ یہ ایک حساس ترین شرعی مسئلہ ہے جس کا تعلق امامت، قیادت اور بااختیار شرعی اتھارٹی کے اذن سے ہے، تو اس بنیادی نظریے کو غلط کہنا تاریخِ فقہ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے دفتر کی باضابطہ ویب سائٹ پر ایک سوال کے جواب میں صریحاً درج ہے:
”معصوم (علیہ السلام) یا ان کے خاص نائب کے ساتھ مل کر جہاد کرنا واجب ہے، اور یہ ایک شرعی حکم ہے۔“
یہ کوئی نئی بات نہیں؛ ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی روایات کی روشنی میں ہمارے فقہائے متقدمین نے یہی استنباط کیا ہے۔ روایات میں آتا ہے:
”جہاد فرضِ کفایہ ہے، جس پر امام آواز دے اس پر واجب ہوتا ہے، اور یہ عادل امام یا اس کے مقرر کردہ نمائندے کے ہمراہ ہی ہوتا ہے۔“
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب النهایہ میں تحریر فرماتے ہیں:
”ظالم حکمرانوں کے ہمراہ جہاد جائز نہیں؛ یہ صرف عادل امام یا اس کے مامور کردہ شخص کے زیرِ قیادت واجب ہے۔“
علامہ حلی رحمۃ اللہ علیہ تذکرۃ الفقہاء میں رقمطراز ہیں:
”جہاد واجبِ کفائی ہے، اور یہ عادل امام یا اس کے خاص نائب کے علاوہ واجب نہیں ہوتا۔“
شہیدِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ مسالک الافہام میں جہادِ ابتدائی کے ذیل میں فرماتے ہیں:
”جہادِ ابتدائی کے وجوب کے لیے امام یا ان کے خاص نائب کی موجودگی شرط ہے؛ لہٰذا غیبتِ کبریٰ کے دور میں اس عنوان سے جہاد مشروع نہیں ہے۔“
اگر اسی طویل اور کثیر الجہتی بحث کو کسی ابتدائی کتاب میں ایک جملے میں سمیٹ کر یہ لکھ دیا گیا کہ:
”جہاد پیغمبر، امام، یا نائبِ امام کے حکم اور اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا،“
تو اس پر یہ فتویٰ لگانا کہ ”یہ تو شریعت کے خلاف ہے“، کیونکر دانشورانہ کہلا سکتا ہے؟ یہ تو فقہ کے ایک مستند اور تسلیم شدہ اصول کو بچوں کے فہم کے مطابق بیان کرنے کی عام فہم کوشش ہے۔
یقیناً اعلیٰ فقہ میں جہادِ ابتدائی، دفاعی جنگ، امامِ معصوم، نائبِ خاص، دورِ غیبت اور دفاعِ اسلام کے مابین دقیق فرق پایا جاتا ہے۔ لیکن ابتدائی طالب علم کو بنیادی نظریہ سکھانا کوئی گناہ نہیں۔ کیا فقہا نے ہمیشہ اذن اور قیادت کو لازمی قرار نہیں دیا؟
امامیہ فقہ میں صدیوں سے جہاد پر مستقل ابواب لکھے گئے، جن میں امامِ عادل، نائب، اذن، حکم، دعوت، استطاعت اور دفاع جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ تنظیم المکاتب نے کوئی نیا اصول آسمان سے نہیں اتارا؛ یہ فقہی سرمایہ پہلے سے موجود تھا، نصاب نے محض اسے بچوں کی زبان میں بیان کیا۔
جہاد کے بیان میں اس قدر اختصار کیوں؟
یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر جہاد کی تمام اقسام یکساں نہیں ہیں، تو نصاب میں اتنی مختصر عبارت کیوں رکھی گئی؟
اس کا جواب بالکل واضح ہے: ابتدائی نصاب درسِ خارج نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچے کو پہلے کلیات سمجھائے جاتے ہیں۔ جزئیات، مستثنیات اور فقہی اختلافات جیسے جیسے عمر، فہم اور تعلیمی درجہ بڑھتا ہے، ویسے ویسے شامل کیے جاتے ہیں۔ اگر پہلی یا دوسری جماعت کے بچے کے سامنے ہر فقہی موشگافی رکھ دی جائے، تو یہ تعلیم نہیں بلکہ اس کی ذہنی استعداد پر غیر ضروری بوجھ ہو گا۔ نصاب تدریجی مراحل کا نام ہے۔ مختصر بات کو اس وقت تک غلط نہیں کہا جا سکتا جب تک وہ اپنے تناظر میں گمراہ کن تاثر نہ پیدا کر رہی ہو۔
