کیا نبی مکرم کی اتنی کھلی نافرمانی ایک سنگین گناہ اور حرمتِ رسالت پر حرف نہیں ہے؟
یہ سوال کسی جذباتی مناظرے یا تعصب سے پیدا نہیں ہوا؛ بلکہ یہ اہلِ سنت کے سب سے مستند حدیثی ذخیرے میں محفوظ ایک نہایت نازک تاریخی واقعے کا تحقیقی جائزہ لیتا ہے۔
واقعۂ قرطاس و قلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں پیش آیا۔ آپؐ نے اپنے پاس موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھنے کا سامان طلب فرمایا، تاکہ آپؐ ان کے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد وہ کبھی گمراہ نہ ہوں۔ یہ الفاظ کوئی معمولی کلمات نہیں تھے؛ یہ اس نبیؐ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے تھے جس کے بارے میں قرآنِ حکیم خود گواہی دیتا ہے:
﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾
"اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ یہ تو صرف وہی وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔" (سورۂ النجم: ۳–۴)
مزید برآں، قرآنِ مجید آپؐ کی غیر مشروط اطاعت کا قطعی حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾
"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔" (سورۂ النساء: ۸۰)
صحیح بخاری میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ارشاد فرمایا:
«هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ»
"آؤ! میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔"
ٹھیک اسی لمحے حضرت عمر نے کہا:
«إِنَّ النَّبِيَّ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ»
"نبی پر تکلیف کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے؛ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔"
(صحیح بخاری، کتاب الاعتصام، حدیث ۷۳۶۶)
اس جملے کے ادا ہوتے ہی مجلس میں شدید اختلاف، تنازع اور شور و غوغا برپا ہو گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ناگواری کے عالم میں حکم دیا:
«قُومُوا عَنِّي»
"میرے پاس سے اٹھ جاؤ!"
حضرت ابن عباس جب بھی اس سانحے کو یاد کرتے، تو اشکبار ہو کر فرماتے:
"سب سے بڑی مصیبت—بلکہ اصل المیہ—یہ تھا کہ ان کے باہمی اختلاف اور شور نے رسول اللہؐ کے اور اس تحریر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔"
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: جب خود رسول اللہؐ نے قلم و قرطاس طلب فرمایا اور یہ صراحت کی کہ وہ ایک ایسی تحریر لکھیں گے جس کے بعد امت کبھی گمراہی کی نذر نہیں ہوگی، تو کیا بغیر کسی چوں و چرا کے فوراً قلم و دوات پیش نہیں کر دینی چاہیے تھی؟
کیا کسی کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ رسول اللہؐ کے واضح حکم اور منشا کے مقابلے میں اپنی ذاتی رائے کو پیش کرے؟
قرآنِ کریم کا دو ٹوک فیصلہ ہے:
﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾
"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے یقیناً اللہ ہی کی اطاعت کی۔" (سورۂ النساء: ۸۰)
اور فرمایا:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾
"اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔" (سورۂ الحشر: ۷)
قرآن اس سے بھی آگے بڑھ کر ادب کا تقاضا سکھاتا ہے:
﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾
"اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔" (سورۂ الحجرات: ۲)
جب قرآن نبیؐ کے روبرو صرف آواز اونچی کرنے سے بھی سختی سے منع فرماتا ہے، تو کیا ان کے صریح حکم کے بالمقابل یہ کہنا کہ "ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے"، رسالت کے احترام و توقیر پر ایک سنگین سوال کھڑا نہیں کرتا؟
قرآن بلاشبہ اللہ کی لاریب کتاب ہے؛ مگر یہ قرآن ہی تو ہے جو ہر موڑ پر رسولؐ کی اطاعت و تسلیم کا حکم صادر کرتا ہے۔ رسول اللہؐ ایک وصیت لکھنا چاہتے تھے—ایک ایسی تحریر جس کی نسبت خود آپؐ نے فرمایا کہ وہ امت کو ہمیشہ کی گمراہی سے محفوظ رکھے گی—لیکن جواب میں یہ کہا گیا: "ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔"
اگر رسول اللہؐ کے قطعی فرمان کے سامنے اپنی ذاتی رائے قائم کرنا، ان کے امر میں رکاوٹ بننا، اور آپؐ کو لکھنے کے عمل سے روک دینا توہین و بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا، تو پھر حرمتِ رسالت اور اس کی حدود کی کیا تعریف باقی رہ جاتی ہے؟
بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔
اسی واقعے کے متعلق صحیح مسلم میں ایک اور روایت درج ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ارشاد فرمایا:
«ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»
"میرے پاس شانے کی ہڈی اور دوات، یا تختی اور دوات لاؤ، تاکہ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔"
اس کے بعد حدیث کے الفاظ ہیں:
«فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَهْجُرُ»
"انہوں نے کہا: 'رسول اللہ ہذیان فرما رہے ہیں (یا بہک رہے ہیں)'۔"
(صحیح مسلم، کتاب الوصیة، باب ترک الوصیة لمن لیس له شیء یوصی فیه، حدیث ۱۶۳۷)
یہاں ذرا ٹھہر کر سنجیدگی سے غور کیجیے: کیا ایسے کلمات کائنات کے ہادی اور رسول اللہؐ کی ذاتِ اقدس کے لیے کہنا روا تھے؟
کیا رسول اللہؐ کے حکم کے روبرو یہ اصرار کرنا کہ "ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے"، اور پھر اسی نازک موقع پر آپؐ کے متعلق اس نوعیت کے توہین آمیز کلمات زبان پر لانا کوئی معمولی بات تھی؟
ذرا تصور کیجیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے قلبِ مبارک کو کس قدر صدمہ اور ناگواری پہنچی ہوگی کہ آپؐ نے یہ سخت ترین جملہ ارشاد فرمایا:
«قُومُوا عَنِّي»
"میرے پاس سے اٹھ جاؤ (دور ہو جاؤ)!"
