رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث ہمارے دین کا اہم ترین سرمایہ ہیں۔ اس لیے تاریخِ اسلام کے فہم و شعور سے بہرہ مند ہر شخص کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ضرور ابھرنا چاہیے۔
حضرت علی علیہ السلام نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوشِ مبارک میں آنکھ کھولی، آپؐ ہی کے زیرِ سایہ بچپن گزارا، اور آپؐ ہی کی براہِ راست تربیت میں پروان چڑھے۔ بعثت سے قبل تقریباً ۱۰ سال اور بعثت کے بعد تا وصالِ نبویؐ تقریباً ۲۳ سال؛ یعنی مجموعی طور پر تقریباً ۳۳ برس کا مستقل اور قریبی ساتھ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا شاید ہی کوئی ایسا نازک یا تاریخی موڑ رہا ہو جس میں حضرت علی علیہ السلام شریک نہ رہے ہوں۔ مگر اہلِ سنت کے معروف اعداد و شمار کے مطابق، حضرت علی علیہ السلام سے منقول احادیث کی تعداد صرف ۵۸۶ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب ابو ہریرہ کا معاملہ دیکھیے۔ وہ ۷ ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے قبل محض تین برس کے قریب آپؐ کی رفاقت میں رہے۔ لیکن ان سے منقول روایات کی تعداد ۵۳۷۴ بیان کی جاتی ہے۔
یہاں ایک سیدھا اور سادہ سوال جنم لیتا ہے: جس علیؑ نے رسولِ خداؐ کے ساتھ تقریباً ۳۳ برس کی طویل ترین رفاقت گزاری، ان کے حصے میں محض ۵۸۶ روایات؛ اور جو فقط ۳ سال ہم رکاب رہے، ان کے نام ۵۳۷۴ روایات؟ آخر اس بے مثال تفاوت کی اصل وجہ کیا ہے؟
کیا یہ فرق محض ایک بے ضرر سا اتفاق ہے؟ یا پھر وقت آ گیا ہے کہ تاریخ کے ان خاموش اور پسِ پردہ اوراق کو بھی پلٹا جائے جہاں شاید یہ طے پایا تھا کہ رسولِ اکرمؐ کے علم کے حقیقی وارث—بابِ علم علیؑ—تک اس امت کی رسائی کا دائرہ کتنا محدود رکھا جائے گا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ علم کا باب تو کھلا تھا، مگر تاریخ کی کسی گردیدہ راہ پر امت کے قدموں کو اس دروازے تک پہنچنے سے روک دیا گیا؟
حالانکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واضح اور دوٹوک فرمان موجود ہے:
”أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ۔“
ترجمہ: ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں؛ پس جو شخص اس شہر میں داخل ہونا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ دروازے سے آئے۔“
(الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷، حدیث ۴۶۳۷)
اگر اس سب کو ایک محض اتفاق پر محمول کر دیا جائے، تو یہ سوال مزید گھمبیر ہو جاتا ہے: ۳۳ سالہ مسلسل رفاقت کے بدلے ۵۸۶ احادیث، اور فقط ۳ سالہ صحبت کے نتیجے میں ۵۳۷۴ روایات—کیا تاریخ ہمیں اس غیر معمولی تضاد کی علمی، عقلی اور منطقی وجوہات تلاش کرنے کا حق بھی نہیں دیتی؟
یہ نکتہ نہ کسی کی توہین پر مبنی ہے، نہ کسی پر بے جا الزام تراشی۔ یہ صرف ایک سنجیدہ علمی استفہام ہے؛ ایسا سوال جو ہمیں اپنی تاریخ، اپنے مروجہ ذخیرۂ احادیث اور تعلیماتِ نبویؐ کے مآخذ پر ازسرِ نو غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اے عالمِ اسلام! ذرا لمحہ بھر کو ٹھہریے اور سوچیے…
یہ فقط ۵۸۶ اور ۵۳۷۴ کی عددی بحث نہیں ہے؛ یہ اس امر کا تعین ہے کہ امت تک علمِ رسولؐ کس راستے سے پہنچایا گیا، اور امت کس فیض کے دروازے سے بے خبر رکھی گئی؟ اگر بابِ علم علیؑ امت کے سامنے آشکار تھے، تو اس درِ علم تک عامۃ الناس کی رسائی اتنی محدود اور سمٹی ہوئی کیوں نظر آتی ہے؟ کیا یہ فقط ایک تاریخی حادثہ تھا، یا تاریخ کے کسی فیصلہ کن موڑ پر علم کا اصل دھارا ہی موڑ دیا گیا؟
اے مسلم امہ! فقط اعداد کے سرسری حساب پر اکتفا نہ کیجیے؛ ان اعداد کے پسِ منظر میں کارفرما صدیوں کی تاریخ کو باریک بینی سے پڑھیے۔
اور پھر منصف بن کر اپنے ضمیر سے پوچھیے:
یہ فرق فقط چند روایات کا ہے… یا خود روایت کی تاریخ کا بھی؟