دورِ حاضر، فقیہِ جامع الشرائط اور جہاد کا فتویٰ
موجودہ دور نے اس فقہی قاعدے کو عملی صورت میں بھی ثابت کر دیا۔ آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کا داعش کے خلاف 2014ء کا تاریخی فتویٰ اس کی روشن ترین مثال ہے۔
جون 2014ء میں جب داعش نے عراق کے وسیع رقبے پر قبضہ کر کے بغداد، نجف اور کربلا کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، تو کربلا میں 13 جون 2014ء کو مرجعیتِ عالیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ملک و ملت اور مقدسات کا دفاع ہر صاحبِ استطاعت پر واجبِ کفائی ہے۔ لوگوں کو باقاعدہ ریاستی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دفاع کرنے کا حکم دیا گیا، اور بعد میں یہ وضاحت بھی جاری کی گئی کہ یہ فتویٰ غیر قانونی مسلح جتھے بنانے کے لیے نہیں بلکہ قومی اداروں کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہے۔
یہ فقہ کے کتاب سے میدانِ عمل میں آنے کا عملی ثبوت تھا۔ مرجعیت نے اس فتوے کو جس توازن سے صادر کیا، اس نے شریعت کی حدود کو بھی برقرار رکھا اور معاشرے کو انارکی سے بھی بچایا۔ آیت اللہ سیستانی کے فقہی متون میں بھی امامِ معصوم یا نائبِ خاص کے ساتھ جہادِ ابتدائی، اور دفاعِ اسلام کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
جہاد کسی فرد کا ذاتی عمل نہیں، بلکہ ایک مربوط نظام اور باصلاحیت قیادت کا متقاضی ہے۔ جب دفاع کی ضرورت پیش آئی، تو دورِ حاضر کی قیادت نے اپنا موقف واضح کر دیا۔ ایسے میں تنظیم المکاتب کے نصاب پر اعتراض کی کیا گنجائش بچتی ہے؟
- کیا اس نے فقہ کو مسخ کیا؟ ہرگز نہیں۔
- کیا اس نے شریعت کا کوئی نیا حکم گھڑ لیا؟ بالکل نہیں۔
- کیا اس نے فقہا کے فتاویٰ کی نفی کی؟ قطعی نہیں۔
- کیا اس نے اپنی طرف سے کوئی خود ساختہ جہاد وضع کر دیا؟ بالکل نہیں۔
اس نے صرف ایک فقہی حقیقت کو بچوں کی زبان میں پیش کیا تھا۔ اگر یہ غلط ہے، تو پھر تمام تفاسیر، تراجم، شروحات اور تلخیصات بھی قابلِ اعتراض قرار پائیں گی۔
نصاب کی تبدیلی، شریعت کی تبدیلی نہیں
یہ نکتہ از حد واضح رہنا چاہیے کہ نصاب بدلتا ہے، شریعت نہیں بدلتی۔
- کتابوں کی جلدیں بدلتی ہیں۔
- اسباق کی ترتیب بدلتی ہے۔
- مثالیں بدلتی ہیں۔
- زبان کا پیرایہ بدلتا ہے۔
- مشکل الفاظ آسان کیے جا سکتے ہیں۔
- غیر ضروری طوالت کو حذف کیا جا سکتا ہے۔
- دورِ حاضر کی تفہیم کے لیے نئی مثالیں شامل کی جا سکتی ہیں۔
- عربی عبارتوں کو اردو کے رواں اسلوب میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ان میں سے کوئی بھی چیز شریعت کے اصل حکم کو تبدیل نہیں کرتی۔ جو مسئلہ کل ثقیل زبان میں لکھا تھا، اگر آج اسے شستہ اور رواں انداز میں لکھ دیا جائے تو مسئلہ وہی رہے گا، تدریس کا انداز بدل جائے گا۔ نصاب کے ہر لفظی تغیر کو ”نئی شریعت ایجاد ہو گئی“ کہہ کر پیش کرنا غیر سنجیدہ رویہ ہے؛ یہ قلم کی ضرورت کے موقع پر کلہاڑی چلانے کے مترادف ہے۔
دینی اداروں کی اصلاح: الزام تراشی سے نہیں، علمی تحقیق سے
جن حضرات کو تنظیم المکاتب کے نصاب کے کسی لفظ یا جملے سے اختلاف ہے، انہیں علمی طریقہ اختیار کرنا چاہیے:
- اصل عبارت کو دیانتداری سے پیش کیا جائے۔
- اس کے فقہی مفہوم کی توضیح کی جائے۔
- متقدمین اور متاخرین فقہا کے اقوال کا حوالہ دیا جائے۔
- دیکھا جائے کہ نصاب ان آرا کے خلاف جا رہا ہے یا محض ان کا سادہ ترجمہ کر رہا ہے۔
- اگر واقعی کسی تصحیح کی ضرورت ہو، تو اصلاحی اور علمی انداز میں اس کی نشاندہی کی جائے۔
اداروں کی اصلاح سنجیدہ تحقیق، مدلل گفتگو اور مخلصانہ تبادلہ خیال سے ہوتی ہے، مخالفت برائے مخالفت سے نہیں۔ اعتراض کرنے والوں سے یہ بنیادی سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اگر اصل فقہی عبارت یہ ہے:
”جہاد معصوم یا ان کے خاص نائب کے ساتھ…“
اور نصاب نے اس کو آسان کر کے ”پیغمبر، امام یا نائبِ امام“ لکھ دیا، تو اس میں شریعت کے کس حکم کی خلاف ورزی ہو گئی؟ کیا لفظی تعبیر کا بدل جانا فقہی اصول کو کالعدم کر دیتا ہے؟ بحث الفاظ کے ظاہری الجھاؤ پر نہیں، علمی دیانت پر ہونی چاہیے۔
تنظیم المکاتب نے شریعت ایجاد نہیں کی، بلکہ اسے بچوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ اس نے فقہا کی جگہ نہیں لی، بلکہ ان کے کلام کو عام فہم بنایا۔ اس نے قرآن کی زبان نہیں بدلی، بلکہ قاعدے کے ذریعے بچوں کو قرآن سے جوڑا۔ اس نے اردو کو دین پر مسلط نہیں کیا، بلکہ دینی اور ثقافتی اقدار کو عام فہم زبان میں منتقل کیا۔
ہندوستان جیسے تکثیر الوجود اور جمہوری معاشرے میں ایک اہم شرعی تدبیر
ہندوستان کے معروضی حالات اور سماجی تناظر میں یہ نکتہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ واضح کرنا کہ جہاد کسی بھی صورت میں صاحبِ اختیار اور ذمہ دار دینی قیادت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں، محض ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ کثیر مذہبی اور جمہوری معاشرے میں ایک ناگزیر سماجی اور مذہبی حفاظتی ڈھال بھی ہے۔
مکتبِ اہلِ بیت (علیہم السلام) کی فقہ کی رو سے جہاد کبھی بھی افراد کی من مانی، خفیہ گروہوں یا خود ساختہ کمانڈروں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کوئی شخص قرآن و حدیث کے چند کلمات سیاق و سباق سے کاٹ کر خود کو مجاہد، اپنے چند ساتھیوں کو لشکر، اور اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کو مقدس جہاد قرار نہیں دے سکتا۔ اسی لیے داعش جیسی انتہا پسند تحریکوں کو فقہی اور علمی طور پر جہاد کا عنوان دینا سراسر باطل ہے۔
تنظیم المکاتب کے نصاب میں جہاد کے سبق کو اسی تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے: جہاد کو امام یا بااختیار قیادت کے اذن سے مشروط کرنا فتنہ و فساد کا دروازہ کھولنا نہیں، بلکہ معاشرے کو لاقانونیت، انارکی اور خود ساختہ عسکریت پسندی سے محفوظ رکھنے کا ضامن ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم الخوئی کی فقہی بصیرت اور ولایتِ فقیہ کا تناظر
فقہی مباحث دورِ غیبت کے سیاسی و سماجی تقاضوں کے ساتھ مربوط رہتے ہیں۔ جب یہ نصاب ابتدائی طور پر مرتب ہوا تھا، اس وقت تک جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ولایتِ فقیہ کا عملی نظام ابھی دنیا کے سامنے اس طرح قائم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے اس دور کے نصاب میں جہادِ ابتدائی کی بحثوں میں کلاسیکی کتب کی وہی روایتی عبارات نقل ہوئیں جن میں امامِ معصوم یا نائبِ خاص کی شرط ذکر کی جاتی تھی۔
لیکن کیا فقہی سوچ کو ہمیشہ قدیم عبارات کے الفاظ کا پابند رہنا چاہیے؟