اگر یہ محض ایک بے ضرر یا فہم کا معمولی سا اختلاف تھا، تو کیا رحمتِ عالمؐ اپنے ماننے والوں کو اس تلخی اور برہمی کے ساتھ اپنی مجلس سے نکال دیتے؟ اگر آپؐ کی خواہش کے مطابق قلم و قرطاس نہ لانا کوئی معمولی مسئلہ تھا، تو پھر رسولِ خداؐ کے انداز میں اتنی شدید ناراضی کیوں نمایاں ہوئی؟
یہ بحث کسی ایک راوی یا روایت تک محدود نہیں ہے؛ یہ واقعہ بنیادی طور پر اسلامی آداب، اطاعتِ رسول اور حرمتِ نبوت کے تقدس کا احاطہ کرتا ہے۔
اصل چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر اور کس مفہوم میں رسول اللہؐ کی نسبت "يَهْجُرُ" جیسے لفظ کا استعمال کیا گیا؟ کیا یہ کوئی عام اور قابلِ قبول کلمہ تھا؟ کیا ایسے الفاظ ایک نبی کی عصمت، مقام اور جلالتِ شان کے شایانِ شان ہو سکتے ہیں؟
اگر رسولِ برحق کے روبرو ان کے حکم کی تعمیل سے گریز کرنا، ان کی بارگاہ میں جھگڑنا اور شور مچانا، اور آپؐ کے متعلق "يَهْجُرُ" جیسے نازیبا کلمات کی نسبت دینا بھی بے حرمتی اور گستاخی کے دائرے سے باہر قرار پائے، تو پھر آخر توہینِ رسالت کسے کہا جائے گا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی حرمت کا تحفظ کسی طے شدہ الٰہی و قرآنی اصول کے تحت پرکھا جائے گا، یا یہ افراد اور شخصیات کو دیکھ کر طے ہوگا؟
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی دنیاوی زندگی کے آخری ایام میں، خود ان کی مقدس موجودگی میں، اور براہِ راست ان کے حکم کے وقت بھی ادب و اطاعت کا یہ انداز سامنے آ سکتا ہے، تو ہمیں دیانت داری سے سوچنا ہوگا کہ حرمتِ رسول کا اصل معیار کیا ہے اور یہ کس اصول پر استوار ہوتا ہے؟
کیونکہ جب معاملہ ذاتِ رسالت مآب اور ان کے آخری احکامات کا ہو، تو سوالات وہیں دم نہیں توڑ دیتے؛ بلکہ ہر تاویل اور جواب کے بعد ایک اور زیادہ تشویش ناک سوال ذہن کے دریچوں پر دستک دینے لگتا ہے۔
(نوٹ: علمی اور تنقیدی سوال اٹھانا توہین نہیں ہے، بشرطیکہ وہ شائستگی، سنجیدگی اور اسلامی ادب کے دائرے میں رہ کر اٹھایا جائے۔ اس تحریر کا مدعا کسی کی دل آزاری یا مقدس شخصیات کی بے توقیری نہیں، بلکہ معتبر ترین تاریخی و حدیثی مآخذ کی روشنی میں ایک بنیادی و اہم سوال کا فہم حاصل کرنا اور اس پر تدبر کرنا ہے۔ لہٰذا تمام قارئین اور تبصرہ نگاروں سے درخواست ہے کہ اختلافِ رائے کے وقت اسلامی تہذیب، اخلاقی اقدار اور باہمی احترام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔ اختلاف ہمیں طعن و تشنیع کی جانب نہیں، بلکہ دلیل، تحقیق اور حسنِ کلام کی طرف لے جانا چاہیے۔)




