متفرقاتخدا موجود ہے | وجود کا انکار (Series - Article 2)
ان نظریات کے اشتراک سے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد پڑی جہاں انسان مافوق الفطرت طاقتوں اور مذہب کے سہارے کے بغیر محض اپنی عقل اور انسانی اقدار کے ذریعے زندگی اور سماج کو سنوارنے کی کوشش کرنے لگا۔
DarseMahdi
183 مضامین، عنوان اور سرورق کے ساتھ
متفرقاتان نظریات کے اشتراک سے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد پڑی جہاں انسان مافوق الفطرت طاقتوں اور مذہب کے سہارے کے بغیر محض اپنی عقل اور انسانی اقدار کے ذریعے زندگی اور سماج کو سنوارنے کی کوشش کرنے لگا۔
شخصیت سازیدونوں کے سامنے بہت بڑی مشکلیں تھیں۔ دونوں کے مخالفین کے پاس تھی بہت بڑی طاقت اور بہت سارا پیسا، میڈیا، کارکن اور پروپگینڈا پھر ان مخالفین نے انکے مذہب کو بہانہ بناکر عام لوگوں کو انکے خلاف اور اپنے حمایت میں مبذول خاطر کرنے کی کوششیں کیں۔
سیرت معصومیناس مضمون میں ہمارے زمانے کے مشہور عالم "شیخ الاسلام" ڈاکٹر طاہر القادری کی لکھی ہوئی مشہور کتاب ((Fatima (PBUH) the Great Daughter of the Prophet Muhammad SAWW)) کی چند روایتوں کا ذکر ہے۔ اس مضمون میں صرف چند احادیث کو شامل کیا گیا ہے جس کا واحد مقصد تمام خواتین کی عظیم ترین سردار اور امت مسلمہ کے لیے ایک نمونہ شخصیت کو یاد کیا جاے۔
سیرت معصومینانسانی الفاظ جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) کی عظمت و جلالت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں؛ لفظ تو محض اس چراغ کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو سکتے ہیں جس کی ضیا صدیوں کے بعد بھی ماند نہیں پڑ سکی۔ وہ کربلا کے المیے کے بعد کا بے مثال حوصلہ ہیں، زنجیروں میں کمالِ آزادی ہیں، دلدوز غم میں بصیرت کا پیکر ہیں، اور جبر کے دربار میں صدائے حق کی گرج ہیں۔ وہ ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ انسان کی حقیقی رفعت اس کے بیرونی حالات سے نہیں بلکہ اس کے اندرونی کردار سے طے پاتی ہے؛ اور تاریخ میں وہی زندہ رہتے ہیں جو اپنے عہد کی تاریکیوں میں حق کا تابناک چراغ بن کر ابھرتے ہیں۔ سلام ہو جنابِ زینب (سلام اللہ علیہا) پر، جنہوں نے رنج و غم کو شکست میں تبدیل نہ ہونے دیا، جنہوں نے اسیری کو خاموشی کا کفن نہ پہننے دیا، اور جنہوں نے کربلا کے مشن کو زمانے کی گرد میں گم نہ ہونے دیا۔ زینب (علیہا السلام) محض حوّا کی بیٹی کے وقار کا نام نہیں؛ وہ اس سچائی کا زندہ اعلان ہیں کہ جب ایک عورت ایمان، بصیرت، خودداری اور حق شناسی کے ساتھ میدان میں ڈٹ جائے، تو جابروں کے مادی تخت وقتی طور پر باقی رہ سکتے ہیں، مگر ان کا غرور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جاتا ہے۔ زینب (علیہا السلام)—وہ نام جس کے سامنے تاریخ سر تسلیم خم کرتی ہے، جس کے کردار سے صنفِ نازک کا وقار روشن ہے، اور جس کی للکار ہر عہد کے ضمیر سے یہی سوال کرتی ہے: تم حق کے علمبردار ہو یا باطل کے تخت کے وفادار؟
سیرت معصومیناہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات تقصیر (معرفت میں کمی) اور غلو (مخلوق کو خدائی صفات دینا) دونوں انتہاؤں کی نفی کرتی ہیں۔ ائمہؑ نے مقصر کی تلافی و اصلاح کا دروازہ کھلا رکھا کیونکہ وہ صحیح معرفت ملتے ہی اطاعت و بندگی کی طرف لوٹ آتا ہے، مگر غلو کو سختی سے مسترد کیا کیونکہ غالی فرائض چھوڑ کر توحید کی حدیں پامال کر دیتا ہے۔ محبتِ اہلِ بیتؑ کا حقیقی معیار ذاتی دعوے نہیں بلکہ خالص توحید اور شرعی اطاعت کی پابندی ہے۔ اصل دین یہی اعتدال ہے کہ نہ ان کے مقام کو گھٹایا جائے اور نہ ربوبیتِ الٰہی کی حدود کو توڑا جائے۔
بچوں کی دنیامصنوعی ذہانت (AI) کے آنے کے بعد چند الفاظ لکھ کر چند منٹوں میں اینیمیشن تیار کی جا سکتی ہے۔ جو کام کبھی مہینوں میں مکمل ہوتا تھا، اب کم خرچ یا بسا اوقات مفت میں بھی ممکن ہو گیا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے، مگر اس کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے کہ مواد بنانے کی رفتار، اس کی جانچ اور تصدیق سے آگے نکل گئی ہے۔
متفرقاتمشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی تزویراتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے جن کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ بظاہر یہ تبدیلیاں دفاعی تعاون، سفارتی روابط اور علاقائی سلامتی کے عنوان سے سامنے آ رہی ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں طاقت کے توازن، امریکی کردار اور مسلم دنیا کی نئی ترجیحات جیسے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔
کمیونٹی اور سوسائٹیجب عزاداری علم کے بجائے رسم، فکر کے بجائے عادت اور مقصد کے بجائے ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے تو اس کا اثر بھی محدود ہو جاتا ہے۔ حقیقی عزاداری وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے ایمان کو مضبوط کرے، اس کے اخلاق کو سنوارے، اسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دے اور امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی رغبت پیدا کرے۔
علماء کے جوابآج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہر مجلس میں ایک نیا شوشہ چھوڑا اور کوئی نیا نعرہ ایجاد کیا جائے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دل میں معرفت کا ایک نیا چراغ روشن کیا جائے۔ جب معرفت زندہ ہوگی تو نہ کوئی غلو کرے گا، نہ کوئی توہین کرے گا، نہ کوئی معصوم اور غیر معصوم کے فرق کو بھولے گا، اور نہ ہی کوئی دشمن اہلِ بیت علیہم السلام کی صفوں میں شکوک و شبہات کے بیج بونے میں کامیاب ہو سکے گا۔
شخصیت سازیآج صدیوں بعد بھی مالک اشتر کا نام لیا جاتا ہے تو صرف ایک سپہ سالار یاد نہیں آتا، بلکہ وفا کا ایک عہد، شجاعت کی ایک تاریخ، اطاعت کی ایک مثال، عدل کا ایک محافظ اور علیؑ کا ایک ایسا جاں نثار سامنے آ جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی حق کے لیے وقف کر دی۔
سیرت معصومینیہ صرف ایک جوان کی شہادت نہیں تھی، یہ حسینؑ کے دل کا ٹکڑا تھا جو خاکِ کربلا پر بکھر گیا تھا۔ یہ رسولِ خداؐ کے جمال کا آخری عکس تھا جو خون میں نہا گیا تھا۔ یہ جوانی، حسن، ادب، شجاعت اور وفاداری کی مشترکہ شہادت تھی۔
تاریخامام حسینؑ نے اپنے عمل سے سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ظلم کی تائید ہے، جبکہ حق کی خاطر قربانی دینا انسانیت کی معراج ہے۔ اگر اقتدار کے سامنے جھک جانا ہی کامیابی ہوتی تو حسینؑ بیعت کر لیتے، لیکن آپؑ نے ثابت کیا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