جب ایک فقیہِ جامع الشرائط عملاً معاشرتی نظام اور حکمرانی کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے، اور جب اس کے دائرۂ کار میں سرحدوں کا تحفظ، خارجہ تعلقات، امن عامہ اور اسلامی معاشرے کے مفادات کا انتظام آ جاتا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک طرف فقیہ کو بااختیار حاکم مانا جائے اور دوسری طرف نظام کے تحفظ کے لیے ناگزیر اختیارات سلب کر لیے جائیں؟
معاصر فقہا کی صریح تصریحات کے مطابق، اگر فقیہِ جامع الشرائط مسلمانوں کے عمومی امور کا سرپرست ہو اور مصلحتِ عامہ کا تقاضا ہو، تو جہادِ ابتدائی کا اذن منتفی نہیں ہوتا۔ یہ امامت، قیادت اور مصلحتِ نظام کے فقہی ربط کا ناگزیر نتیجہ ہے۔
اسی طرح، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم الخوئی کی فقہ میں بھی اس مسئلے کو محض ”غیبت میں جہادِ ابتدائی ہو سکتا ہے یا نہیں“ کی روایتی بحث تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ نیابتِ عامہ، حفظِ نظام اور امورِ حسبیہ کے وسیع دائرے کے تحت اس پر سنجیدہ گفتگو موجود ہے۔
لہٰذا، تنظیم المکاتب کے ابتدائی نصاب کی عبارات کو ان کے تاریخی دور کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں زبردستی معاصر سیاسی و حکومتی ماڈلز کے روبرو کھڑا کر کے یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ فقہ میں کوئی انحراف واقع ہو گیا ہے۔
معترض کے لیے بنیادی سوال
اگر معترض خود بھی اس بات کا قائل ہے کہ ایک فقیہِ جامع الشرائط کو امنِ عامہ، سرحدوں کی حفاظت، دفاع اور معاشرتی مفادات پر اختیار حاصل ہے، تو پھر وہ اس بنیاد پر جہاد یا دفاع کے بنیادی اختیارات کا انکار کیسے کر سکتا ہے کہ قدیم کتب میں ”نائبِ خاص“ کا لفظ درج تھا؟ وہ دورِ غیبت میں نیابتِ عامہ اور حکومتی اختیارات کو ان روایتی الفاظ کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرے گا؟
فقہِ امامیہ کی اصل طاقت لفظی جمود میں نہیں، بلکہ بنیادی نصوص پر قائم رہتے ہوئے ہر نئے دور کے تقاضوں کا مدلل حل پیش کرنے میں ہے۔
انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ نصاب کو اس کے تدریسی اور تعلیمی تناظر میں پرکھا جائے، اور معاصر فقہی آرا کو ان کے موجودہ فکری دائرے میں سمجھا جائے۔ یہ نصاب نہ تو شدت پسندی کی راہ ہموار کرتا ہے اور نہ ہی من مانی عسکریت پسندی کی اجازت دیتا ہے۔
جو لوگ نصاب کے ایک مختصر جملے کو لے کر پورے ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ امامیہ کلام و فقہ کے صدیوں پر محیط ذخیرے کا مطالعہ کریں، آیت اللہ سیستانی کے فتاویٰ کا جائزہ لیں، 2014ء کے فتویٰ جہادِ دفاعی کو پڑھیں، اور یہ سمجھیں کہ دفاعی کارروائی اور جہادِ ابتدائی کے فقہی احکام الگ الگ ہیں۔
ذمہ داریوں کی تقسیم بالکل واضح ہے:
- فقہا کا کام اصول و احکام کا استنباط کرنا ہے۔
- اساتذہ کا کام ان کی وضاحت کرنا ہے۔
- نصاب کا کام نئی نسل تک انہیں آسان پیرائے میں منتقل کرنا ہے۔
نصاب بدلتے رہیں گے، کتابیں جدید انداز میں لکھی جاتی رہیں گی، اور زبان کا پیرایہ نکھرتا رہے گا، لیکن شریعت کے بنیادی ارکان اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ یہی وہ توازن ہے—اصولوں پر غیر متزلزل استقامت اور تدریس میں فکری لچک—جو کسی بھی زندہ تعلیمی نظام کی شناخت ہوتا ہے۔



