ایک دور تھا جب مجالس اور اجتماعات میں مائیکروفون جیسی جدید صوتی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ خطیبوں اور مقررین کو اپنی آواز مجمع کے آخری کونوں تک پہنچانے کے لیے بہت اونچی آواز میں بولنا پڑتا تھا۔ سامعین کی کثرت اور فاصلے کے پیشِ نظر یہ ایک فطری ضرورت تھی، تاکہ مجلس میں موجود ہر فرد گفتگو سن سکے اور اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اُن دنوں بلند آواز خطابت کا ایک عملی اور لازمی تقاضا تھی، نہ کہ محض کوئی بناوٹی انداز یا جوش و جذبے کی رسمی نمائش۔
تاہم، آج زمانہ یکسر بدل چکا ہے۔ جدید صوتی نظام نے آواز کی ترسیل کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ایک معیاری مائیک اور اچھے ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے دھیما اور متوازن لہجہ بھی پورے مجمع تک مکمل صفائی کے ساتھ پہنچ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایک عجیب تضاد سامنے آیا ہے: جہاں ایک طرف سامعین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف بعض خطیبوں اور واعظوں کی آواز، چیخ پکار اور شور میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مائیک کی ایجاد نے آسانی فراہم کرنے کے بجائے چیخنے چلانے کے ایک نئے رجحان کو جنم دے دیا ہو۔
فصاحت و بلاغت کا اصل حسن اس میں نہیں کہ کوئی شخص کتنا بلند آواز میں بولتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کا اندازِ بیاں کتنا شائستہ ہے۔ چیخ و پکار سے کچھ دیر کے لیے سامعین کی توجہ تو حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن دلوں کو چھونے کے لیے علم، گہرے مطالعے، ٹھوس دلائل اور گفتگو کی نزاکتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیاری خطابت وہی ہے جس میں آواز کے حجم سے زیادہ دلیل کا وزن نمایاں ہو۔
ہدایت و رہنمائی کا بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے، قرآنِ مجید فرماتا ہے:
﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ﴾
(سورۃ النحل: ۱۲۵)
ترجمہ: "اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو..."
غور فرمائیے: پروردگارِ عالم نے دعوت کا معیار حکمت اور عمدہ نصیحت کو قرار دیا ہے، آواز کی بلندی کو نہیں۔ اسی طرح قرآنِ پاک میں جنابِ لقمان کی اپنے فرزند کو نصیحت نقل ہوئی ہے:
﴿وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ﴾
(سورۃ لقمان: ۱۹)
ترجمہ: "اور اپنی آواز کو دھیما رکھو؛ بے شک بدترین آواز گدھوں کی آواز ہے۔"
یہ آیت ہمیں گفتگو میں وقار، اعتدال اور شائستگی سکھاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر حال میں بلند آواز ممنوع ہے، بلکہ یہ کہ آواز کا اتار چڑھاؤ موقع، ضرورت اور مقصد کے تابع ہونا چاہیے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے:
"نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے خوبصورت بنا دیتی ہے؛ اور جس چیز سے نکال دی جائے، اسے عیب دار کر دیتی ہے۔"
یہ سنہری اصول عوامی خطابت اور مذہبی بیانات پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہے۔
چیخ و پکار پر مبنی اندازِ خطابت نہ صرف کانوں کے لیے ناگوار، پریشان کن اور بسا اوقات مضحکہ خیز بن جاتا ہے، بلکہ یہ مجلس کے تقدس اور وقار کو بھی مجروح کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ خلل محض پنڈال یا ہال تک محدود نہیں رہتا، بلکہ گرد و پیش کے مکینوں اور پڑوسیوں کے سکون میں بھی خلل انداز ہوتا ہے۔ دوسری طرف، مسلسل چیخ کر بولنا مقرر کے صوتی نظام (تارِ صوت) پر غیر ضروری بوجھ ڈالتا ہے، جس سے آواز بیٹھنے، گلے کی تکلیف، دل پر دباؤ اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ ازحد ضروری ہے کہ خطابت میں جوش کے ساتھ ہوش، جذبے کے ساتھ ضبط اور آواز کے ساتھ وقار کا توازن برقرار رہے۔ جدید صوتی آلات کی موجودگی میں چیخنے کو اثر پذیری کا پیمانہ سمجھنا نہ تو عقل کے تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی عوامی آداب اور ذاتی صحت کے اصولوں سے ہم آہنگ۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی اجتماع کا مقصد سامعین کے کانوں پر شور کا بوجھ لادنا نہیں، بلکہ ان کی عقلوں کو بیدار کرنا، دلوں میں شعور جگانا اور کردار کو سنوارنا ہے۔ ایک مقرر کی اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ اس کی آواز کتنی بلند تھی، بلکہ اس میں ہے کہ اس کا پیغام کتنی گہرائی تک پہنچا اور کتنے دلوں نے اسے قبول کیا۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم عوامی خطابت کے معیار اور اسلوب کا ازسرِنو سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ جب آواز کی ترسیل کے بہترین ذرائع موجود ہیں، تو پھر چیخنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کسی بھی مقرر کی پہچان اس کی آواز کی شدت سے نہیں، بلکہ اس کے علم، فکری پختگی، حسنِ بیان اور اس کے پیغام کے اثر سے ہونی چاہیے۔
یاد رکھیے: ایک بلند آواز مجمع کو عارضی طور پر خاموش تو کر سکتی ہے، مگر انسانی دلوں کو مسخر کرنے کے لیے علم، فکری گہرائی، حکمت کی نرمی اور دلیل کی قوت درکار ہوتی ہے۔ خطابت کا اصل کمال آواز کی بلندی میں نہیں، بلکہ فکر کے گہرے اثر میں پنہاں ہے۔



