مفسرین کے مطابق، سورۂ انعام کی آیت نمبر 82، **أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ** (انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں)، کا مطلق مصداق امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ والا صفات ہے۔
روزِ عاشور ایسی کون سی مصیبت تھی جو حضرتؑ پر نازل نہ ہوئی ہو اور جس کے نتیجے میں آپؑ کے سکون و اطمینان اور رخِ انور کے نور میں اضافہ نہ ہوا ہو؟ یہ سکون و طمانیت اپنے اوجِ کمال پر تھی، کیونکہ آپؑ خود ایمان کے اس اوجِ کمال پر فائز تھے کہ خدا کی مرضی آپؑ کی رضا بن چکی تھی۔ آپؑ کو یقینِ کامل تھا کہ ہر درپیش مشکل منجانبِ قادرِ مطلق ہے اور وہی علیم و خبیر اس کی حقیقت و مصلحت سے آشنا ہے۔ اس لیے نہ آپؑ حواس باختہ ہوئے اور نہ ہی کسی ایسی جوابی کارروائی کا ارادہ فرمایا جو آپؑ کے عزم و حوصلے کے منافی ہو۔
دراصل، یہ خدا کی مرضی تھی کہ دشمن چاہے جتنی حدیں پار کر جائے، امامِ عالی مقامؑ مکمل اختیار رکھنے کے باوجود تمام مصائب کو برداشت کریں، تاکہ خدا نے انسان کے لیے جو فوزِ عظیم مقدر کیا ہے، آپؑ اس پر فائز ہو جائیں اور آپؑ کا دشمن ذلت و رسوائی کی اس پستی میں جا گرے جہاں سے اٹھنا اس کے بس سے باہر ہو۔
چنانچہ دشمن شقاوت و سنگ دلی کی اس حد پر پہنچا کہ آنجنابؑ کے دستِ مبارک پر ایک چھ ماہ کے بھوکے پیاسے بچے کو بھی نہ بخشا۔
بدستِ رحلِ امامت، بصورتِ قرآں
قسیمِ کوثر و تسنیم، تشنہ لب اصغرؑ
(اسد علی اسد)
امام حسینؑ کی آنکھوں کے سامنے، آپؑ کے ہاتھوں میں، ایک معصوم جان کو شہید کر دیا گیا۔ یہ مصیبت اس قدر ثقیل تھی کہ پہاڑوں کو بھی لرزا دے، مگر امامِ عالی مقامؑ کے پایۂ ثبات میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ آپؑ نے فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ میرے لیے اس مشکل کو آسان کر دے گا، کیونکہ سب کچھ اس کے محضر میں ہو رہا ہے اور خدائے بصیر خود اس سانحے کا شاہد ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور امامؑ کے صبر و رضا کے جواب میں خدا نے اس جگر خراش تکلیف کو آپؑ کے لیے آسان فرما دیا۔
سید الشہداء امام حسینؑ خدا کے اس قدر نزدیک تھے کہ خدا اور ملائکہ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ گویا امامؑ تو خدا کی طرف متوجہ تھے، جبکہ تمام خدائی امامؑ کی جانب متوجہ تھی۔
**(استفادہ: نفسِ مطمئنہ — آیت اللہ شہید دستغیب)**
امام حسینؑ کا سکون


قمر رضا رضوی
اسلام آباد، پاکستان میں مقیم ہیں اور بنیادی طور پر کمپیوٹر سائنس سے وابستہ ہیں۔ فری لانسنگ، تحریر، وائس اوور، باغبانی اور ایونٹ مینیجمنٹ سمیت مختلف تخلیقی و پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ تقریباً پندرہ برس قبل سفرنامۂ زیارتِ امام رضاؑ سے باقاعدہ ادبی سفر کا آغاز کیا، جو پینسٹھ اقساط میں عالمی اخبار ڈاٹ کام پر شائع ہوا۔ بعد ازاں مضامین، مقالات، کالم اور کہانیاں مختلف ویب سائٹس اور جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ تحریر کے ذریعے فکری، سماجی اور دینی موضوعات کو عام کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔


