احادیثاک روز یہ منظر بدلے گا۔۔۔
البتہ آل محمد صل اللہ علیہ و الہ و سلم کی حکومت کا زمانہ ابھی نہی آیا ہے اور ہمیں انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس انتظار کو افضل الا عمال قرار دیا گیا ہے اور ہمیں مسرت بخش امیدوں کا سہارا دیکر خوش رکھا گیا ہے۔
DarseMahdi
183 مضامین، عنوان اور سرورق کے ساتھ
احادیثالبتہ آل محمد صل اللہ علیہ و الہ و سلم کی حکومت کا زمانہ ابھی نہی آیا ہے اور ہمیں انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس انتظار کو افضل الا عمال قرار دیا گیا ہے اور ہمیں مسرت بخش امیدوں کا سہارا دیکر خوش رکھا گیا ہے۔
تاریخجناب ام رباب بنت امرؤ القیس، امام حسین علیہ السلام کی ایک بلند مرتبہ زوجہ تھیں۔ وہ ایک شفیق اور صابر خاتون تھیں جن کا تعلق ایک معزز عرب قبیلے سے تھا۔ آپ کی حیات اور کربلا میں آپ کے کردار کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
تاریخچنگیز خان نے بخارا کے مسلمانوں کو فریب دے کر آپس میں لڑا دیا۔ بعض لوگوں نے لالچ میں آکر اپنے ہی بھائیوں سے غداری کی۔ مگر فتح کے بعد چنگیز نے انہی غداروں کو بھی قتل کرا دیا، یہ کہہ کر کہ جو اپنے بھائیوں کے نہ ہوئے، وہ ہمارے کیا ہوں گے۔
احادیثیہ حدیثِ نبوی ﷺ میں اللہ تعالیٰ کی سات اہم وصیتوں کا ذکر ہے۔ ان میں اخلاص، معافی، سخاوت، تعلقات کی بحالی، ذکر، فکر اور عبرت شامل ہیں۔ مؤمن کی زندگی ذکرِ الٰہی، عفو و درگزر اور غور و فکر سے معمور ہونی چاہیے۔ زبان، دل، نگاہ اور عمل سب اللہ کی یاد سے جُڑے رہیں۔
شخصیت سازی1. کامیابی صرف چیزوں کو حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا اصل کامیابی ہے۔ 2. ہر ناکامی کے پیچھے اللہ کی کوئی حکمت چھپی ہو سکتی ہے، جو ہمیں بعد میں سمجھ آتی ہے۔ 3. منفی سوچ کو چھوڑ کر قرآن کی آیات سے حوصلہ لینا سیکھو، خاص طور پر سورہ بقرہ کی آیت 216۔ 4. اللہ پر اعتماد رکھو، کیونکہ وہ جانتا ہے جو ہم نہیں جانتے۔
شخصیت سازیچار درزی ایک گلی میں اپنی دکانیں چلاتے تھے، ہر ایک دوسروں سے بہتر بننے کی کوشش میں لگا تھا۔ تین درزی خود کو شہر، ملک اور دنیا کا بہترین کہنے لگے، جبکہ چوتھے نے صرف "اس گلی کا بہترین" لکھا۔ سادگی، خلوص اور حقیقت پسندی نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ اصل کامیابی دکھاوے میں نہیں، بلکہ اپنے دائرے میں سچائی اور محنت سے بہترین بننے میں ہے۔
تاریخیومِ عرفہ 9 ذی الحجہ کو آتا ہے اور حج کا اہم ترین دن ہے، جس میں وقوفِ عرفات ادا کیا جاتا ہے۔ اس دن کو "عرفہ" کہنے کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں پہچان، معرفت، تعارف اور اللہ کی طرف سے بندوں کی تعریف شامل ہیں۔ امام حسینؑ نے اسی دن دعائے عرفہ میں اللہ سے گہرا روحانی تعلق ظاہر کیا، جو عرفان و بندگی کا عظیم نمونہ ہے۔ یہ دن ہمیں اللہ کی قربت، عاجزی اور شکرگزاری کا سبق دیتا ہے۔
کمیونٹی اور سوسائٹیایک نکاح کی تقریب میں دلہن کے سسر نے سادگی اور حقیقت پسندی سے مہر کم رکھا۔ رشتہ داروں کے اعتراض کے باوجود، انہوں نے داماد کی مالی حالت کو مدنظر رکھا۔ ان کا مقصد بیٹی کا پُرسکون گھر بسانا تھا، نہ کہ دکھاوا کرنا۔ پندرہ سال بعد یہی فیصلے خوشحال اور باعزت رشتے کی بنیاد بنے۔
قراٰن مجید اس تحریر میں قرآن مجید کی آیت "یَا أَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ..." کی روشنی میں غدیر خم کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک بہت اہم پیغام پہنچانے کا حکم دیا، جس میں تاخیر اور گھبراہٹ پیغمبرؐ کے خطرے کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔ اللہ نے خاص وعدہ کیا کہ وہ اپنے رسول کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغام عام نہیں بلکہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ مفسرین کے مطابق یہ پیغام حضرت علیؑ کی ولایت کا اعلان تھا، جو واقعۂ غدیر میں سوا لاکھ سے زائد مسلمانوں کے سامنے دیا گیا۔
قراٰن مجید استاد فاطمی نیاؒ ایک ولی اللہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے سورہ اعراف کی ایک آیت پر غور کیا اور محسوس کیا کہ اس میں کوئی باطنی راز ہے۔ اسی سوچ میں وہ ایک روحانی کیفیت میں داخل ہوئے جہاں شیطان ان کے سامنے ظاہر ہوا اور بحث کا چیلنج دیا۔ ولی اللہ نے علمی دلائل سے اسے شکست دی، مگر شیطان نے کہا کہ اس کا مقصد صرف ایک گھنٹہ ضائع کرنا تھا۔ اس پر انہیں آیت کا باطنی مفہوم سمجھ آیا کہ شیطان انسان کو اس کی کمزوری کے مقام سے ورغلاتا ہے — حتیٰ کہ عبادت، علم یا نیکی کے ذریعے بھی۔
شخصیت سازییہ تحریر ایرانی عالم دہخدا کی ماں سے عقیدت اور صبر پر مبنی ہے، جنہوں نے غصیلی اور سخت مزاج ماں کی خدمت کے لیے ساری زندگی شادی نہیں کی۔ ایک رات ماں نے غصے میں ان کے سر پر پانی کا گلاس دے مارا، مگر دہخدا نے صبر کیا اور اللہ سے شکوہ کے بجائے استقامت مانگی۔ اسی رات خواب میں بشارت ملی کہ ان کا صبر علم کا خزانہ بنے گا۔ بعد ازاں انہوں نے وہ عظیم کتابیں لکھیں جو آج بھی علمی دنیا میں زندہ ہیں۔ سبق یہ ہے کہ ماں کی خدمت، صبر اور اخلاص کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔
مشکلات زندگییہ مزاحیہ اور سبق آموز تحریر ایک شوہر اور عالمہ بیوی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ نکاح کے بعد بیوی نے شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا اعلان کیا، مگر جلد ہی ساس سسر کی خدمت سے انکار اور علیحدہ گھر کا مطالبہ کر دیا۔ شوہر پریشان ہو کر عالم دین کے پاس گیا، جنہوں نے سمجھایا کہ شریعت صرف حقوق کا نہیں، فرائض اور انصاف کا بھی نام ہے۔ جب شوہر نے دوسری شادی کی اجازت کا ذکر کیا تو بیوی فوراً نرم پڑ گئیں۔ نتیجتاً، سبق یہ ملا کہ شریعت کو مکمل اپنانا چاہیے، صرف اپنے فائدے کے لیے نہیں۔